اخترصدیقی ۔۔۔۔۔
وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی اپیل پر جاری ہونے والا تحریری فیصلہ نہ صرف ملک کے عدالتی نظام میں وقت کی پابندی اور طریقہ کار کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے بلکہ یہ ہماری اعلیٰ عدلیہ کے قانونی حکمتِ عملی اور سوچ کی بھی عکاسی کر تا ہے۔ چیف جسٹس امین الدین خان کا تحریر کردہ تین صفحات پر مشتمل یہ فیصلہ بظاہر ایک التوا اور تاخیر پر مبنی اپیل کے اختتام کی کہانی سناتا ہے، لیکن اس کی تہہ میں عدالتی عمل کو تیز تر بنانے اور وقت کے ضیاع کو روکنے کا ایک واضح پیغام چھپا ہوا ہے۔
اس کیس کا سب سے اہم اور بنیادی پہلو اپیل کی دائرگی میں ہونے والی 61 دن کی تاخیر تھی۔ درخواست گزار کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ اڈیالہ جیل میں قید کے باعث یہ تاخیر رونما ہوئی، جسے عدالت نے قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اور انسانی بنیادوں پر درگزر کرتے ہوئے نظر انداز تو کر دیا، لیکن کیس کے بنیادی نکات پر عدالت کا موقف انتہائی واضح رہا۔ وکلاء کی جانب سے ماضی کے معروف فیصلوں، بالخصوص میاں نواز شریف کیس کے حوالوں کے ذریعے سزا معطلی کا جواز پیش کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم اعلیٰ عدلیہ نے متوازی جائزوں کے بجائے اصل اور مرکزی اپیل پر توجہ مرکوز کرنے کو ترجیح دی۔
اس فیصلے میں سب سے نمایاں حکمتِ عملی یہ نظر آتی ہے کہ وفاقی آئینی عدالت نے اس مرحلے پر خود مداخلت کرنے کے بجائے معاملے کی حساسیت اور اصل روح کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے سپرد رکھا۔ عدالتِ عظمیٰ کا یہ موقف کہ ‘سزا معطلی کی متوازی کارروائیوں کے بجائے مرکزی اپیل کے حتمی فیصلے کو جلد یقینی بنایا جائے’ ایک نہایت صائب اور دور اندیشانہ نقطہ نظر ہے۔ جب اسلام آباد ہائی کورٹ میں مرکزی اپیل پہلے سے مقرر ہو چکی ہو تو سزا معطلی کی الگ سے طویل قانونی جنگ لڑنا نہ صرف عدالتی وقت کا ضیاع ہے بلکہ اس سے اصل مقدمہ بھی پسِ پشت چلا جاتا ہے۔
عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں جس انداز سے اسلام آباد ہائی کورٹ سے امید ظاہر کی ہے کہ وہ مرکزی اپیل پر جلد سے جلد فیصلہ سنائے گی اور ‘غیر ضروری التوا کی حوصلہ شکنی’ کرے گی، وہ ہمارے پورے عدالتی ڈھانچے کے لیے ایک تازیانہ ہے۔ پاکستان میں قانونی چارہ جوئی کے دوران طویل التوا اور تاریخ پہ تاریخ کا کلچر انصاف کی فراہمی میں سب سے بڑی رکاوٹ رہا ہے۔ اس فیصلے کے ذریعے اعلیٰ عدلیہ نے نچلی سطح کی عدالتوں کو یہ واضح ہدایت دے دی ہے کہ اہم نوعیت کے مقدمات کو لٹکانے کے بجائے منطقی انجام تک پہنچانا ہی انصاف کا حقیقی تقاضا ہے۔
مجموعی طور پر یہ تحریری فیصلہ سیاسی اثرات سے قطع نظر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ قانونی طریقہ کار کی پاسداری اور فوری انصاف کی فراہمی ہی آئین کی حکمرانی کو ممکن بنا سکتی ہے۔ اب تمام تر نظریں اسلام آباد ہائی کورٹ پر ٹکی ہیں کہ وہ اس اہم مقدمے کو کس حد تک بلا التوا اور شفافیت کے ساتھ جلد از جلد حتمی نتیجے تک پہنچاتی ہے۔
