​مشرقِ وسطیٰ ایک ایسی خطرناک تاریخی اور دوہری چال میں پھنس چکا ہے جہاں سے نکلنے کے تمام راستے دھویں اور بارود کی دھند میں گم ہو چکے ہیں میڈیا رپورٹس کےمطابق اب جنگ کے شعلے صرف دور دراز کے محاذوں تک محدود نہیں رہے، بلکہ خلیج کے قلب اور معاشی حب مانے جانے والے شہروں کو براہِ راست اپنی لپیٹ میں لے چکے ہیں۔ ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہونے والے حالیہ تباہ کن ڈرون اور میزائل حملوں نے نہ صرف خطے کی شہری ہوابازی کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ یہ اعلان بھی کر دیا ہے کہ روایتی دفاعی ڈھانچے اب ماضی کا قصہ بن چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو 17 اکتوبر تک کے لیے مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے، جبکہ سعودی عرب کے دیگر اہم ترین ہوائی اڈوں جیسے کہ شاہ فہد ایئرپورٹ اور جدہ ایئرپورٹ پر بھی فضائی آپریشن شدید متاثر ہوا ہے اور متعدد پروازیں معطل کر دی گئی ہیں۔ اس بھیانک بحران کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر سے سعودی دارالحکومت ریاض کے لیے جانے والی 34 سے زائد پروازیں یکسر منسوخ کر دی گئی ہیں، جس سے بین الاقوامی تجارت اور مسافروں کی آمدورفت کا نظام درہم برہم ہو چکا ہے۔ شاہ خالد ایئرپورٹ پر ہونے والے ایک حملے کے دوران ایک پاکستانی شہری کا جاں بحق ہونا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ اس جنگ کی زد میں اب عام بے گناہ شہری بھی آ رہے ہیں۔
​اس پوری صورتحال میں سب سے بڑا اور پیچیدہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یمن کے کچے، ناہموار اور پس ماندہ پہاڑی سلسلوں میں محصور حوثی جنگجو آخر کس طرح اتنی تکنیکی برتری کے ساتھ سینکڑوں میل دور سعودی دارالحکومت کے فولادی سکیورٹی حصار کو توڑ کر مہلک حملے کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں بظاہر یہ جنگ یمن کی مقامی عسکریت پسندی یا ایک محدود زمینی تنازع دکھائی دیتی ہے، لیکن عسکری اور دفاعی تجزیہ کاروں کے نزدیک اس سطح کی ہائی ٹیک ڈرون ٹیکنالوجی، گائیڈڈ میزائل سسٹمز اور سیٹلائٹ گائیڈنس کی فراہمی کسی داخلی قوت کی بساط کا نتیجہ نہیں ہو سکتی۔ اس کے تار بلاشبہ خطے کی پراکسی وار اور عالمی طاقتوں کے باہمی رسہ کشی کے کھیل سے جڑے ہیں۔
​ایک طرف جہاں تہران کی عسکری اور فکری سرپرستی اس کا ظاہری محرک بنی ہوئی ہے، وہیں عالمی بساط پر امریکہ، چین اور روس کی مخفی اور مفاد پرست حکمتِ عملیوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ روس، جو یوکرین جنگ اور مغربی پابندیوں کے بعد عالمی سیاست میں اپنے حریفوں کے لیے مشرقِ وسطیٰ میں نئے دردِ سر اور محاذ کھولنے کی تاک میں رہتا ہے، اور چین، جو اس خطے میں اپنے تجارتی راہداریوں اور توانائی کے محفوظ سپلائی چینز کے تحفظ کے لیے توازن کی خطرناک سفارت کاری کر رہا ہے، اگرچہ بظاہر میدانِ جنگ سے دور دکھائی دیتے ہیں لیکن ان کی خاموش رضامندی اور سفارتی مصلحتیں اس کھیل میں مدد فراہم کر رہی ہیں۔ دوسری جانب، مغربی اتحادیوں بالخصوص امریکہ کی دوہری پالیسیاں اور خلیجی ریاستوں کا مغربی عسکری سازوسامان پر ضرورت سے زیادہ انحصار وہ بنیادی زہر ہے جس نے خلیج کے سکیورٹی کو اندر سے کھوکھلا کر دیا ہے۔
