صبر کا دامن
تحریر
طاہر ساون
زندگی انسان کو مختلف امتحانات سے گزارتی ہے۔ کبھی حالات سازگار ہوتے ہیں تو کبھی آزمائشوں کے بادل ہر طرف چھا جاتے ہیں۔ ایسے مواقع پر اکثر انسان گھبراہٹ، مایوسی اور بےچینی کا شکار ہو جاتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہی وہ لمحے ہوتے ہیں جہاں صبر انسان کا سب سے بڑا سہارا بنتا ہے۔ صبر محض برداشت کا نام نہیں بلکہ یہ ایک مضبوط یقین، اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسا اور اپنے دل کو مضبوط رکھنے کا عمل ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں بارہا صبر کرنے والوں کے لیے خوشخبریاں سنائی ہیں۔ صبر کرنے والے نہ صرف اللہ کے قریب ہوتے ہیں بلکہ ان کے لیے آسانیاں بھی پیدا کر دی جاتی ہیں۔ جب انسان مشکل حالات میں صبر کا دامن تھام لیتا ہے تو وہ درحقیقت اپنے رب پر اعتماد کا اظہار کر رہا ہوتا ہے۔ یہ یقین کہ “اللہ بہتر جانتا ہے” انسان کے دل کو سکون دیتا ہے اور اسے ہر مشکل کا مقابلہ کرنے کی ہمت بخشتا ہے۔
رزق کے معاملے میں بھی انسان کو اکثر پریشانی لاحق رہتی ہے۔ آج کے دور میں معاشی دباؤ، مہنگائی اور بےروزگاری نے بہت سے لوگوں کو فکرمند کر رکھا ہے۔ لوگ دن رات محنت کرتے ہیں، بہتر مواقع کی تلاش میں رہتے ہیں، لیکن کبھی کبھی نتائج توقع کے مطابق نہیں ملتے۔ ایسے میں انسان کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ رزق کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے خود کیا ہے۔ وہی رب ہے جو زمین و آسمان کا مالک ہے اور وہی اپنے بندوں کے لیے ایسے دروازے کھول دیتا ہے جن کا انسان تصور بھی نہیں کر سکتا۔
ہم اکثر اپنے محدود علم اور سوچ کی بنیاد پر پریشان ہو جاتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ ہمارے وسائل ختم ہو رہے ہیں یا مواقع کم ہو گئے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ کی قدرت لا محدود ہے۔ وہ وہاں سے راستے نکالتا ہے جہاں سے انسان کو وہم و گمان بھی نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ گواہ ہے، بہت سے لوگوں نے انتہائی مشکل حالات میں صبر کیا اور پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں ایسی کامیابیاں عطا کیں جو ان کے لیے حیران کن تھیں۔
صبر کے ساتھ ساتھ دعا بھی بہت اہم ہے۔ دعا انسان کو اپنے رب سے جوڑتی ہے۔ جب بندہ سچے دل سے اللہ کے حضور جھکتا ہے اور اپنی حاجات پیش کرتا ہے تو اس کا دل ہلکا ہو جاتا ہے۔ دعا میں ایک طاقت ہے، ایک امید ہے جو انسان کو مایوسی کے اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی پکار ضرور سنتا ہے، چاہے اس کا جواب فوراً ملے یا کچھ دیر بعد، لیکن وہ بہترین وقت پر بہترین فیصلہ فرماتا ہے۔
ہمیں اپنی زندگی میں شکرگزاری کو بھی شامل کرنا چاہیے۔ اکثر ہم ان نعمتوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں جو ہمیں پہلے ہی حاصل ہیں۔ اگر انسان اپنے پاس موجود نعمتوں پر شکر ادا کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے رزق میں مزید برکت عطا فرماتا ہے۔ شکر اور صبر دونوں مل کر انسان کی زندگی کو متوازن اور پرسکون بناتے ہیں۔ آج کے دور میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم مایوسی کو اپنے دلوں میں جگہ نہ دیں۔ مشکلات وقتی ہوتی ہیں، لیکن اللہ کی رحمت دائمی ہے۔ اگر ہم صبر، دعا اور یقین کے ساتھ زندگی گزاریں تو کوئی بھی مشکل ہمیں توڑ نہیں سکتی۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے رب پر مکمل بھروسا رکھیں، اپنی کوشش جاری رکھیں اور ہر حال میں مثبت سوچ اپنائیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو صبر کرنے کی توفیق عطا فرمائے، ہمارے دلوں کو مضبوط کرے اور اپنے خزانے سے ہمیں وسیع رزق عطا کرے۔ ہمیں ایسے راستے دکھائے جہاں سے آسانیاں پیدا ہوں اور ہمیں ہر آزمائش میں سرخرو فرمائے۔ آمین۔
