​قومی سیاست میں ایک بار پھر تیزی آ گئی ہے۔ اسلام آباد کا سیاسی موسم گرم ہو چکا ہے۔ جب سے مولانا فضل الرحمان حرمین شریفین کے مقدس سفر سے واپس پاکستان تشریف لائے ہیں، ان کی رہائش گاہ ایک بار پھر مرکز نگاہ بن چکی ہے اور اس سیاسی یونیورسٹی میں سیاسی طالب علموں کی آمد و رفت جاری ہے۔ مولانا کی واپسی کے ساتھ ہی سیاسی حلقوں کی نظریں بھی ایک بار پھر ان کی طرف مرکوز ہو گئی ہیں اور ہر طرف یہ سوال موجود ہے کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں مولانا کا کردار کیا ہو سکتا ہے۔
​مولانا کے عمرے سے واپسی کے دن ہی اپوزیشن لیڈر کی قیادت میں پی ٹی آئی وفد نے مولانا کے آشیانےپرحاضری دی، جس میں اپوزیشن لیڈرعلامہ راجاناصرعباس, اسدقیصر, سلمان اکرم راجہ اور دیگر رہنما شامل تھے۔ مولانا کے ساتھ سیاسی حوالے سے بات چیت ہوئی اور منعقدہ مارچ اور موجودہ سیاسی ماحول کے حوالے سے بھی گفت و شنید ہوئی۔ اس کے فوراً بعد حکومتی ٹیم، رانا ثناء اللہ,طارق فضل چوہدری اور اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق بھی مولانا کے ہاں تشریف لے گئے اور ان سے ملاقات کی۔
​اگرچه بظاہر حکومتی اور اپوزیشن دونوں کا موقف ہے کہ وہ مولانا کو عمرے کی مبارکباد دینے گئے تھے، لیکن یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، بلکہ اظہر من الشمس ہے کہ جب دو سیاسی قائدین بیٹھتے ہیں اور ملاقات ہوتی ہے تو سیاسی امور پر بات چیت اور مشاورت بھی ہوتی رہتی ہے۔ اگر ان کے اس موقف کودرست مان بھی لیا جائے کہ وہ مولانا کو عمرے کی مبارکباد دینے گئے تھے، تو مولانا تو ماشاءاللہ ہر سال دو تین دفعہ حرمین شریفین کی زیارت کے لیے تشریف لے جاتے ہیں اور پھر واپس آتے ہیں، لیکن ہر دفعہ ایسی صورتحال نظر نہیں آئی۔
​اگرچہ وطن میں سیاسی عمائدین مولانا کے یہاں آتے رہتے ہیں، لیکن موجودہ سیاسی صورتحال انتہائی پیچیدہ اور گرم ہے۔ اسی لیے سب مولانا کا انتظار کر رہے تھے کہ مولانا کب تشریف لائیں گے۔ ان کی آمد کے بعد ملاقاتوں اور آمد و رفت کا یہ سلسلہ چل نکلا ہے اورامید ہے کہ درپردہ بھی مختلف ملاقاتیں مولانا سے ہو چکی ہوں گی اور احبابِ اقتدار و اختیار نے ان سے رابطے کیے ہوں گے۔ اس صورتحال سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ موجودہ سیاسی ماحول میں مولانا کی اہمیت کس قدر ہے اور سیاسی معاملات میں ان کی طرف کس نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔
​مولانا ایک ایسے بالغ النظر، سنجیدہ اور اعتدال پسندسیاسی رہنما ہیں جنہیں ہر کوئی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ حکومتی پارٹیاں ہوں، اپوزیشن ہو یا بین الاقوامی سطح، مولانا کی اہمیت مسلم ہے اور انہیں سیاسی ماحول میں کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگرچہ عملی طور پر پارلیمانی سیاست میں ان کا حصہ اتنا نہیں آتا جتنا ان کا کردار قومی سیاست میں ہے، وجوہات کچھ بھی ہوں، لیکن پاکستانی سیاست میں مولانا کے بغیر کوئی قدم اٹھانا یا ان کی رضا کے بغیر آگے چلنا شاید بہت دشوار ہے۔
​مولانا نے اپنی چھیالیس سالہ سیاسی زندگی میں ایسے نشیب و فراز دیکھے ہیں اور ایسی سیاسی خدمات انجام دی ہیں جو کسی سے مخفی نہیں ہیں۔ ان کی سیاسی زندگی میں مختلف ادوار آئے، مختلف حکومتیں آئیں اور گئیں، سیاسی حالات بدلتے رہے، لیکن مولانا ہر دور میں سیاسی منظرنامے کا حصہ رہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی جب ملک میں سیاسی صورتحال پیچیدہ ہوتی ہے تو ان کی رہائش گاہ سیاسی سرگرمیوں کا ایک اہم مرکز بن جاتی ہے۔​مولانا کے بارے میں برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے کیا خوب کہا ہے کہ وہ بیک وقت کئ گیندیں ہوا میں اچھالنے کے ماہر ہیں۔ یہی مثال پاکستانی سیاست کے حوالے سے مولانا کے متعلق کہی جاتی ہے کہ وہ بیک وقت حکومت اور اپوزیشن دونوں کو سنبھال سکتے ہیں اور دونوں میں اپنے اعتدال کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یہی ایک سلجھے ہوئے سیاست دان کی نشانی ہوتی ہے اور ان کا طرۂ امتیاز بھی کہ وہ ملکی اور قومی مفادات کو سامنے رکھ کر اپنی جدوجہد کو جاری رکھیں۔
​موجودہ صورتحال میں مولانا کے سامنے بھی ایک مشکل مرحلہ ہے۔ اب تک تو ان کا موقف تھا کہ پی ٹی آئی کو احتجاج کا حق ملنا چاہیے، لیکن پُرتشدد صورتحال کے تناظر میں ملکی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اور دونوں جانبین کی طرف سے ان سے ملاقاتوں کے بعد اب مولانا کس حد تک صورتحال کو قابو کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اسے کس سمت میں لے جا سکتے ہیں، یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔
​اصل بات یہ ہے کہ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، احتجاج اپنی جگہ اور حکومت و اپوزیشن کے اپنے اپنے مؤقف اپنی جگہ، لیکن ملکی حالات ایسے نہ ہوں کہ سیاسی اختلاف کسی ایسی صورتحال میں تبدیل ہو جائے جس سے ملک کا وقار مجروح ہو۔ دونوں جانبین کو کسی ایک نقطے پر راضی کرنا اور کسی ایسی کشمکش کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کرنا یقیناً ایک مشکل کام ہے،
​اس حوالے سے قبل از وقت کچھ کہنا شاید مناسب نہیں۔ سیاست میں حالات لمحہ بہ لمحہ تبدیل ہوتے ہیں اور آج جو صورتحال نظر آ رہی ہے، ضروری نہیں کہ آنے والے دنوں میں بھی یہی صورتحال برقرار رہے۔ مولانا کی ملاقاتیں جاری ہیں اور سیاسی حلقے بھی ان ملاقاتوں کو اپنے اپنے انداز میں دیکھ رہے ہیں۔ تاہم امید کی جا سکتی ہے کہ حالات ان شاء اللہ معمول پر آ جائیں گے، سیاسی کشمکش میں کمی آئے گی اور ایسا راستہ نکل آئے گا جس میں ملکی وقار بھی برقرار رہے اور دونوں جانبین کو بھی کسی قابلِ قبول نقطے پر لایا جا سکے۔
​پاکستانی سیاست میں اختلافات پہلے بھی آتے رہے ہیں، حکومتیں بھی تبدیل ہوتی رہی ہیں اور سیاسی جماعتوں کے درمیان فاصلے بھی پیدا ہوتے رہے ہیں، لیکن ملک سب سے مقدم ہے۔ یہی وہ نقطہ ہے جہاں سیاسی قیادت کو اپنے اپنے مؤقف کے ساتھ ساتھ ملکی اور قومی مفادات کو بھی رکھنا ہوتا ہے۔ موجودہ صورتحال میں مولانا کی ملاقاتیں اور ان کی سیاسی سرگرمیاں اسی لیے اہمیت رکھتی ہیں کہ شاید وہ دونوں جانبین کے درمیان کسی ایسے راستے کی تلاش میں اپنا کردار ادا کر سکیں جس سے کشیدگی کم ہو اور سیاسی معاملات آگے بڑھ سکیں۔
​ مولانا آنے والے دنوں میں کیا کردار ادا کرتے ہیں، لیکن ان کی رہائش گاہ پر حکومتی اور اپوزیشن وفود کی آمد اس بات کا اظہار ضرور ہے کہ موجودہ سیاسی ماحول میں ان سے رابطہ اور مشاورت اہم سمجھی جا رہی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مولانا اس صورتحال کو کس سمت میں لے جاتے ہیں اور سیاسی کشمکش کے اس مرحلے میں ان کا کردار کہاں تک سامنے آتا ہے۔ امید یہی ہے کہ تمام سیاسی قوتیں ملکی وقار اور قومی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے ایسا راستہ اختیار کریں گی جس سے ملک میں حالات معمول پر آئیں اور سیاسی اختلاف کسی بڑے نقصان کا سبب نہ بنے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *