پاکستان اور سعودی عرب کی مثالی دوستی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ دنیا پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کو یک جان دو قالب کے نام سے بھی جانتی ہے۔ دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان دلی محبت، ایک دوسرے کے لیے احترام اور سب سے بڑھ کر دینی رشتہ اور جذبہ پایا جاتا ہے۔ یہی صورتحال دونوں ملکوں کی حکومتوں کے درمیان بھی ہے اور یہ تعلق آج کا نہیں بلکہ پاکستان کے قیام کے بعد سے ہی چلا آ رہا ہے اور الحمدللہ وقت گزرنے کے ساتھ اس میں اضافہ ہی ہوا ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات صرف عوامی محبت اور دینی وابستگی تک محدود نہیں رہے بلکہ اب یہ تعلق مختلف معاہدوں، باہمی تعاون اور دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتے ہوئے روابط کی صورت میں مزید مضبوط ہو رہا ہے۔ دونوں ممالک مختلف شعبوں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں اور آنے والے دنوں میں اس تعاون میں مزید اضافے کی امید بھی کی جا رہی ہے۔
گزشتہ دنوں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ میں ایک اہم معاہدہ ہوا جس نے دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کی۔ اس معاہدے کے تحت تینوں ممالک نے اپنی سلامتی اور دفاع کے حوالے سے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون بڑھانے کا فیصلہ کیا اور یہ بات سامنے آئی کہ تینوں میں سے کسی ایک ملک پر حملہ تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس معاہدے کے بعد پاکستان کی طرف بھی دنیا کی نظریں مزید مرکوز ہوئیں کیونکہ پاکستان اس وقت دفاعی اور عسکری اعتبار سے ایک اہم ملک کی حیثیت رکھتا ہے۔
پاکستان نے گزشتہ برسوں میں اپنی دفاعی صلاحیت کا جس طرح اظہار کیا ہے، اس کے بعد دنیا پاکستان کو ایک مختلف نظر سے دیکھ رہی ہے۔ خاص طور پر گزشتہ سال پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والے ٹکراؤ کے دوران پاکستان کی دفاعی صلاحیت پوری دنیا کے سامنے آئی اور بہت سے ممالک نے پاکستان کی طاقت اور اس کی دفاعی صلاحیت کو نئے انداز سے دیکھا۔
پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں ایک اور اہم پیش رفت گزشتہ روز سامنے آئی جب دونوں ممالک کے درمیان سفارتی اور سرکاری خصوصی پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا کی شرط ختم کرنے کا معاہدہ ہوا۔ پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے اس معاہدے پر دستخط کیے۔اس معاہدے کے تحت سفارتی اور سرکاری خصوصی پاسپورٹ رکھنے والے پاکستانی اور سعودی شہریوں کو دونوں ممالک کے درمیان سفر کے لیے ویزا کی شرط سے استثنا حاصل ہوگا۔ یہ فیصلہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی طرف ایک اور قدم ہے۔ اس سے دونوں حکومتوں کے درمیان سرکاری وفود کی آمدورفت اور رابطوں میں مزید آسانی پیدا ہوگی
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان عوامی سطح پر محبت کی بات کی جائے تو اس کی مثال دنیا میں شاید ہی کہیں اور ملے۔ پاکستانی عوام سعودی عرب کو صرف ایک دوست ملک کی حیثیت سے نہیں دیکھتے بلکہ سعودی عرب وہ ملک ہے جہاں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ موجود ہیں۔ ہر پاکستانی مسلمان کے دل میں ان مقدس مقامات کے لیے ایک خاص محبت اور عقیدت موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں ایک ایسا جذباتی پہلو بھی ہے جو کسی دوسرے ملک کے ساتھ تعلقات میں اس انداز سے نظر نہیں آتا۔
