اخترصدیقی ۔۔۔۔۔
​کسی بھی معاشرے میں عدل و انصاف کی فراہمی صرف قوانین کے وجود سے مشروط نہیں ہوتی، بلکہ ان قوانین پر عملدرآمد کے طریقہ کار اور عدالتی ضوابط (Rules) کی شفافیت پر منحصر ہوتی ہے۔ پاکستان کے آئینی اور قانونی نظام میں ایک طویل عرصے سے یہ شکایت عام رہی ہے کہ مقدمات دہائیوں تک زیر التوا رہتے ہیں، اور بے بنیاد یا بدنیتی پر مبنی درخواستوں کے باعث عدالتوں کا قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے۔ وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے جاری کردہ 126 صفحات پر مشتمل نئے رولز اس سمت میں ایک انقلابی اور مثبت پیش رفت ثابت ہو سکتے ہیں۔
​ان قواعد کا سب سے اہم پہلو عدالتی وقت کا ضیاع روکنا اور غیر ضروری مقدمہ بازی کا خاتمہ ہے۔ نظرثانی کی درخواست پر 50 ہزار روپے زرِ ضمانت اور بے بنیاد درخواست پر وکیل کے خلاف تادیبی کارروائی سمیت کم از کم 25 ہزار روپے کے اخراجات کا عائد کیا جانا ایک ایسا قدم ہے جو عدالتوں کو فضول مقدمات کے بوجھ سے بچائے گا۔ تاریخ شاہد ہے کہ التوا کی ثقافت نے ہمارے نظامِ عدل کو مفلوج کر رکھا تھا؛ نئے رولز میں التوا کو حق کے بجائے استثنا قرار دینا اور بلاوجہ التوا مانگنے والوں پر ہرجانہ عائد کرنا انصاف کے عمل کو تیز تر بنائے گا۔
​انسانی حقوق اور بالخصوص سزائے موت کے قیدیوں کے حوالات سے متعلق ضوابط انتہائی حساس اور کارآمد ہیں۔ سزائے موت پر نظرثانی کی درخواست کی صورت میں عملدرآمد کا خودکار طور پر معطل ہو جانا ایک بنیادی انسانی حق کی پاسداری ہے، تاکہ کسی بھی قانونی غلطی کا ازالہ جاں بحق ہونے سے پہلے ممکن ہو سکے۔ اسی طرح ہیبیس کارپس (غیر قانونی حراست) کی درخواست پر سات دن کے اندر سماعت اور کوئی عدالتی فیس نہ ہونا شہریوں کی آزادی اور بنیادی حقوق کے تحفظ کی ضامن ہے۔
​آئین کی تشریح کے حوالے سے وفاقی آئینی عدالت کا دیگر عدالتوں سے ریکارڈ طلب کرنے کا اختیار آئینی یکسانیت لائے گا۔ مزید برآں، دلائل کے لیے وقت کی تحدید (10 سے 30 منٹ) اور کم از کم دو ججوں پر مشتمل بینچ کی تشکیل جیسے اقدامات سے مقدمات کے فیصلوں میں شست روی ختم ہوگی۔ الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف 30 دن میں اپیل اور 90 دن میں حتمی فیصلے کی پابندی سیاسی و آئینی استحکام کے لیے نہایت ضروری ہے۔
​وکلا کی اہلیت کے معیار اور انرولمنٹ فیس میں اضافہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ آئینی عدالت کے سامنے صرف تجربہ کار اور سنجیدہ قانون دان ہی پیش ہوں۔ یہ تمام اصلاحات ظاہر کرتی ہیں کہ اگر ان رولز پر ان کی روح کے مطابق عمل کیا گیا، تو نہ صرف انصاف کے عمل میں شفافیت آئے گی بلکہ عوام کا عدالتی نظام پر اعتماد بھی بحال ہوگااخترصدیقی ۔۔۔۔۔
​کسی بھی معاشرے میں عدل و انصاف کی فراہمی صرف قوانین کے وجود سے مشروط نہیں ہوتی، بلکہ ان قوانین پر عملدرآمد کے طریقہ کار اور عدالتی ضوابط (Rules) کی شفافیت پر منحصر ہوتی ہے۔ پاکستان کے آئینی اور قانونی نظام میں ایک طویل عرصے سے یہ شکایت عام رہی ہے کہ مقدمات دہائیوں تک زیر التوا رہتے ہیں، اور بے بنیاد یا بدنیتی پر مبنی درخواستوں کے باعث عدالتوں کا قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے۔ وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے جاری کردہ 126 صفحات پر مشتمل نئے رولز اس سمت میں ایک انقلابی اور مثبت پیش رفت ثابت ہو سکتے ہیں۔
​ان قواعد کا سب سے اہم پہلو عدالتی وقت کا ضیاع روکنا اور غیر ضروری مقدمہ بازی کا خاتمہ ہے۔ نظرثانی کی درخواست پر 50 ہزار روپے زرِ ضمانت اور بے بنیاد درخواست پر وکیل کے خلاف تادیبی کارروائی سمیت کم از کم 25 ہزار روپے کے اخراجات کا عائد کیا جانا ایک ایسا قدم ہے جو عدالتوں کو فضول مقدمات کے بوجھ سے بچائے گا۔ تاریخ شاہد ہے کہ التوا کی ثقافت نے ہمارے نظامِ عدل کو مفلوج کر رکھا تھا؛ نئے رولز میں التوا کو حق کے بجائے استثنا قرار دینا اور بلاوجہ التوا مانگنے والوں پر ہرجانہ عائد کرنا انصاف کے عمل کو تیز تر بنائے گا۔
​انسانی حقوق اور بالخصوص سزائے موت کے قیدیوں کے حوالات سے متعلق ضوابط انتہائی حساس اور کارآمد ہیں۔ سزائے موت پر نظرثانی کی درخواست کی صورت میں عملدرآمد کا خودکار طور پر معطل ہو جانا ایک بنیادی انسانی حق کی پاسداری ہے، تاکہ کسی بھی قانونی غلطی کا ازالہ جاں بحق ہونے سے پہلے ممکن ہو سکے۔ اسی طرح ہیبیس کارپس (غیر قانونی حراست) کی درخواست پر سات دن کے اندر سماعت اور کوئی عدالتی فیس نہ ہونا شہریوں کی آزادی اور بنیادی حقوق کے تحفظ کی ضامن ہے۔
​آئین کی تشریح کے حوالے سے وفاقی آئینی عدالت کا دیگر عدالتوں سے ریکارڈ طلب کرنے کا اختیار آئینی یکسانیت لائے گا۔ مزید برآں، دلائل کے لیے وقت کی تحدید (10 سے 30 منٹ) اور کم از کم دو ججوں پر مشتمل بینچ کی تشکیل جیسے اقدامات سے مقدمات کے فیصلوں میں شست روی ختم ہوگی۔ الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف 30 دن میں اپیل اور 90 دن میں حتمی فیصلے کی پابندی سیاسی و آئینی استحکام کے لیے نہایت ضروری ہے۔
​وکلا کی اہلیت کے معیار اور انرولمنٹ فیس میں اضافہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ آئینی عدالت کے سامنے صرف تجربہ کار اور سنجیدہ قانون دان ہی پیش ہوں۔ یہ تمام اصلاحات ظاہر کرتی ہیں کہ اگر ان رولز پر ان کی روح کے مطابق عمل کیا گیا، تو نہ صرف انصاف کے عمل میں شفافیت آئے گی بلکہ عوام کا عدالتی نظام پر اعتماد بھی بحال ہوگا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *