اخترصدیقی ۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انسان کی فطرت بھی عجیب تماشا ہے۔ ہم سب یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ سچی خوبصورتی دل اور روح کے اجالے میں پوشیدہ ہوتی ہے، اخلاق اور سیرت ہی انسان کا اصل زیور ہیں، اور باطن کا سجنا سنورنا ہی دائمی سکون کا ضامن ہے۔ لیکن اس حقیقت سے آگاہ ہونے کے باوجود، ہماری صبح و شام ظاہر کی نمائش، لباس کی چمک دھمک، اور صورت کی تزئین و آرائش میں بسر ہوتی ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر باطن کا سنورنا ہی اصل معراج ہے، تو پھر ہم ظاہر کے اتنے دیوانے کیوں ہیں؟
اس سوال کا سب سے سادہ اور کڑوا جواب یہ ہے کہ ظاہر فوراً نظر آتا ہے، جبکہ باطن کو دریافت کرنا پڑتا ہے۔ ہم ایک ایسی دنیا میں جی رہے ہیں جہاں فوری نتائج (Instant Gratification) کی قدر زیادہ ہے۔ ایک خوبصورت لباس، ایک مہنگی گاڑی، یا ایک چمکتا ہوا چہرہ پہلی ہی نظر میں لوگوں کو متاثر کر دیتا ہے۔ دنیا کے پاس اتنا وقت ہے اور نہ ہی وہ ظرف کہ وہ کسی کے اندر جھانک کر اس کے باطن کا تقویٰ، خلوص اور دردمندی دیکھ سکے۔ جب سستے اثر اور فوراً ملنے والی داد کا راستہ موجود ہو، تو انسان محنت طلب اور طویل راستے کو چھوڑ دیتا ہے۔
دوسری بڑی وجہ ہماری تہذیب اور سوشل میڈیا کا پھیلاؤ ہے۔ موجودہ دور “دکھاوے کی ثقافت” کا دور ہے۔ ہم نے شخصیت کو “پیکجنگ” تک محدود کر دیا ہے۔ انسٹاگرام، فیس بک اور ٹک ٹاک جیسے پلیٹ فارمز نے ہمیں یہ سکھایا ہے کہ تصاویر اور مناظر پر ملنے والے “لائیکس” ہی ہماری قدر و قیمت کا معیار ہیں۔ جب انسان کا امیج ہی اس کی شناخت بن جائے، تو وہ باطن کی صفائی پر وقت ضائع کرنے کے بجائے اپنے رخسار و لباس کو چمکانے میں لگ جاتا ہے۔ ہم دوسروں کے لیے جی رہے ہیں، اور دوسرے صرف ظاہر کو دیکھ سکتے ہیں۔
تاہم، اس تلخ حقیقت کا ایک اور پہلو بھی ہے۔ انسانی سائیکی میں یہ بات شامل ہے کہ انسان حواسِ خمسہ کے ذریعے دنیا کو سمجھتا ہے۔ بصارت (دیکھنا) انسان کی سب سے قوی حس ہے۔ جو چیز آنکھ کو بھلی لگتی ہے، دل خود بخود اس کی طرف مائل ہوتا ہے۔ ظاہر کی یہ دیوانگی دراصل انسان کی خوبصورتی اور جمال سے فطری محبت کا نتیجہ بھی ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ ہم نے جمال کی تعریف کو محض جسمانی اور مادی حدوں تک محدود کر دیا ہے، جبکہ حقیقی جمال تو نیت کے خلوص اور باطن کی پاکیزگی میں تھا۔
ظاہر کا دیوانہ ہونا کوئی گناہ نہیں، اگر وہ باطن کا عکس ہو۔ خوبصورت دیکھنا اور خوبصورت بننا انسان کی فطری خواہش ہے۔ لیکن جب ظاہر کی یہ تزئین و آرائش باطن کی ویرانی کو چھپانے کا ذریعہ بن جائے، تو یہ ایک المیہ بن جاتا ہے۔ ایک چمکتا ہوا چہرہ اور قیمتی لباس اس وقت تک بے معنی ہیں جب تک ان کے پیچھے ایک حسد سے پاک دل، جھوٹ سے پاک زبان، اور تکبر سے پاک ذہن نہ ہو۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ظاہر کا جادو چند لمحوں یا چند سالوں کا ہوتا ہے، جبکہ باطن کی خوبصورتی کا اثر ہمیشہ قائم رہتا ہے۔ اگر ہم صرف ظاہر کے دیوانے بنے رہے تو ہم اس ڈبے کی مانند ہو جائیں گے جس کی پیکجنگ تو انتہائی شاندار اور قیمتی ہے، لیکن اندر سے وہ بالکل خالی یا بدبودار ہے۔ ظاہر کو ضرور سنواریے، لیکن باطن کو ویران نہ ہونے دیجیے۔ کیونکہ آخر کار، دنیا کا میلہ ختم ہو جانے کے بعد وہی چراغ کام آئے گا جو انسان کے اپنے اندر جل رہا ہو۔
