آصف علی نائیک
08 اکتوبر 2026
اس میں کوئی شک نہیں کہ جس ملک میں ہم رہتے ہیں اس کے قانون کا احترام ہر شہری پر لازم ہے قانون کی بالادستی ہی کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے اور ریاستی اداروں کو قانون پر عملدرآمد کرانے کا مکمل اختیار بھی حاصل ہونا چاہیے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ قانون پر عملدرآمد کا طریقہ کار کیا ہونا چاہیے؟ کیا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار کسی شہری کی عزت نفس مجروح کیے بغیر بھی اپنا فرض ادا کر سکتے ہیں؟ یقیناً جواب ہاں میں ہے
قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے لیکن قانون کا نفاذ بھی عزت اور وقار کے ساتھ ہونا چاہیے خواہ پیرا فورس ہو، فوڈ سیفٹی کی ٹیمیں ہوں میونسپل ادارے ہوں ٹیکس سے متعلق محکمے ہوں یا انفورسمنٹ سے وابستہ کوئی دوسرا ادارہ ان کے اہلکاروں کا رویہ ایسا ہونا چاہیے جس سے ریاست کا وقار بھی قائم رہے اور شہری کی عزت نفس بھی محفوظ رہے۔
ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ایک کاروباری شخص صرف ایک دکان میرج ہال ورکشاپ یا زیورات کی دکان نہیں چلا رہا ہوتا بلکہ اس کاروبار کے ساتھ کئی خاندانوں کا روزگار وابستہ ہوتا ہے ایک شہری کروڑوں روپے لگا کر میرج ہال تعمیر کرتا ہے کوئی شخص کروڑوں روپے کا سونا اپنی دکان میں رکھ کر کاروبار کرتا ہے کوئی صنعت کار اپنی جمع پونجی لگا کر فیکٹری قائم کرتا ہے اور کوئی چھوٹا دکاندار چند لاکھ روپے لگا کر اپنا روزگار شروع کرتا ہے ان سب کا مقصد بنیادی طور پر ایک ہی ہے کہ وہ باعزت طریقے سے اپنے اور اپنے خاندان کا پیٹ پال سکیں۔
مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کسی کاروبار میں قانونی خلاف ورزی سامنے آنے پر کارروائی کے بجائے اہلکار کا رویہ ہی سزا بن جائے اگر کسی ادارے کو کسی کاروبار کے خلاف کارروائی کرنا ہے تو اسے قانون کے مطابق نوٹس وضاحت جرمانہ سیل یا دیگر قانونی اختیار استعمال کرنے کا حق حاصل ہے، لیکن کسی شہری کو سرعام ذلیل کرنا تضحیک آمیز لہجہ اختیار کرنا یا اس کے کاروبار کو اس انداز میں نشانہ بنانا کہ اس کی عزت اور ساکھ متاثر ہو، کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہونا چاہیے۔
یہاں ایک اور اہم سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہر کارروائی سے پہلے شہری کو اپنی صفائی پیش کرنے کا مناسب موقع دیا جاتا ہے؟ کیا ہر افسر اور اہلکار اپنے اختیار کی حدود سے مکمل طور پر آگاہ ہے؟ کیا ایک کلرک یا نچلے درجے کا اہلکار کروڑوں روپے کی سرمایہ کاری والے کاروبار کو بند کرنے یا سیل کرنے کا اختیار استعمال کرتے وقت اس کے معاشی اثرات کو بھی سامنے رکھتا ہے؟ اگر قانون کارروائی کا اختیار دیتا ہے تو اسی قانون میں اپیل نظرثانی اور داد رسی کے راستے بھی موجود ہونے چاہئیں۔
دنیا بھر میں کاروباری ماحول کے حوالے سے یہ اصول تسلیم کیا جاتا ہے کہ ریاست کا کام کاروبار کو ختم کرنا نہیں بلکہ قانون کے دائرے میں لانا ہے پاکستان کے بارے میں ورلڈ بینک کے 2022 کے Enterprise Survey میں 1300 کاروباری اداروں کا ڈیٹا شامل تھا اس سروے میں 21.8 فیصد اداروں نے سیاسی عدم استحکام کو اپنے کاروبار کی سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا جبکہ 15.4 فیصد نے بدعنوانی 14.3 فیصد نے مالی وسائل تک رسائی اور 13.3 فیصد نے ٹیکس کی شرح کو بڑی رکاوٹ بتایا۔
یہ اعداد و شمار اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ کاروباری طبقہ پہلے ہی کئی مشکلات سے دوچار ہے ایسے ماحول میں اگر سرکاری اداروں کا غیر ضروری دباؤ، غیر مناسب رویہ یا پیچیدہ طریقہ کار بھی شامل ہو جائے تو کاروبار کرنا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔
