خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ بن کمروں کے صوبوں پر فیصلے مسلط نہیں ہونے دیں گے۔ اگر اپنی پالیسی کے لیے بغاوت کرنا پڑا تو بھی کریں گے اور چار اکتوبر لانگ مارچ ہر صورت ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ اگر گورنر راج لگانے کی کوشش کی گئی تو بھرپور مزاحمت کریں گے۔
دوسری طرف حکومتی ترجمان نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کو کسی صورت اسلام آباد کے قریب بھی آنے نہیں دیا جائے گا۔ جبکہ بیرسٹر ظفر ملک نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ پی ٹی آئی کے لوگوں نے رابطہ کرکے کہا ہے کہ خدا کے لیے کوئی صورت نکالی جائے، جبکہ عطا اللہ تارڑ نے اس حوالے سے کہا ہے کہ پی ٹی آئی جو مطالبہ کر رہی ہے، وہ ہمارے دائرہ اختیار میں نہیں ہے، اس کا فورم عدالت ہے۔
کئی دنوں سے پی ٹی آئی کے مجوزہ مارچ کے حوالے سے اسلام آباد اور پورے ملک میں اضطراب کی کیفیت پائی جاتی ہے۔ مسافروں کے لیے شدید پریشانی کا عالم ہے جو ان دنوں سفر پر جانا چاہتے ہیں، خاص طور پر کشمیر اور بالائی علاقوں میں آمد و رفت والے مسافر انتہائی پریشانی کا شکار ہیں۔
دوسری طرف حکومت بھی بھرپور اعلانات کر رہی ہے اور ساتھ ساتھ رکاوٹیں بھی کھڑی کردی گئی ہیں کہ پی ٹی آئی مارچ کو کسی صورت نہیں کرنے دیا جائے گا، انہیں اسلام آباد کے قریب بھی نہیں آنے دیا جائے گا۔
اگر سنجیدگی سے غیر جانبدارانہ تجزیہ کیا جائے تو پی ٹی آئی اگر اپنا پرامن احتجاج ریکارڈ کرانا چاہتی ہے تو بے شک یہ ان کا بنیادی حق ہے اور انہیں یہ حق دے دینا چاہیے، لیکن اس کی شرط یہ ہوگی کہ اسلام آباد میں آمد و رفت کے لیے کوئی مسائل نہ ہوں، کسی قسم کی گڑبڑ نہ ہو۔ اگر اس پر پی ٹی آئی پورا اترتی ہے تو پھر تو انہیں ایک جمہوری حق دے دینا چاہیے، اور اس سے قبل بھی کئی مثالیں موجود ہیں کہ بڑے بڑے احتجاج ہوئے لیکن کسی قسم کی گڑبڑ، کوئی ٹریفک کی روانی یا کاروبار کی بندش نہیں ہوئی اسلام آباد میں۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے 2019ء میں اکتوبر میں جمعیت علمائے اسلام کے مولانا فضل الرحمن نے ایک بہت بڑا آزادی مارچ کیا تھا جس میں بلا شبہ لاکھوں افراد شریک تھے اور تقریباً چودہ پندرہ دن وہ مارچ کے شرکاء کیپٹل میں ہی موجود رہے، لیکن کسی قسم کی کوئی رکاوٹ کیپٹل میں پیدا نہیں ہوئی، نہ کسی قسم کی توڑ پھوڑ ہوئی۔
اگر پی ٹی آئی بھی اسی طرح پرامن احتجاج کرنا چاہتی ہے یا کر سکتی ہے تو حکومت کو یہ ضرور آزمانا چاہیے کیونکہ بلا ضرورت اگر حکومت جتنا پی ٹی آئی کو دبائے گی تو اس سے کوئی فائدہ نہیں نکلے گا، ملکی معیشت اور ملکی استحکام کے حوالے سے۔
لیکن دوسری طرف پی ٹی آئی کو خود بھی سوچنا چاہیے کہ کیا ہم اس طرح کا احتجاج کر سکتے ہیں جیسے اس سے قبل مولانا فضل الرحمن کے کارکنوں نے کیا تھا۔ لیکن جو ظاہری اثرات وشواہداورپی ٹی آئ کی ماضی ہے وہ شاید اس طرح نہ ہوں کہ ایک پرامن احتجاج منعقد ہو جائے اور اسی خدشے کی وجہ سے حکومت شاید بار بار انہیں روکنے پر مجبور ہے۔
اس لانگ مارچ کے مقصد کی وجہ سے پورا کیپٹل کافی دنوں سے غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے اور نہ صرف کیپٹل بلکہ ملک کے دیگر شہروں سے بھی اس طرف جانے والے افراد کشمکش میں مبتلا ہیں کہ آیا سفر کیا جائے یا نہیں، جائیں گے تو واپسی کی کیا صورت ہوگی، وہاں انہیں کسی اور کھاتے میں نہ ڈال دیا جائے۔حکومت کو چاہیے کہ سنجیدگی کےساتھ کوئی صورت نکالی جائے اور خوش اسلوبی کے ساتھ بات چیت کے ذریعے ان کے اس مارچ کو کنٹرول کرنا چاہیے، چاہے وہ مارچ کی اجازت دینے کی صورت میں ہو یا مارچ منسوخ کرنے کی شکل میں ہو، لیکن افہام و تفہیم اور مذاکرات ہی واحد حل ہیں۔
حکومت کو اس حوالے سے سنجیدگی سے سوچنا چاہیے اور پی ٹی آئی رہنماؤں کو بھی اس حوالے سے خصوصی غور کرنا ہے کیونکہ اس وقت ملک افراتفری کا شکار بننا کسی صورت بھی ملکی یا قومی مفاد میں نہیں ہے۔بالغ نظری اور اعتدال کی صورت یہی ہے کہ سوچ بچاراور افہام و تفہیم کے ذریعے اس معاملے کو حل کیا جائے اور کوئی ایسے اقدامات نہ کیے جائیں جس سے ملک میں مزید افراتفری پھیلے اورملک عدم استحکام کی طرف چلا جائے۔خاص طور پر پی ٹی آئی کے ان اعلانات کی وجہ سے حکومت گورنر راج کا اشارہ بھی دے رہی ہے تو گورنر راج بھی کسی طرح مسئلے کا حل نہیں ہے۔ مسئلے کے حل کے لیے دیرپا اور مؤثر اقدامات کرنے ہوں گے اور اس کے لیے دونوں فریقوں کی طرف سے کردار ادا کرنا ہوگا، جو اس وقت انتہائی ناگزیرہے
