آذربائیجان وسطی ایشیا کی سرحد پر واقع ایک ایسا ملک ہے جسے طویل عرصے سے خطے میں ایک پرامن، ترقی پسند اور سیکولر ریاست کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہےآج ایک بار پھر ایک اندرونی بحران کی زد میں ہے۔ ملک میں حال ہی میں تعلیمی اداروں اور اسکولوں میں حجاب پہننے پر عائد کی جانے والی نئی پابندیوں اور سختیوں نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ کیا آئینی سیکولرازم کا مطلب شہریوں کے بنیادی مذہبی حقوق پر قدغن لگانا ہےیہ تنازع نہ صرف تعلیمی انتظامیہ اور طالبات کے درمیان ایک کشمکش کی صورت اختیار کر چکا ہے، بلکہ اس نے ریاست کی بنیادی آئینی روح پر بھی کئی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
اگر ہم آبادیاتی تناظر اور معاشرتی ساخت کا جائزہ لیں تو آذربائیجان ایک واضح مسلم اکثریتی ملک ہے۔ یہاں کی کل آبادی کا تقریباً 95 فیصد سے زائد حصہ مسلمانوں پر مشتمل ہے، جن میں اکثریت شیعہ مکتب فکر سے تعلق رکھتی ہے جبکہ ایک نمایاں اور قابلِ ذکر تعداد سنی مسلمانوں کی بھی ہے۔ اس قدر بھاری مسلم اکثریت کے باوجود، آئینی اور قانونی نظام کے اعتبار سے آذربائیجان ایک سیکولر جمہوریہ ہے۔ 12 نومبر 1995ء کو ایک عام ریفرنڈم کے ذریعے منظور ہونے والا ملک کا موجودہ آئین واضح طور پر یہ طے کرتا ہے کہ ریاست اور مذہب کا دائرہ کار بالکل جداگانہ ہوگا۔ آئین کے آرٹیکل 7 کے مطابق آذربائیجان ایک سیکولر ریاست ہے جہاں حکومت مذہبی امور میں مداخلت نہیں کرتی اور نہ ہی کسی مذہب کو سرکاری حیثیت حاصل ہے۔
تاہم، اس معاملے کا سب سے اہم اور حساس پہلو آذربائیجان کے آئین کا آرٹیکل 48 ہے۔ یہ آرٹیکل ہر شہری کو بلا تفریق و امتیاز مذہبی آزادی، اپنے عقیدے پر عمل کرنے، اور اپنے مذہبی احکامات کے مطابق زندگی گزارنے کا مکمل، قانونی اور بنیادی حق فراہم کرتا ہے۔ آئین کی یہ شق شہریوں کو یہ ضمانت دیتی ہے کہ ریاست نہ صرف تمام مذاہب کو قانون کی نظر میں برابر سمجھے گی بلکہ کسی بھی فرد کو اس کے عقیدے اور مذہبی شعائر پر عمل کرنے سے نہیں روکے گی۔
لیکن اس تمام تر آئینی ضمانتوں کے باوجود، گزشتہ کچھ عرصے کے دوران پیدا ہونے والے حالات ایک بالکل مختلف اور تشویشناک تصویر پیش کرتے ہیں۔ تعلیمی حکام نے سرکاری اسکولوں میں لباس کے قواعد کو سخت کرتے ہوئے طالبات اورمعلمات کے حجاب کو سیکولر نظامِ تعلیم سے متصادم قرار دیا اور اس پر مکمل پابندی عائد کر دی۔ اس فیصلے کے نفاذ کے بعد باکو اور دیگر شہروں کے اسکولوں میں حجاب پہننے والی طالبات کو داخلے سے روکا جانے لگا، جس نے ایک نئے احتجاجی سلسلے کو جنم دیا۔
بنیادی آئینی اصولوں اور حقوقِ انسانی کی روشنی میں دیکھا جائے تو اسکولوں میں حجاب پر پابندی کا یہ فیصلہ آذربائیجان کے اپنے آئین کے آرٹیکل 48 کی صریح اور کھلی خلاف ورزی ہے۔ جب آئین خود ہر شہری کو عقیدے اور عمل کی مکمل آزادی دیتا ہے، تو ایک انتظامی حکم نامے یا یونیفارم کی پالیسی کے ذریعے مسلم طالبات کو ان کے لازمی مذہبی اور اسلامی حقوق سے محروم کر دینا آئینی روح کے منافی ہے۔ اسلام میں حجاب روایتی یا ثقافتی لباس نہیں بلکہ ایک مسلم خاتون کا ایک اہم مذہبی فریضہ اور شناخت ہے۔ طالبات کو صرف ان کی دینی شناخت اور حجاب کی وجہ سے تعلیم کے بنیادی حق سے محروم کرنا یا انہیں یہ انتخاب کرنے پر مجبور کرنا کہ وہ یا تو تعلیم چھوڑیں یا اپنا حجاب شہریوں کے بنیادی حقوق پر براہ راست حملہ اور صریح ناانصافی کے مترادف ہے۔
اس امتیازی فیصلے کے خلاف متاثرہ طالبات اور ان کے ساتھ ہمدردی رکھنے والے تعلیمی حلقوں کا ردعمل شدید اور فطری ہے طالبات کی ایک بڑی تعداد نے ان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے کلاسوں کا بائیکاٹ شروع کر دیا، جبکہ احتجاج اور ناانصافی کی ویڈیوز سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر وائرل ہونے لگی ہیں۔ تعلیمی اداروں کے دروازوں پر ہونے والے ان مظاہروں نے عوام اور حکام کو آمنے سامنے لا کھڑا کیاہےجبکہ دوسری طرف
حکومتی اور انتظامی مشینری نے اس پرامن احتجاج کو ڈائیلاگ کے ذریعے حل کرنے کے بجائے سختی کا راستہ اپنایاہے حکام کی جانب سے اب تک حجاب پر پابندی کے خلاف آواز اٹھانے والے 37 طالبات کی گرفتاری کا باضابطہ اعلان کیا جا چکا ہے۔ باکو کے محکمہ تعلیم نے تمام اسکولوں میں لباس سے متعلق قوانین پر سخت عمل درآمد کا جائزہ لینے کے لیے تفتیشی ٹیمیں قائم کی ہیں، جبکہ وزارت داخلہ کی جانب سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ گرفتار افراد نے اسکول کے عملے سے بدسلوکی کی، املاک کو نقصان پہنچایا اور تعلیمی ماحول کو خراب کیا۔ تاہم، تجزیہ کاروں اور حقوقِ انسانی کے کارکنان کا کہنا ہے کہ حکومتی کارروائی کا مقصد دراصل مذہبی حلقوں کی آواز کو دبانا ہے۔
آذربائیجان کے تعلیمی اداروں میں حجاب کا یہ تنازع کوئی نیا واقعہ نہیں ہے۔ اگر ہم ماضی کودیکھیں تو سنہ 2010 سے 2012 کے دوران بھی ملک بھر میں اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں حجاب پر پابندی کے خلاف وسیع پیمانے پر احتجاجی تحاریک چلی تھیں اور درجنوں افراد کو جیلوں میں ڈالا گیا تھا۔ اس وقت بھی ریاستی سختی کے باعث کچھ عرصے کے لیے یہ معاملہ دب گیا تھا اور بعد کے سالوں میں انتظامیہ کی جانب سے کچھ نرمی دیکھنے کو ملی تھی، لیکن اب 2010 کی طرز پر دوبارہ سخت نفاذ نے اس تنازع کو ایک بار پھر تعلیمی اداروں کی دہلیز پر لا کھڑا کیا ہے۔
آذربائیجان کی حکومت کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ سیکولرازم کے تحفظ کے نام پر اپنے ہی آئین کی خلاف ورزی اور مسلم اکثریت کو ان کے بنیادی اسلامی حقوق سے محروم کرنا کسی صورت بھی پائیدار حل نہیں ہو سکتا۔ سیکولرازم کا مقصد ریاست کا مذہب سے غیر جانبدار رہنا ہوتا ہے، نہ کہ شہریوں کی مذہبی آزادی کو سلب کرنا۔ اگر حکومت آئین کے آرٹیکل 48 کی پاسداری کرتے ہوئے طالبات کے مذہبی اور تعلیمی حقوق کا احترام نہیں کرتی، تو یہ کشمکش نہ صرف تعلیمی نظام کو متاثر کرے گی بلکہ معاشرے میں بے چینی اور بے اعتمادی کا باعث بنے گی۔ وقت کی اہم ضرورت یہ ہے کہ حکومت آئین کی حقیقی روح پر عمل کرتے ہوئے اس غیر آئینی پابندی کو واپس لے اور ہر شہری کو اس کے آئینی و دینی حقوق کی مکمل فراہمی یقینی بنائے۔