یہ مسئلہ نیا بھی نہیں ورلڈ بینک کی ایک سابقہ تحقیق میں پاکستانی کاروباری اداروں کے سینئر انتظامی عملے کے وقت کا تقریباً 10 فیصد حکومتی ضوابط اور متعلقہ سرکاری اہلکاروں سے معاملات نمٹانے میں صرف ہونے کی نشاندہی کی گئی تھی جبکہ اسی تحقیق میں اس صورتحال کو سرخ فیتے اور کاروباری مشکلات سے جوڑا گیا تھا۔
اس کے باوجود ہمیں یہ تاثر بھی نہیں دینا چاہیے کہ ہر سرکاری اہلکار یا ہر ادارہ شہریوں کے ساتھ برا سلوک کرتا ہے۔ ہمارے سرکاری اداروں میں ہزاروں ایسے افسر اور اہلکار بھی موجود ہیں جو دیانت داری، شائستگی اور ذمہ داری کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیتے ہیں۔ مسئلہ چند افراد کے اختیار کے غلط استعمال اور ایسے انتظامی نظام کا ہے جس میں شہری کو بروقت اور مؤثر داد رسی حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
کاروباری طبقے کے حوالے سے ایک اور تشویش ناک پہلو ملک سے بڑھتی ہوئی بیرونِ ملک افرادی قوت کی روانگی ہے بیورو آف ایمیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے مطابق 1971 سے نومبر 2024 تک تقریباً 1 کروڑ 33 لاکھ 79 ہزار پاکستانی بیرونِ ملک روزگار کے لیے رجسٹر ہو چکے تھے۔ صرف 2022 میں 8 لاکھ 32 ہزار 339، 2023 میں 8 لاکھ 62 ہزار 625 جبکہ 2024 کے نومبر تک 6 لاکھ 63 ہزار 186 پاکستانی کارکن بیرونِ ملک روزگار کے لیے رجسٹر ہوئے۔
یقیناً ان تمام افراد کے بیرونِ ملک جانے کی وجہ صرف سرکاری اداروں کا رویہ قرار دینا درست نہیں ہوگا بہتر روزگار زیادہ آمدن، تعلیم، خاندانی حالات مہنگائی اور عالمی لیبر مارکیٹ بھی اس فیصلے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ جب ایک کاروباری شخص کو مسلسل غیر یقینی قوانین پیچیدہ ضابطوں غیر ضروری دفتری رکاوٹوں اور توہین آمیز رویوں کا سامنا ہو تو اس کے اندر ملک میں سرمایہ کاری جاری رکھنے کا حوصلہ ضرور متاثر ہو سکتا ہے
ریاست کو اس فرق کو سمجھنا ہوگا کہ قانون کی رٹ قائم کرنا اور شہری کو دبانا دو الگ چیزیں ہیں ایک مضبوط ریاست وہ نہیں جو ہر وقت اپنے شہری کو خوف میں رکھے بلکہ وہ ہے جہاں شہری جانتا ہو کہ قانون کی خلاف ورزی پر کارروائی ضرور ہوگی لیکن اسے انصاف، عزت اور شفاف طریقہ کار بھی ملے گا
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر انفورسمنٹ ادارے کے اہلکاروں کو صرف قانون اور کارروائی کا طریقہ ہی نہ سکھایا جائے بلکہ انہیں شہریوں سے گفتگو، اخلاقی رویے اختیارات کے استعمال اور انسانی وقار کے اصولوں کی بھی تربیت دی جائے ہر کارروائی کی ویڈیو یا تحریری ریکارڈنگ واضح نوٹس اپیل کا مؤثر طریقہ اور اہلکار کے غلط رویے کے خلاف فوری شکایت کا نظام ہونا چاہیے۔
ایک کاروبار کو قانون کی خلاف ورزی پر بند کیا جا سکتا ہے، لیکن کسی کاروباری شخص کو اس کی عزت سے محروم نہیں کیا جا سکتا
ہمیں ایسا پاکستان چاہیے جہاں قانون طاقتور کے لیے بھی وہی ہو جو عام شہری کے لیے ہے جہاں سرکاری ادارے قانون پر عمل کرائیں مگر قانون کے نام پر شہری کی تذلیل نہ کریں جہاں کاروباری شخص کو دشمن نہیں بلکہ معیشت کا حصہ سمجھا جائے اور جہاں ریاستی اختیار شہری کے خلاف نہیں بلکہ شہری کے تحفظ اور ملکی ترقی کے لیے استعمال ہو۔
آخرکار قانون کی اصل طاقت اس کی سختی میں نہیں بلکہ اس کی غیر جانب داری شفافیت اور منصفانہ نفاذ میں ہوتی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھے کاروبار ترقی کریں، روزگار کے مواقع پیدا ہوں اور نوجوان اپنے مستقبل کو بیرون ملک کے بجائے اپنے ملک میں دیکھیں تو ہمیں قانون کی بالادستی کے ساتھ ساتھ اداروں کے رویے میں بھی اصلاح لانا ہوگی
کیونکہ ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد ختم ہو جائے تو صرف کاروبار متاثر نہیں ہوتا پورا معاشرہ کمزور ہو جاتا ہے۔
