کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر جمیل احمد نے کہا ہے کہ ملک میں ڈیجیٹل مالیاتی نظام تیزی سے وسعت اختیار کر رہا ہے اور موبائل بینکنگ ایپس استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد تقریباً 13 کروڑ 70 لاکھ تک پہنچ گئی ہے، جبکہ بیرون ملک سے آنے والی ترسیلات زر میں ڈیجیٹل ذرائع کا حصہ بھی نمایاں طور پر بڑھ گیا ہے۔
ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ایچ بی ایل، یونین پے انٹرنیشنل اور پے پاک کے اشتراک سے متعارف کرائے گئے کوبیج ڈیبٹ کارڈ کو پاکستان کے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا۔ ان کے مطابق یہ اقدام مقامی ادائیگیوں کے نظام کو عالمی نیٹ ورک سے جوڑنے میں معاون ثابت ہوگا اور صارفین کو اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک بہتر سہولیات فراہم کرے گا۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ ادارے کا مقصد ایسا جدید اور محفوظ ادائیگی نظام تشکیل دینا ہے جو کم لاگت، قابلِ اعتماد اور مقامی ضروریات سے ہم آہنگ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حکمت عملی سے ڈیجیٹل معیشت کو فروغ ملے گا اور نقد رقم پر انحصار میں بتدریج کمی آئے گی۔
ریپورٹ کے مطابق یہ اقدامات اسٹیٹ بینک کے وژن 2028 اور حکومت کے کیش لیس پاکستان پروگرام کے مطابق کیے جا رہے ہیں، جن کا مقصد ملک میں مالیاتی شمولیت کو بڑھانا اور جدید ڈیجیٹل ادائیگیوں کو عام کرنا ہے۔
جمیل احمد کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان میں ریٹیل ڈیجیٹل لین دین میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس عرصے میں ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز کی تعداد تقریباً 6.9 ارب سے بڑھ کر 12 ارب کے قریب پہنچ گئی،حالانکہ ڈیجیٹل ادائیگیاں قبول کرنے والےجاری کاروباری مراکز کی تعداد بھی تقریباً 5 لاکھ سے بڑھ کر 20 لاکھ سے بڑھ گئی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ بیرون ملک سے پاکستان آنے والی ترسیلات زر میں ڈیجیٹل ذرائع کا حصہ تقریباً 80 فیصد سے بڑھ کر 92 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام کا اعتماد جدید مالیاتی خدمات پر مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ان کے بقول یہ پیش رفت پاکستان کو ایک زیادہ ڈیجیٹل، جامع اور جدید معیشت کی جانب لے جانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