​دوسرا انتہائی تشویشناک اور ہلا دینے والا پہلو یہ ہے کہ اربوں ڈالر کی خطیر رقم خرچ کر کے خریدا جانے والا جدید ترین امریکی فضائی دفاعی نظام جس میں پیٹریاٹ اور تھاڈ میزائل شیلڈز سرفہرست حوثیوں کے بھیجے گئے کم قیمت اور ارزاں صماد ڈرونز اور قدس کروز میزائلوں کے سیلاب کے سامنے اس قدر بے بس اور ناکارہ کیوں ثابت ہو رہا ہے حوثیوں نے ایک انتہائی چالاک اور نپی تلی عسکری حکمتِ عملی کے تحت کم لاگت کے ہتھیاروں کی شدید بوچھاڑ کر کے سعودی عسکری نظام کے مہنگے ترین اور محدود تعداد میں موجود انٹرسیپٹرز کے ذخائر کو تیزی سے نچوڑ ڈالا ہے۔ نتیجے کے طور پر، بین الاقوامی خبر رساں اداروں اور امریکی اخبارات میں آنے والی رپورٹس کے مطابق اس وقت سعودی عرب کو فضائی دفاعی میزائل انٹرسیپٹرز کی شدید ترین قلت کا سامنا ہے۔ ملک کے ہوائی اڈے، آئل ریفائنریز اور توانائی کا بنیادی ڈھانچہ تیزی سے غیر محفوظ ہوتا جا رہا ہے کیونکہ باہر سے مزید فضائی دفاعی نظام کا حصول اتنا آسان نہیں رہا۔
​اس نازک گھڑی میں خطے کے “مکہ دفاعی اتحاد” اور مشترکہ سلامتی کے تمام تر پلیٹ فارمز کی کارکردگی اور افادیت پر بہت بڑا سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ مسلم دنیا اور عرب دنیا کے بڑے ممالک کے مابین دفاعی تعاون، باہمی تحفظ اور مشترکہ سکیورٹی کے بلند و بانگ دعوے کاغذی بیانات اور ہنگامی کانفرنسوں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ پاکستان اور دیگر برادر ممالک کی جانب سے اخلاقی اور محدود تکنیکی حمایت کے وعدوں کے باوجود، عملی میدان میں کسی مربوط، پیشگی اور فیصلہ کن مشترکہ عسکری کارروائی کا شدید فقدان نظر آتا ہے، جس کی وجہ سے یہ دفاعی اتحاد ان حملوں کو روکنے میں بظاہر مکمل طور پر ناکام دکھائی دیتا ہے۔
​اس پوری جنگی رسہ کشی کے دوران زمینی حقائق کا دوسرا رخ بھی قابلِ غور ہے۔ ایک جانب یمنی فوج کا یہ پرزور دعویٰ سامنے آیا ہے کہ “آپریشن فجر الیمن” کے تحت حوثی ملیشیا کے ایک ہزار سے زائد تقریباً 1732ٹھکانوں کو انتہائی مؤثر انداز میں نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے نتیجے میں 900 سے زائد حوثی جنگجو ہلاک اور قریباً 300 فوجی گاڑیاں اور عسکری آلات مکمل طور پر تباہ و برباد کر دیے گئے ہیں۔ یمنی فوج کے مطابق یہ کارروائیاں مارب کے جنوب مغربی محاذوں پر حوثی ملیشیا کی بیرکوں اور گوداموں کو ملبے کا ڈھیر بنانے میں کامیاب رہی ہیں۔
​تاہم، دوسری طرف سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر اتنے بڑے پیمانے پر عسکری کامیابیاں حاصل بھی ہو رہی ہیں، تب بھی حوثیوں کی جانب سے سعودی دارالحکومت اور حساس تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے رکنے کا نام کیوں نہیں لے رہے اس کا سیدھا سا جواب یہ ہے کہ یہ جنگ اب صرف عسکری چوکیوں یا میدانی لڑائی تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ ایک ایسی ناسور بن چکی ہے جس نے معیشت، توانائی اور عام انسانوں کی زندگی کو یرغمال بنا لیا ہے۔ ہوائی اڈوں کی بندش، پروازوں کی معطلی، اور دفاعی میزائلوں کے ذخائر میں کمی اس امر کی دلیل ہے کہ اگر اس پراکسی وار کو فوری طور پر بند نہ کیا گیا، تو یہ خطہ ایک ایسی اقتصادی اور انسانی تباہی کی طرف بڑھ جائے گا جس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، تیل کی سپلائی لائنز اور بین الاقوامی منڈیوں کو اپنی لپیٹ میں لے کر دنیا کو ایک اور بڑے بحران سے دوچار کر دیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *