گندم کی صورتحال پر وفاق اور صوبوں کا اہم اجلاس، مختلف صوبوں نے اضافی ذخائر کی ضرورت ظاہر کر دی
اسلام آباد: ملک میں گندم کی دستیابی اور آئندہ مہینوں کے ممکنہ تقاضوں کا جائزہ لینے کے لیے وفاقی حکومت اور چاروں صوبوں کے نمائندوں کا اہم اجلاس وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد چیمہ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں گندم کے موجودہ ذخائر، صوبائی ضروریات، قیمتوں میں اضافے اور ممکنہ حکمتِ عملی پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس کے دوران پنجاب نے وفاقی ذخائر سے تقریباً 10 لاکھ میٹرک ٹن گندم فراہم کرنے کی درخواست کی، جبکہ سندھ نے اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے کم از کم 2 لاکھ 20 ہزار میٹرک ٹن گندم مانگی۔ خیبرپختونخوا نے بھی سرکاری ضروریات کے لیے ایک لاکھ میٹرک ٹن اور نجی شعبے کی طلب پوری کرنے کے لیے تقریباً 7 لاکھ میٹرک ٹن گندم درکار ہونے سے آگاہ کیا۔
اجلاس میں اس امکان پر بھی بات چیت ہوئی کہ اگر مقامی ذخائر ناکافی ثابت ہوئے تو بیرونِ ملک سے گندم درآمد کرنے کا آپشن زیر غور لایا جا سکتا ہے۔ تاہم وفاقی حکام نے واضح کیا کہ کسی بھی فیصلے سے قبل تمام صوبوں سے تحریری طور پر حتمی طلب اور دستیاب ذخائر کی تفصیلات حاصل کی جائیں گی۔
اجلاس میں شریک حکام نے موجودہ صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چند برسوں میں گندم کی خریداری اور قیمتوں سے متعلق بعض پالیسی فیصلوں کے باعث ذخائر کے انتظام میں مشکلات پیدا ہوئیں۔ اس کے ساتھ رواں سال بعض صوبوں کی جانب سے کسانوں سے مطلوبہ مقدار میں گندم نہ خریدے جانے کو بھی موجودہ صورتحال کی ایک اہم وجہ قرار دیا گیا۔
وفاقی وزیر احد چیمہ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت مقامی کسانوں کے مفادات کو مقدم رکھے گی اور درآمد سمیت ہر فیصلہ ملکی ضروریات، دستیاب ذخائر اور مجموعی معاشی صورتحال کا مکمل جائزہ لینے کے بعد کیا جائے گا۔
۔ مجموعی طور پر موجود گندم قومی ضرورت کے قریب یا اس سے کچھ زیادہ بتائی جا رہی ہے، تاہم بعض صوبوں میں مطلوبہ اسٹریٹجک ذخائر برقرار رکھنے میں مشکلات سامنے آئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق پنجاب اپنے مقررہ ہدف کے مطابق گندم خریدنے میں کامیاب نہیں ہو سکا، جبکہ سندھ میں بھی خریداری کا عمل ہدف سے کم رہا۔ اسی وجہ سے بعض صوبوں نے وفاقی ذخائر سے اضافی گندم فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔
اجلاس میں سندھ نے پنجاب سے بین الصوبائی گندم کی نقل و حمل میں نرمی کی درخواست بھی کی، تاہم پنجاب کے نمائندوں نے محدود دستیاب ذخائر کا حوالہ دیتے ہوئے اس معاملے پر احتیاط برتنے کی ضرورت پر زور دیا۔
دوسری جانب حالیہ ہفتوں میں مختلف صوبوں میں گندم اور آٹے کی قیمتوں میں اضافہ بھی اجلاس کا اہم موضوع رہا۔ حکام نے اس رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے مناسب اور بروقت اقدامات ضروری ہیں تاکہ صارفین پر اضافی بوجھ نہ پڑے۔
خیبرپختونخوا حکومت کے مشیر خزانہ مزمل اسلم نے اجلاس کے بعد اپنے مؤقف میں کہا کہ فصل کی کٹائی کے چند ماہ بعد بھی گندم کی فراہمی سے متعلق خدشات برقرار رہنا تشویش کی بات ہے۔ ان کے مطابق بروقت پالیسی فیصلے اور ضرورت پڑنے پر درآمد جیسے اقدامات مارکیٹ میں استحکام لانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
