مانسہرہ میں لاری اڈہ تھانےکی حدود میں واقع مدرسہ جامعہ فاطمہ الزہرا کی طالبہ بنتِ سعید احمد کو دن دیہاڑے شہید کر دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق مدرسے کی درجہ رابعہ کی ہونہار طالبہ جو مدرسے میں قرآن، حدیث اور فقہ کی تعلیم کے حصول کے لیے آتی جاتی تھی، حسبِ معمول مدرسے میں چھٹی ہونے کے بعد واپس اپنے گھر جا رہی تھی۔ اپنی سہیلیوں کے ساتھ راستے میں ہی گاڑی میں سوار نامعلوم سرپھرے دہشت گردوں نے معصوم طالبہ پر تین فائر کیے۔ ایک گولی بچی کے سینے میں لگی، ایک پیٹ میں اور ایک ٹانگ پر۔ دہشت گرد موقع سے ہی فرار ہو گئے۔
بچی کو فوری طور پر مانسہرہ ہسپتال لے جایا گیا، لیکن وہاں مناسب علاج نہ ہونے کے باعث انہیں ایبٹ آباد منتقل کر دیا گیا، جہاں ڈاکٹروں کی انتہائی کوشش کے باوجود بچی جانبر نہ ہو سکی اور اللہ کو پیاری ہو گئی۔
اس واقعہ پر مانسہرہ شہر سمیت قرب و جوار کے علاقوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور عوام سراپا احتجاج ہیں۔ اڑتالیس گھنٹے گزرنے کے باوجود ابھی تک قاتلوں کا سراغ نہیں مل سکا۔ اتنے بڑے شہر میں سی سی ٹی وی فوٹیج کا نہ ہونا بھی ایک المیہ ہے۔ عوامی حلقے اس پر شدید احتجاج کر رہے ہیں کہ آخر پولیس کہاں تھی دن دیہاڑے ایک صنفِ نازک اور وہ بھی ایک دینی مدرسے کی معصوم طالبہ کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور دہشت گرد با آسانی فرار ہو جاتے ہیں۔
عوامی حلقوں نے اسے پولیس کی غفلت اور ناکامی قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس فوری طور پر متعلقہ حوالے سے دہشت گردوں کی گرفتاری کے لیے فوری کارروائی کرے۔
افسوسناک عمل یہ ہے کہ ایک تو مانسہرہ جیسے بڑے شہر میں اور دن دیہاڑے ایک معصوم طالبہ کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ صنفِ نازک جسے نہ اسلام مارنے کی اجازت دیتا ہے، جنگ میں، اور نہ ہی وہاں کی مقامی روایات، لیکن اس کے باوجود اس طرح انہیں بے دردی سے نشانہ بنانا سفاکیت کی انتہا ہے۔
واقعہ کے حوالے سے قریبی کچھ حلقوں کا بتانا ہے کہ دہشت گرد کسی اور بچی کو مارنے آئے تھے، لیکن چونکہ طالبات ایک جیسے لباس میں ملبوس ہوتی ہیں، سر تا پاؤں عبایا، ہاتھوں میں دستانے، پاؤں میں موزے، تو اس وجہ سے انہوں نے کسی اور کو قتل کر دیا۔
آخر ہمارا معاشرہ کس حد تک گر چکا ہے ہم کس طرف جا رہے ہیں، جہاں ہمارے دین نے، ہماری ثقافتی اور قومی روایات نے ہمیں صنفِ نازک کو جنگ کی صورت میں، دشمنی کی صورت میں بھی مارنے سے منع کیا ہے، لیکن اس کے باوجود دن کی روشنی میں اس طرح کا دل ہلا دینے والا واقعہ انتہائی قابلِ مذمت اور افسوسناک ہے۔ اس پر جتنا بھی ماتم کیا جائے کم ہے۔
کیا اب ہماری بچیاں بھی محفوظ نہیں کیا وہ دینی تعلیم یا عصری تعلیم کے لیے اپنے گھروں سے نکلنے کو بھی محفوظ تصور نہیں کر سکتی کیا والدین اب اپنے بچوں پر تعلیم کے دروازے بند کریں گےیہ وہ سوالات ہیں جوہرشخص کےذہن میں پیوست ہوچکےہیں
اس حوالے سے حکومت کو خاص طور پر سنجیدگی کے ساتھ فوری اقدامات کرنے ہوں گے۔ جب تک ان درندہ صفت قاتلوں کو گرفتار کر کے کیفرِ کردار تک نہیں پہنچایا جاتا، اس وقت تک عوامی حلقوں، بالخصوص تعلیمی اداروں کے طلبہ و طالبات میں انتہائی بے چینی پائی جائے گی اور طلبہ و طالبات اپنی تعلیم سے محروم ہوتے نظر آئیں گے۔
ڈی پی اومانسہرہ اس حوالے سے اپنا خاص کردار ادا کریں اور لوگوں کو مطمئن کریں۔ متعلقہ حوالے سے پُرعزم اور ٹھوس شواہد کی بنا پر کارروائی کریں۔
قریبی حلقوں کا یہ بھی بتاناہےکہ معصوم طالبہ کی نہ کسی سے ذاتی دشمنی تھی، نہ ان کے خاندان کی۔ ان کا خاندان ایک شریف خاندان ہے اور دینی فیملی ہے اور یہ بچی طالبہ بذاتِ خود بھی مدرسے میں ایک ہونہار اور لائق طالبہ تھی، جس کا کام ہی اپنی تعلیم سے تھا۔ قرآن، حدیث اور فقہ کی کتابیں سینے سے لگا کر انہیں لے جانا اور واپس لانا یہی ان کا معمول تھا۔ ساری زندگی وہ اسی میں صرف کر رہی تھی اور حدیث اور قرآن کو سینے سے لگائے ہوئے حالت میں بھی ظالم درندوں نے انہیں نہیں چھوڑا۔
یہ واقعہ دل ہلا دینے والا واقعہ ہے۔ دل خون کے آنسو رورہا ہے۔ سارا علاقہ، بلکہ پورا دینی طبقہ اور تعلیمی حوالے سے جتنے بھی حلقے ہیں، وہ شدید صدمے سے دوچار ہیں اور پریشان ہیں کہ اگر تعلیمی ادارے بھی اور معصوم طلبہ و طالبات بھی یہاں محفوظ نہیں ہیں تو آخر کب تک یہ سلسلہ چلے گا
ایک طرف ہمارے حکمران ہیں جو صوبے بھر میں تعلیمی اداروں پر توجہ دینے کے بجائے، ہسپتال کے قیام کے بجائے، ان میں ترقی کے بجائے اپنی سیاست کے داؤ پیچ لگا رہے ہیں۔ انہیں عوامی شکایات، عوامی مشکلات یا عوامی امور کے لیے کوئی سروکار نہیں ہے، بس وہ اپنی سیاست کر رہے ہیں۔جبکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام نے انہیں سیاست کے لیے نہیں، اپنی خدمت کے لیے منتخب کیا ہے۔ اگر مانسہرہ شہر میں کوئی قابل، اور مستند ہسپتال ہوتا تو شاید اس طالبہ کی جان بچ جاتی، کیونکہ زیادہ خون بہہ جانے کی وجہ سے طالبہ کی موت واقع ہوئی ہے۔ مانسہرہ سے ایبٹ آباد تک ان کو لے جانا، اتنی دیر تک بچی برداشت نہ کر سکی اور خون مسلسل بہتا رہا جوطالبہ کی شہادت کا سبب بنا۔
حکمرانوں کویہ سوچناہوگا کہ بجائے اس کے کہ ہم سیاست کریں، اس سے بہتر ہے کہ عوام نے جس مقصد کے لیے ہمیں منتخب کیا ہے، اس مقصد کو پورا کیا جائے
