ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ، گڈز ٹرانسپورٹرز نے حکومتی پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار
آل پاکستان گڈز مزدا اونرز ایسوسی ایشن کے صدر عدیل عباسی نے ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں بار بار اور اچانک تبدیلیاں ٹرانسپورٹ کے شعبے کے لیے مشکلات میں مسلسل اضافہ کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گڈز ٹرانسپورٹرز پہلے ہی بڑھتے ہوئے آپریشنل اخراجات، مہنگے پرزہ جات، ٹائرز، مرمت، ٹول ٹیکس اور دیگر اخراجات کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ ڈیزل کی قیمت میں مزید اضافہ کاروباری سرگرمیوں کو مزید متاثر کرے گا۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال میں ٹرانسپورٹ کمپنیوں کے لیے اپنے معمول کے اخراجات پورے کرنا بھی ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔
عدیل عباسی کا کہنا تھا کہ گزشتہ چند روز کے دوران ڈیزل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ٹرانسپورٹ انڈسٹری پر اضافی مالی بوجھ ڈال رہا ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اس کے اثرات نہ صرف مال بردار گاڑیوں کے مالکان بلکہ سپلائی چین، تاجروں، صنعتکاروں اور بالآخر عام صارفین تک بھی پہنچ سکتے ہیں، کیونکہ نقل و حمل کے اخراجات میں اضافہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔
انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایندھن کی قیمتوں کے تعین کے حوالے سے ایسی پالیسی اختیار کی جائے جو کاروباری برادری اور ٹرانسپورٹ سیکٹر کے لیے قابلِ عمل ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر فیصلے کیے جائیں تاکہ معاشی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔
صدر ایسوسی ایشن نے خبردار کیا کہ اگر ٹرانسپورٹرز کے تحفظات دور نہ کیے گئے اور ایندھن کی قیمتوں میں استحکام نہ آیا تو ملک بھر میں گڈز ٹرانسپورٹرز احتجاج سمیت مختلف آپشنز پر غور کر سکتے ہیں، جن میں مال بردار گاڑیاں کھڑی کرنے کا فیصلہ بھی شامل ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق اس صورت حال سے سپلائی چین اور تجارتی سرگرمیاں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ ٹرانسپورٹ کے شعبے کو معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھتے ہوئے ایسے اقدامات کیے جائیں جو کاروباری اعتماد بحال کریں، لاگت میں کمی لائیں اور اشیائے ضروریہ کی ترسیل کو بلا تعطل جاری رکھنے میں معاون ثابت ہوں۔