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان لاکھوں پاکستانیوں کا روزگار بھی وابستہ ہے۔ بڑی تعداد میں پاکستانی سعودی عرب میں کام کر رہے ہیں اور اپنے خاندانوں کے لیے روزگار کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں۔ اسی طرح ہر سال بڑی تعداد میں پاکستانی حج اور عمرہ کے لیے سعودی عرب جاتے ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان کاروباری اور معاشی روابط بھی موجود ہیں اور اگر ان روابط کو مزید آگے بڑھایا جائے تو دونوں ممالک کے عوام کو اس کا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
پاکستان کے پاسپورٹ کے حوالے سے بھی گزشتہ کچھ عرصے میں مختلف ممالک کے ساتھ ویزا سہولت کے معاہدے سامنے آئے ہیں۔ پاکستان کی اپنی دفاعی اور سفارتی حیثیت میں بھی وقت کے ساتھ تبدیلی آئی ہے اور گزشتہ سال پاک بھارت کشیدگی کے دوران پاکستان کی دفاعی صلاحیت نے دنیا کی توجہ حاصل کی۔ اس کے بعد پاکستان کو بہت سے ممالک ایک نئی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔سعودی عرب کے ساتھ ویزا استثنا کا یہ معاہدہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ سعودی عرب پاکستانیوں کے لیے کوئی عام ملک نہیں بلکہ اس کے ساتھ ہمارا دینی اور عوامی تعلق بہت گہرا ہے۔ اس لیے دونوں ممالک کے درمیان آمدورفت، کاروبار، سرمایہ کاری اور سرکاری روابط میں آسانی پیدا کرنے والے ہر اقدام کو اہم سمجھا جاتا ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب کی دوستی کو کسی ایک حکومت یا کسی ایک معاہدے سے نہیں جوڑا جا سکتا۔ یہ تعلق کئی دہائیوں پر مشتمل ہے اور اس کی بنیاد دونوں ملکوں کے عوام کے دلوں میں موجود محبت پر ہے۔ حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، حالات بدلتے رہتے ہیں لیکن پاکستان اور سعودی عرب کے عوام کے درمیان جو محبت ہے وہ اپنی جگہ موجود رہتی ہے۔
اب ضرورت اس بات کی ہے کہ دونوں ممالک اپنے تعلقات کو صرف دفاع اور سفارت کاری تک محدود نہ رکھیں بلکہ تجارت، سرمایہ کاری، صنعت، زراعت، توانائی، تعلیم اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بھی تعاون کو مزید بڑھائیں۔ سعودی عرب پاکستان میں سرمایہ کاری کرے اور پاکستان بھی سعودی عرب کے ساتھ اپنے کاروباری روابط مزید بڑھائے تو دونوں ملکوں کو اس کا فائدہ ہوگا۔
مکہ معاہدے سے لے کر حالیہ ویزا استثنا کے معاہدے تک پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں مسلسل پیش رفت نظر آ رہی ہے۔ اگر آنے والے دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان مزید معاہدے ہوتے ہیں، کاروباری روابط بڑھتے ہیں اور عوام کے لیے مزید سہولتیں پیدا کی جاتی ہیں تو اس سے اس دوستی کو مزید مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔
پاکستان اور سعودی عرب کا رشتہ صرف کاغذوں پر ہونے والے معاہدوں کا نام نہیں ہے۔ یہ رشتہ دونوں ملکوں کے عوام کے دلوں میں موجود ہے۔ پاکستانی قوم سعودی عرب کو اپنا برادر ملک سمجھتی ہے اور سعودی عوام کے ساتھ بھی پاکستانیوں کے دل میں محبت موجود ہے۔ یہی وہ بنیاد ہے جس پر دونوں ممالک کے تعلقات قائم ہیں۔
حالیہ معاہدے یقیناً اس تعلق کو مزید آگے لے جانے میں مدد دیں گے۔ امید ہے کہ مستقبل میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایسے مزید اقدامات ہوں گے جن سے دونوں ملکوں کے تعلقات مضبوط ہوں گے، کاروبار بڑھے گا، سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا اور دونوں ملکوں کے عوام ایک دوسرے کے مزید قریب آئیں گے۔
پاکستان اور سعودی عرب کی دوستی ایک ایسا رشتہ ہے جس میں حکومتوں کے ساتھ ساتھ دونوں ملکوں کے عوام بھی شریک ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس رشتے کو جتنا مضبوط کیا جائے، دونوں ملکوں کے لیے اتنا ہی بہتر ہے اور آنے والے وقت میں اس دوستی کو مزید مضبوط بنانے کی بہت گنجائش موجود ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *