اخترصدیقی ۔۔۔۔۔۔۔۔
سپریم کورٹ آف پاکستان کا حالیہ فیصلہ نہ صرف ہماری عدالتی تاریخ کا ایک درخشاں باب ہے بلکہ ہمارے مردانہ بالادستی پر مبنی معاشرے کے لیے ایک زوردار تازیانہ بھی ہے۔ جسٹس ہاشم خان کاکڑ کا تحریر کردہ یہ تاریخی فیصلہ دراصل ان ہزاروں بے آواز عورتوں کی آواز بن کر سامنے آیا ہے جو صدیوں سے رسم و رواج اور مردانہ انا کی قربان گاہوں پر بالواسطہ یا بلاواسطہ ذبح ہو رہی ہیں۔
کیس کا پس منظر یہ ہے کہ مجرم محمد کامران نے ایک خاتون، میمونہ شاہین، کو محض اس جرم کی پاداش میں قتل کر دیا کہ اس نے اور اس کے گھر والوں نے شادی کے رشتے سے انکار کر دیا تھا۔ مجرم نے 14 سال جیل میں کاٹنے کے بعد طویل حبس اور “توقعِ عمر” کے اصول کی بنیاد پر اپنی سزائے موت کو عمر قید یا نرمی میں بدلنے کے لیے نظرثانی درخواست دائر کی تھی۔ لیکن اعلیٰ ترین عدالت نے نہ صرف اس درخواست کو مکمل طور پر مسترد کر دیا بلکہ سزائے موت کو برقرار رکھتے ہوئے ایک ایسا دوٹوک قانونی و اخلاقی پیغام دیا ہے جس کی گونج ان تمام تاریک سوچ کے حامل گھروں میں سنائی دینی چاہیے جہاں عورت کو انسان کے بجائے ایک “شے” سمجھا جاتا ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح طور پر قرار دیا کہ شادی کوئی زبردستی کا معاہدہ نہیں بلکہ دو افراد کی آزادانہ رضا مندی کا نام ہے۔ اسلام میں نکاح کے لیے عورت کی مرضی اور رضا مندی بنیادی شرط ہے۔ جب عورت کو ‘نہ’ کہنے کا حق اسلام اور آئین دونوں دیتے ہیں، تو پھر کسی مرد کو یہ حق کس نے دیا کہ وہ اس ‘انکار’ کو اپنی انا کا مسئلہ بنا کر اس کی جان ہی لے لے؟ فیصلے میں دوٹوک الفاظ میں کہا گیا کہ شادی سے انکار کو قتل کا جواز ہرگز نہیں بنایا جا سکتا اور نہ ہی اسے سزا میں تخفیف کے لیے ‘نرمی کا پہلو’ مانا جا سکتا ہے۔
فیصلے کی خوبصورتی اور وسعتِ نظر کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے نہ صرف اسلامی تعلیمات کا حوالہ دیا بلکہ ممتاز انتھروپولوجسٹ گیل روبن کے مشہور نظریے “The Traffic in Women” کا ذکر بھی کیا۔ تاریخی طور پر عورت کو مردوں کے درمیان لین دین کی ایک شے یا “کموڈیٹی” کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ سپریم کورٹ نے اس سوچ پر کاری ضرب لگاتے ہوئے کہا کہ عورت کوئی شے یا ملکیت نہیں ہے جسے زبردستی حاصل کیا جا سکے یا جس کا تبادلہ کیا جا سکے۔
عدالتِ عظمیٰ نے پختونخوا کے ‘غاگ’، جرگوں کے تحت ہونے والی ‘سوارہ’ یا ‘ونی’، ‘وٹہ سٹہ’ اور دیگر علاقوں کی ‘آلا کاچو’ اور ‘ٹیلیفا’ جیسے جبری شادی کے فرسودہ اور ظالمانہ رواجوں کی بھی شدید مذمت کی۔ عدالت نے یہ اہم حقیقت اجاگر کی کہ عورت کو جائیداد یا تنازعات کا حل سمجھنے کی یہ ذہنیت کسی ایک سرحد یا خطے تک محدود نہیں بلکہ پورے معاشرے میں پھیلی ہوئی مردانہ بالادستی کی ایک بیمار عکاس ہے۔
قانونی نقطہ نظر سے بھی یہ فیصلہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ عدالت نے وضاحت کی کہ عمر قید اور سزائے موت کے قیدی قانونی طور پر ایک کیٹیگری میں نہیں آتے اور محض 14 یا 15 سال قید کاٹ لینے سے سزائے موت کی سزا میں کمی یا تبدیلی کا کوئی خودکار حق حاصل نہیں ہوتا۔ “توقعِ عمر” کے اصول کے تحت رعایت کے لیے کم از کم 25 سال کی قید، خاص عذر اور جرم کا سنگین نوعیت کا نہ ہونا شرط ہے۔ جرم اگر زبردستی، مردانہ انا اور گھناؤنی ذہنیت پر مبنی ہو تو اس میں رحم کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
یہ فیصلہ محض ایک نظرثانی درخواست کا رد ہونا نہیں ہے، بلکہ یہ ہماری ریاست اور قانون کا اس عزم کا اعادہ ہے کہ عورت کی آزادانہ مرضی، اس کی عزت اور اس کی زندگی کی حفاظت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔ ہمیں اپنے سماجی رویوں میں تبدیلی لانی ہوگی اور جرگوں و پنچایتوں کے ان متوازی نظاموں کو جڑ سے اکھاڑنا ہوگا جو عورتوں کو بھینٹ چڑھاتے ہیں۔ ڈرائنگ رومز سے لے کر عدالتوں تک یہ پیغام عام ہونا چاہیے کہ عورت کی ‘نہ’ کا مطلب ‘نہ’ ہے—اور اس ‘نہ’ پر گولی چلانے والے کا مقدر صرف اور صرف تختہ دار ہی ہوگا۔ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ ان تمام مظلوم خواتین کے لیے امید کی ایک کرن ہے جو خوف، جبر اور رسم و رواج کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہیں۔ کاش ہمارا معاشرہ بھی اس فیصلے کی روح کو سمجھے اور عورت کو ایک جیتا جاگتا، آزاد اور بااختیار انسان تسلیم کرے
