گرین پاکستان انیشیٹو کے تحت بنجر اراضی کو قابلِ کاشت بنانے اور جدید زرعی طریقوں کے فروغ کے لیے مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے۔ اس اقدام کا مقصد زرعی پیداوار میں اضافہ، کسانوں کی رہنمائی اور دیہی علاقوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔
ایک نجی فارم کے مالک عاصم اعوان کے مطابق انہیں تقریباً دو برس قبل ایسی زمین ملی تھی جو مکمل طور پر غیر آباد تھی، تاہم مسلسل محنت اور جدید زرعی تکنیک کے استعمال سے اب اس کا بڑا حصہ قابلِ کاشت بن چکا ہے۔ ان کے مطابق اس زمین پر گندم، چنا اور کینولا سمیت مختلف فصلیں کاشت کی جا رہی ہیں، جن کی پیداوار مقامی منڈیوں تک پہنچائی جائے گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ زرعی پیداوار میں اضافہ مستقبل میں درآمدات پر انحصار کم کرنے اور برآمدات بڑھانے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
عاصم اعوان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے بڑی تعداد میں افراد کے روزگار کا بندوبست ہوا ہے۔ ان کے بقول مستقل ملازمین کے علاوہ فصلوں کی بوائی اور کٹائی کے موسم میں سینکڑوں مزدور بھی کام کرتے ہیں، جس سے مقامی معیشت کو سہارا مل رہا ہے اور کئی خاندانوں کی آمدنی میں بہتری آئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گرین پاکستان انیشیٹو کے تحت ماہرین کی جانب سے مسلسل تکنیکی رہنمائی فراہم کی جا رہی ہے۔ جدید زرعی معلومات، معیاری بیجوں کے انتخاب، فصلوں کی نگرانی اور سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کی مدد سے کاشتکاروں کو بہتر فیصلے کرنے میں معاونت دی جا رہی ہے۔
فارم مالک کے مطابق بنجر زمینوں کو دوبارہ آباد کرنا صرف ایک نجی منصوبے کی کامیابی نہیں بلکہ ملکی زرعی شعبے کے لیے بھی مثبت پیش رفت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسے اقدامات کا تسلسل برقرار رہا تو مستقبل میں مزید غیر آباد اراضی کو بھی قابلِ کاشت بنایا جا سکے گا، جس سے زرعی پیداوار اور روزگار دونوں میں اضافہ متوقع ہے
