مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے پاکستانی برآمدات پر اثرات، ایک ارب ڈالر سے زائد کمی
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدہ صورتحال کے اثرات پاکستان کی تجارت اور برآمدات پر بھی نظر آنے لگے ہیں۔ مالی سال 2025-26 کے دوران ملکی برآمدات میں گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں ایک ارب 20 کروڑ ڈالر سے زائد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025-26 میں پاکستان کی مجموعی برآمدات تقریباً 30 ارب 80 کروڑ ڈالر رہیں، جو گزشتہ مالی سال کے دوران 32 ارب ڈالر سے زائد تھیں۔ برآمدی شعبے میں آنے والی یہ کمی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال نے تجارت، نقل و حمل اور سپلائی چین سے متعلق مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔
چاول کی برآمدات میں نمایاں کمی
برآمدی شعبے میں سب سے زیادہ کمی چاول کی برآمدات میں دیکھی گئی۔ اعداد و شمار کے مطابق چاول کی برآمدات میں تقریباً ایک ارب 2 کروڑ ڈالر کی کمی ہوئی۔
چاول پاکستان کی اہم زرعی برآمدات میں شامل ہے اور عالمی منڈی میں اس کی طلب ملکی زرعی شعبے اور زرمبادلہ کے حصول کے لیے اہم سمجھی جاتی ہے۔ برآمدات میں کمی سے اس شعبے سے وابستہ کاروباری سرگرمیوں پر بھی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
چاول کے علاوہ ٹیکسٹائل، چینی اور بعض دیگر زرعی مصنوعات کی برآمدات بھی متاثر ہوئی ہیں۔ پاکستان کی برآمدی معیشت میں ٹیکسٹائل کا بڑا حصہ ہے، اس لیے اس شعبے کی کارکردگی مجموعی برآمدی اعداد و شمار پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔
خلیجی ممالک کو برآمدات میں کمی
مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے تناظر میں خلیجی خطے کے ساتھ تجارتی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئی ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق خلیجی ممالک کو پاکستانی برآمدات میں تقریباً 10 کروڑ ڈالر کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
حکام کے مطابق خطے میں پیدا ہونے والی کشیدگی کے باعث اشیا کی ترسیل اور تجارت سے متعلق اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔ سمندری اور زمینی راستوں پر پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال بھی برآمد کنندگان کے لیے اضافی مشکلات کا باعث بن سکتی ہے۔
وسطی ایشیا اور افغانستان کی تجارت بھی متاثر
پاکستان کی وسطی ایشیائی ممالک اور افغانستان کے لیے برآمدات میں بھی نمایاں کمی سامنے آئی ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ان مارکیٹوں کے لیے برآمدات میں تقریباً 59 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی۔
حکومت کے معاشی جائزوں میں بھی علاقائی تجارت، سرحدی انتظامات اور خطے میں ہونے والی تبدیلیوں کو برآمدی مارکیٹوں کی سمت پر اثر انداز ہونے والے عوامل میں شمار کیا گیا ہے۔
حکومت کی جانب سے اقدامات
حکام کے مطابق برآمدی شعبے کو درپیش مشکلات کم کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے مختلف اقدامات پر کام جاری ہے۔ توانائی کی قیمتوں اور ٹیکس سے متعلق اخراجات میں کمی کے لیے بھی کوششیں کی جا رہی ہیں تاکہ مقامی صنعت کی پیداواری لاگت کم ہو اور پاکستانی مصنوعات عالمی منڈی میں زیادہ مسابقتی رہ سکیں۔
دوسری جانب حکومت نے برآمدات میں اضافے کے لیے مراعاتی اقدامات بھی متعارف کرائے ہیں۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق یکم جولائی 2026 سے اضافی برآمدات کرنے والے اہل برآمد کنندگان کے لیے کارکردگی کی بنیاد پر ریبیٹ اسکیم بھی نافذ کی گئی ہے۔
پاکستان کی معیشت کے لیے برآمدات میں اضافہ زرمبادلہ کے حصول، صنعتی سرگرمیوں اور مجموعی معاشی استحکام کے حوالے سے اہم حیثیت رکھتا ہے۔ ایسے میں مشرق وسطیٰ سمیت عالمی سطح پر پیدا ہونے والی صورتحال ملکی برآمدی شعبے کے لیے ایک اہم چیلنج بن سکتی ہے۔
