کمرہ عدالت سے۔ ۔۔۔۔تحریراخترصدیقی
۔۔۔۔۔۔

حق مہر ۔نکاح نامہ کے خالی کالمز اورسپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
​پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے حق مہر اور نکاح نامے کی قانونی و شرعی حیثیت پر ایک ایسا تاریخ ساز فیصلہ صادر کیا ہے، جو آنے والی دہائیوں تک ہمارے خاندانی نظام اور قانونی ڈھانچے کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوگا۔ 8 جولائی 2026 کو جسٹس شاہد وحید کا تحریر کردہ 48 صفحات پر مشتمل یہ فیصلہ صرف ایک قانونی مقدمے کا جواب نہیں، بلکہ اسلامی فقہ، آئینی اقدار اور مسلم خاندانی قوانین کا وہ سنگم ہے جہاں سے معاشرتی انصاف کا ایک نیا باب شروع ہوتا ہے۔
​ہمارے سماج میں طویل عرصے سے یہ تلخ حقیقت چلی آ رہی ہے کہ نکاح کے وقت حقوق و فرائض کے اندراج کو محض ایک رسم سمجھ کر نمٹا دیا جاتا ہے۔ لیکن سپریم کورٹ نے اس فیصلے میں ایک ایسی بنیادی حقیقت پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی ہے جس کی گونج ہر گھر میں سنائی دینی چاہیے کہ شوہر کا پہلا فرض حق مہر کی ادائیگی ہے اور عدالت کا پہلا فرض اس کی وصولی ہے۔ حق مہر میں بیوی کی عزت ہے اور گھر میں قوم کی مضبوطی ہے۔
​اس فیصلے کی سب سے بڑی خوبصورتی یہ ہے کہ فاضل عدالت نے دو افراد کے نجی تنازع سے بالاتر ہو کر پورے مسلم خاندانی نظام کے تحفظ کو اپنا موضوع بنایا۔ اکثر اوقات عدالتوں میں یہ ابہام رہتا تھا کہ آیا نکاح نامے کے کسی کالم میں لفظی غلطی کی وجہ سے ایک عورت اپنے بنیادی شرعی حق سے محروم ہو جائے یا نہیں۔ عدالت نے اس ابہام کو ختم کرنے کے لیے چھ اہم ترین قانونی سوالات مرتب کیے ہیں اور یہ واضح کیا ہے کہ نکاح نامہ محض ایک کاغذی ٹکڑا یا نجی معاہدہ نہیں، بلکہ اسلامی قانون کے تحت تحفظِ حقوق کی ایک مقدس دستاویز ہے۔
​ماضی میں نکاح رجسٹرارز کی غفلت اور لاپرواہی کی وجہ سے ہزاروں خاندان عدالتوں کے چکر کاٹنے پر مجبور ہوتے تھے۔ کالم خالی چھوڑ دینا، غیر منقولہ جائیداد کی تفصیلات ادھوری لکھنا، یا فریقین کی مرضی کے بغیر قیاس آرائی سے اندراج کرنا وہ سنگین غلطیاں تھیں جنہوں نے بے شمار خواتین کی زندگیوں کو داؤ پر لگا دیا۔ سپریم کورٹ نے اس ناانصافی کے سدِ باب کے لیے سخت ترین ہدایات جاری کی ہیں۔
​اب فیصلے کی رو سے رجسٹرار کے لیے لازمی ہوگا کہ وہ تمام کالم مکمل اور احتیاط سے پر کرے اور کوئی کالم خالی نہ چھوڑے۔ حق مہر (کالم 13 تا 16) کی صورت میں، خواہ وہ نقد رقم ہو یا جائیداد، اس کی مکمل تفصیل، پیمائش، مقام اور مالیت کا واضح اندراج کیا جائے۔ دستخط یا انگوٹھا لگوانے سے پہلے نکاح رجسٹرار فریقین کو تمام شرائط پڑھ کر سنائے اور سمجھائے۔ اس کے ساتھ ہی یونین کونسلز کے چیئرمین اور سیکرٹریز کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ نکاح رجسٹرارز کی تربیت کا اہتمام کریں اور غفلت برتنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کریں۔
​یہ فیصلہ دراصل اس بات کا اعتراف ہے کہ جب تک ریاست کا قانون اور اس پر عمل درآمد کرنے والے ادارے کسی عورت کے حق مہر اور شرعی حقوق کا تحفظ نہیں کریں گے، تب تک ایک مضبوط، بااعتماد اور پائیدار معاشرے کا قیام ممکن نہیں۔ یہ فیصلہ خاندانی تنازعات میں عدالتوں کے متضاد فیصلوں کا خاتمہ کرے گا اور قانون کی یکسانیت کو یقینی بنائے گا۔
​عدالت عظمیٰ نے اپنا فرض ادا کر دیا ہے۔ اب باری ہماری انتظامیہ، یونین کونسلز اور سب سے بڑھ کر خود عوام کی ہے کہ وہ نکاح جیسے مقدس بندھن کو جاہلانہ رسوم کی نذر کرنے کے بجائے، قانون اور شریعت کی روح کے مطابق سنبھالیں۔ حق مہر عورت کی خیرات نہیں، اس کا شرعی و قانونی حق ہے—اور اس حق کا تحفظ ہی دراصل قوم کے مستقبل کا تحفظ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *