پاکستان نے دو ماہ میں 1.70 ارب ڈالر کا بیرونی قرض حاصل کرلیا
اسلام آباد: رواں مالی سال 2026-27 کے ابتدائی دو ماہ کے دوران پاکستان کو بیرونی ذرائع سے حاصل ہونے والی مالی معاونت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جولائی اور اگست میں ملک کو مجموعی طور پر تقریباً 1 ارب 70 کروڑ ڈالر کی بیرونی مالی معاونت موصول ہوئی۔
اقتصادی امور ڈویژن کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ مالی سال 2025-26 کے اسی عرصے میں پاکستان کو تقریباً 1 ارب 37 کروڑ ڈالر کی بیرونی معاونت حاصل ہوئی تھی، یوں ایک سال کے مقابلے میں ابتدائی دو ماہ کی بیرونی فنانسنگ میں تقریباً 23.6 فیصد اضافہ ہوا۔
بیرونی قرض کی مالیت 476 ارب روپے
رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے دو ماہ میں حاصل ہونے والی بیرونی مالی معاونت پاکستانی کرنسی میں تقریباً 476 ارب روپے کے مساوی بنتی ہے۔ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں یہ رقم تقریباً 391 ارب روپے تھی۔
اعداد و شمار کے مطابق بیرونی معاونت کا بڑا حصہ ایسے قرضوں پر مشتمل رہا جو مختلف حکومتی ضروریات اور منصوبوں کی تکمیل کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔
جولائی اور اگست کے دوران مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے تقریباً 48 کروڑ 45 لاکھ ڈالر جبکہ غیر منصوبہ جاتی معاونت کی مد میں تقریباً 1 ارب 21 کروڑ ڈالر حاصل ہوئے۔
عالمی مالیاتی ادارے بھی اہم قرض دہندگان میں شامل
پاکستان کو رواں مالی سال کے ابتدائی دو ماہ میں مختلف عالمی مالیاتی اداروں سے بھی مالی معاونت حاصل ہوئی۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق اسلامی ترقیاتی بینک، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک سمیت مختلف اداروں نے پاکستان کے لیے مالی وسائل فراہم کیے۔
اسلامی ترقیاتی بینک کی جانب سے تقریباً 19 کروڑ 12 لاکھ ڈالر جبکہ عالمی بینک سے تقریباً 23 کروڑ 84 لاکھ ڈالر حاصل ہوئے۔
اسی عرصے میں ایشیائی ترقیاتی بینک سے بھی مالی معاونت موصول ہوئی۔ یہ رقوم مختلف منصوبوں اور حکومتی مالی ضروریات کے لیے بیرونی فنانسنگ کا حصہ ہیں۔
جرمنی اور سعودی عرب کی مالی معاونت
اقتصادی امور ڈویژن کے مطابق مختلف ممالک کی جانب سے بھی پاکستان کو مالی معاونت فراہم کی گئی۔ جولائی اور اگست میں دوطرفہ ذرائع سے مجموعی طور پر تقریباً 3 کروڑ 52 لاکھ ڈالر موصول ہوئے۔
اعداد و شمار کے مطابق جرمنی نے تقریباً 1 کروڑ 28 لاکھ ڈالر جبکہ سعودی عرب نے تقریباً 89 لاکھ ڈالر فراہم کیے۔
دوسری جانب رواں مالی سال کے ابتدائی دو ماہ میں چین کی جانب سے پاکستان کو کوئی نئی مالی معاونت موصول نہیں ہوئی۔
نیا پاکستان سرٹیفکیٹ اور کمرشل بینکوں سے قرض
پاکستان نے بیرونی فنانسنگ کے دیگر ذرائع سے بھی رقوم حاصل کیں۔ اعداد و شمار کے مطابق نیا پاکستان سرٹیفکیٹ کی مد میں تقریباً 62 کروڑ 97 لاکھ ڈالر حاصل کیے گئے۔
اس کے علاوہ غیر ملکی کمرشل بینکوں سے بھی تقریباً 30 کروڑ ڈالر کی فنانسنگ حاصل ہوئی۔
پاکستان کی بیرونی فنانسنگ میں عالمی مالیاتی اداروں، دوطرفہ شراکت داروں اور کمرشل ذرائع کا کردار اہم ہے۔ اقتصادی امور ڈویژن کے مطابق بیرونی اقتصادی معاونت سے متعلق مذاکرات، نگرانی، حساب کتاب اور بیرونی قرضوں کے انتظام کی ذمہ داری اسی ادارے کے دائرہ کار میں آتی ہے۔
رواں مالی سال کے آغاز میں بیرونی فنانسنگ میں اضافے کے اعداد و شمار ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پاکستان کو بیرونی ادائیگیوں، درآمدی ضروریات اور قرضوں کی سروسنگ سمیت مختلف مالی چیلنجز کا سامنا ہے۔ وزارت خزانہ بھی مالی سال 2026-27 کے دوران معاشی صورتحال اور بیرونی شعبے سے متعلق پیش رفت کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے۔
