​9 اکتوبر کا دن دنیا بھر میں “ڈاک کے عالمی دن”کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ دن اس انسانی جذبے کا اعتراف ہے جو صدیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ جڑے رہنے، اپنے احساسات بانٹنے اور خبروں کے تبادلے کے لیے بے چین رہا ہے۔ پیغام رسانی کا یہ سفر اتنا ہی پرانا ہے جتنی خود انسانی تاریخ نےکئی ایسے انقلابی مراحل طے کیے ہیں جو آج کے دور میں حیرت انگیز معلوم ہوتے ہیں۔
​زمانۂ قدیم میں جب مواصلات کے آج جیسے ذرائع کا کوئی تصور بھی نہیں تھا، تب پیغام رسانی کا سب سے پہلا اور بنیادی ذریعہ قاصد ہوا کرتے تھے۔ یہ وہ جفاکش لوگ تھے جو پیدل میلوں طویل سفر طے کر کے ایک حاکم کا پیغام دوسرے تک یا ایک قبیلے کی خبر دوسرے تک پہنچاتے تھے۔ تاریخ گواہ ہے کہ چین، مصر اور فارس جیسی عظیم الشان اور قدیم تہذیبوں میں اس مقصد کے لیے باقاعدہ تربیت یافتہ قاصد مقرر کیے جاتے تھے، جن کی پھرتی اور ایمانداری پر ریاستوں کا دار و مدار ہوتا تھا۔ وقت کے ساتھ اس نظام میں قدرے بہتری آئی اور پیدل سفر کی جگہ گھڑ سواری نے لے لی۔ گھوڑوں کی پشت پر سوار یہ قاصد طویل اور کٹھن راستوں کو عبور کرتے ہوئے خبریں پہنچایا کرتے تھے۔ اسی تسلسل میں ایک انتہائی دلچسپ موڑ اس وقت آیا جب کبوتروں کو پیغام رسانی کے لیے استعمال کیا جانے لگا۔ تربیت یافتہ کبوتر اپنے پیروں میں خط یا پیغام باندھ کر ایک جگہ سے اڑتے اور اپنے منزل مقصود پر موجود غار یا کبوتر خانے تک بحفاظت پہنچ جاتے تھے۔ قدرت کے ان بے زبان شاہکاروں نے تاریخ مواصلات میں ایک نیاباب رقم کیا۔
​​وقت نے مزید کروٹ لی تو باقاعدہ ڈاک کے نظام، خطوط اور کاغذ کا دور شروع ہوا۔ خط و کتابت کے اس روایتی نظام نے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کے بعد فیکس اور ٹیلی گرام جیسے نسبتاً جدید آلات متعارف ہوئے، جن کے ذریعے لوگ ایک شہر سے دوسرے شہر یا ایک ملک سے دوسرے ملک اپنے پیغامات بھیجنے کے قابل ہوئے۔ تاہم، اس دور میں بھی فاصلے اور وقت بہت بڑی رکاوٹ تھے۔
​اس دور کے تلخ و شیریں تجربات آج کے ڈیجیٹل دور کے انسان کو حیرت میں ڈال دیتے ہیں۔ یاد کیجئے وہ دن جب اخبارات کے لیے کالم لکھے جاتے تھے۔ اس ابتدائی دور میں ڈاک کا کوئی موثر یا تیز رفتار ذریعہ میسر نہیں تھا، اس لیے ہم جیسےکالم نگاروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ یا تو فیکس کے ذریعے تحریر بھیجی جاتی یا پھر شہر سے باہر کے اخبارات کے دفاتر کے لیے روایتی ڈاک کا سہارا لیا جاتا تھا۔ اس پورے عمل میں کم از کم دس سے پندرہ دن کا طویل عرصہ لگ جاتا تھا، تب کہیں جا کر وہ کالم اخبار کی زینت بنتا اور قارئین تک پہنچتا تھا۔ وہ انتظار کا کٹھن وقت اور ڈاکچی کی آمد پر کان لگائے بیٹھنا اس دور کا ایک لازمی حصہ تھا۔
​پھر بیسویں صدی کے اواخر اور اکیسویں صدی کے آغاز نے وقت کا رخ ہی موڑ دیا۔ ڈیجیٹل میڈیا کا دور شروع ہوا جس نے دنیا کے نقشے کو بدل کر رکھ دیا۔ اگرچہ اس سے قبل ای میل بھی پیغام رسانی کا ایک انتہائی موثر ذریعہ بن چکی تھی، جس نے خطوط کی جگہ لینی شروع کی تھی، لیکن حقیقی انقلاب اس وقت آیا جب واٹس ایپ، میسنجر اور دیگر سوشل اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے زندگی میں قدم رکھا۔ اس جدید ٹیکنالوجی نے مہینوں اور دنوں کا مسافت بھرا سفر سیکنڈوں اور منٹوں میں سمیٹ کر رکھ دیا۔ آج صورتحال یہ ہے کہ دنیا کے کسی بھی حصے میں بیٹھا انسان ایک کلک اور انگلی کے ہلکے سے لمس سے اپنے پیغامات، تصاویر اور ویڈیوز دنیا کے دوسرے کونے میں موجود اپنے پیاروں تک لمحوں میں پہنچا سکتا ہے۔ اب نہ تو ہفتوں انتظار کی سولی پر لٹکنا پڑتا ہے اور نہ ہی ڈاک کے پہنچنے کی کوئی ٹیسٹ ہوتی ہے۔
​آج ڈاک کا نظام اپنی شکلیں بدل چکا ہے۔ خواہ وہ روایتی سرکاری ڈاک خانے ہوں، نجی کوریئر سروسز کمپنیاں ہوں یا پھر تیز رفتار ڈیجیٹل میڈیا کے نیٹ ورکس پیغام رسانی کا یہ بنیادی سلسلہ آج بھی دنیا بھر میں پوری آب و تاب کے ساتھ جاری ہے۔ یہ نظام آج بھی دنیا کو آپس میں جوڑے ہوئے ہے۔
​جہاں تک 9 اکتوبر کو منائے جانے والے اس عالمی دن کا تعلق ہے، تو اس کی ابتداء جاپان کی تجویز پر ہوئی تھی،1969 کوجاپان کے دارالحکومت ٹوکیومیں ایک اجلاس میں باقاعدہ اس کےعالمی دن منانےکااعلان کیاگیا اور آہستہ آہستہ یہ پوری دنیا میں باقاعدگی سے منایا جانے لگا۔ یہ دن ہمیں ماضی کی ان تمام قربانیوں اور کوششوں کی یاد دلاتا ہے جو انسان نے فاصلوں کو سمٹنے کے لیے کیں۔ تاریخ کے اس تمام تر ارتقاء سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ذریعہ چاہے پیدل قاصد ہو، کبوتر ہو، روایتی ڈاک ہو یا پھر ڈیجیٹل میڈیا اصل مقصد انسان کو انسان سے جوڑنا ہے، اور یہ فریضہ ڈاک اور مواصلات کے نظام نے ہمیشہ بہترین انداز میں نبھایا ہے اور آئندہ بھی نبھاتا رہے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *