​بالاخر صوبہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی لگانے کی بازگشت شدت کے ساتھ سنائی دینے لگی ہے۔
​گزشتہ روز ایوان صدر میں صدر اور وزیراعظم سمیت حکومتی ارکان کا ایک انتہائی اہم اجلاس ہوا ہے جس میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی لگانے کی اتفاقی طور پر منظوری دی گئی ہے۔ اور ممکنہ طور پر آج 11 اکتوبر کو جب یہ کالم لکھا جا رہا ہے تو وفاقی کابینہ سے بھی اس کی منظوری کا امکان ہے اور 13 اکتوبر کو سینٹ اور قومی اسمبلی کے الگ الگ اجلاسات بلا کر اس سے بھی منظوری لی جائے گی اور حتمی طور پر خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی لگا دی جائے گی۔
​بظاہر ان خبروں میں بہت شدت آئی ہے اور میڈیا رپورٹس کے مطابق اس ممکنہ صورتحال میں ہونے کے باوجود وزیراعظم میاں شہباز شریف نے تین چار دفعہ مولانا فضل الرحمان سے رابطہ کر کے انہیں وزیراعظم ہاؤس مدعو کیا اور رات گئے مولانا فضل الرحمان اور وزیراعظم کی تفصیلی ملاقات بھی ہوئی جس میں اس حوالے سے بھی بات چیت ہوئی اور ممکنہ سیاسی صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے اور اس سے نبرد آزما ہونے کے لیے بھی ملاقات کے دوران غور و خوض ہوا۔ مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم سے ملاقات کے بعد پی ٹی آئی قیادت کو حکومتی عزائم اور ارادوں سے مکمل طور پر آگاہ کیا جس کے بعد بیرسٹر گوہر کی قیادت میں پی ٹی آئی وفد مولانا سے ملاقات کے لیے پہنچا اور تفصیل سے انہوں نے اس حوالے سے بھی مشاورت کی۔
​اگر دیکھا جائے تو اپوزیشن اور حکومت دونوں فریقین ڈبل ڈبل گیم کھیل رہے ہیں۔ اس وقت پی ٹی آئی بھی ایک طرف لانگ مارچ کا اعلان کر چکی ہے اور اس وقت صوابی میں ان کا پڑاؤ ہے، 13 تاریخ کو وہ بھی اسلام آباد کی طرف نکلنےکا اعلان کر رہے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ مولانا فضل الرحمان کی آڑ میں وہ مذاکرات کی میز پر بھی بیٹھے ہوئے ہیں اور کان لگائے ہوئے ہیں اور اس امید سے ہیں کہ شاید کوئی نتیجہ نکل آئے۔
​دوسری طرف حکومت بھی دوہری پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ ایک طرف مذاکرات کا عمل جاری رکھنا چاہتی ہے اور اس حوالے سے کبھی براہ راست خود پی ٹی آئی سے اور کبھی مولانا فضل الرحمان کے توسط سے ان کو بیچ میں لانے کے لیے انہیں مجبور کیا جا رہا ہے کہ کسی طریقے سے مذاکرات ہو جائیں اور معاملہ خوش اسلوبی سے نمٹ جائے۔ لیکن دوسری طرف حکومتی ایوانوں میں اس طرح کے اجلاسات اور اس میں ایمرجنسی لگانے کا فیصلہ اور وفاقی کابینہ اور دونوں ایوانوں کا اجلاس بلا کر اس سے منظوری کا فیصلہ اور حتمی طور پر ایمرجنسی لگانے کی سوچ، یہ دونوں چیزیں بیک وقت ساتھ چل رہی ہیں، حکومت کی طرف سے بھی اور اپوزیشن کی طرف سے بھی۔
​ایمرجنسی یقیناً سیاسی حوالے سے مسائل کا حل نہیں ہے کیونکہ ایمرجنسی آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت اس وقت لگائی جاتی ہے جب کوئی صوبہ آئین پر عمل درآمد نہ کرتا ہو یا انتظامی طور پر ناکام ہو جائے تو اس صورت میں ایمرجنسی لگا دی جاتی ہے اور اس صورت میں صوبے کے تمام اختیارات خود بخود یا تو وفاقی حکومت کے حوالے ہو جاتے ہیں یا گورنر کے حوالے ہو جاتے ہیں جو کہ وفاق کا نمائندہ ہوتا ہے اور صوبائی حکومت گویا کہ مکمل طور پر مفلوج ہو جاتی ہے، ختم ہو جاتی ہے۔
​سیاسی مصلحت کا تقاضا تو یہی ہے کہ اب بھی وقت ہے کہ دونوں فریقین سر جوڑ کر بیٹھ جائیں اور ملک اور قوم کے مفاد میں ایسے نتیجے پر پہنچ جائیں جس سے ملک انارکی کی طرف نہ بڑھے اور مزید خلفشار پیدا نہ ہو، کیونکہ ایمرجنسی کی صورت میں حالات میں بہتری کی امید نہیں کی جا سکتی۔ عوامی خیالات کو اس طرح دبانا بھی ملکی مفاد میں نہیں ہے۔
​اگر حکومت حقیقی طور پر مذاکرات کے لیے سنجیدہ ہے، جس کے لیے وزیراعظم نے تین چار دفعہ مولانا سے رابطہ کر کے انہیں وزیراعظم ہاؤس دعوت دی اور پھر ملاقات کی، تو اس ملاقات کا کوئی نتیجہ بھی سامنے آنا چاہیے اور اس میں سنجیدگی دکھانی چاہیے۔ دوسری طرف پی ٹی آئی کو بھی اپنے لانگ مارچ اور احتجاج کو منسوخ کر کے مولانا پر اعتبار کرنا چاہیے۔
​اگر دونوں فریقین سنجیدگی سے مکمل طور پر اپنے اختیارات مولانا کو منتقل کرتے ہیں تو اس صورت میں بہتری کی کوئی امید تو لگائی جا سکتی ہے کیونکہ وہ ان حالات سے ملک کو باہر نکالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ لیکن اگر دونوں فریقین میں سے کوئی بھی فریق سنجیدگی کے لیے تیار نہیں ہے تو اس صورتحال میں ملک کی صورتحال کی بہتری کی طرف دوبارہ لوٹ آنا شاید مشکل ہو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *