تحریر محمد عمیر

صحافت کسی بھی معاشرے کا آئینہ ہوتی ہے۔ ایک حقیقی صحافی برسوں کی محنت، تعلیم، تحقیق اور فیلڈ ورک کے بعد اپنے آپ کو اس شعبے میں منواتا ہے، لیکن افسوس کہ آج صحافت کا شعبہ بھی ایسے مسائل سے دوچار ہے جہاں محنت اور قابلیت کے بجائے بعض اوقات چند سو روپے، ایک موبائل فون اور سوشل میڈیا اکاؤنٹ ہی صحافی بننے کے لیے کافی سمجھے جانے لگے ہیں۔آج ایک طرف ایسے نوجوان موجود ہیں جو صحافت کی ڈگری حاصل کرنے کے لیے لاکھوں روپے خرچ کرتے ہیں، کئی سال یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرتے ہیں، رپورٹنگ، نیوز رائٹنگ، کیمرہ ورک، ایڈیٹنگ، تحقیق، میڈیا ایتھکس اور براڈکاسٹنگ جیسی مہارتیں سیکھتے ہیں، جبکہ دوسری طرف بعض افراد معمولی رقم خرچ کرکے خود کو صحافی ظاہر کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ بعض جگہوں پر تو میڈیا کارڈ کے نام پر پیسے وصول کرنے کی شکایات بھی سامنے آتی ہیں۔ اگر چند سو یا چند ہزار روپے کے عوض کسی شخص کو میڈیا کارڈ دے دیا جائے تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ صحافت کی تعلیم، تربیت، تجربے اور پیشہ ورانہ قابلیت کی اہمیت کہاں باقی رہ جاتی ہے؟سب سے افسوسناک صورتحال ان نوجوانوں کی ہے جو صحافت کو اپنا مستقبل سمجھ کر یونیورسٹیوں میں داخلہ لیتے ہیں۔ وہ اپنے والدین کی جمع پونجی خرچ کرتے ہیں، کئی سال تعلیم حاصل کرتے ہیں، اپنی مہارتوں پر وقت لگاتے ہیں اور اس امید کے ساتھ میدان میں آتے ہیں کہ انہیں اپنی قابلیت کے مطابق روزگار اور عزت ملے گی۔ لیکن جب وہ عملی میدان میں قدم رکھتے ہیں تو انہیں بعض اوقات ایسے لوگوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو نہ صحافت کی بنیادی تربیت رکھتے ہیں اور نہ ہی اس پیشے کے اخلاقی تقاضوں سے واقف ہوتے ہیں۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ صحافت صرف کیمرہ اٹھانے، مائیک پکڑنے یا میڈیا کارڈ رکھنے کا نام نہیں۔ صحافی کو خبر اور افواہ میں فرق معلوم ہونا چاہیے، خبر کی تصدیق کا طریقہ آنا چاہیے، فریقین کا مؤقف لینا چاہیے، کسی کی عزتِ نفس اور نجی زندگی کا خیال رکھنا چاہیے اور خبر کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔اگر کوئی شخص میڈیا کا نام استعمال کرکے کاروبار کرتا ہے، حکومت یا اداروں کو بلیک میل کرنے کی کوشش کرتا ہے، غیر ضروری دباؤ ڈالتا ہے یا میڈیا پلیٹ فارم کو ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرتا ہے تو اس کا نقصان صرف ایک ادارے کو نہیں بلکہ پورے صحافتی شعبے کو ہوتا ہے۔یہاں حکومت، متعلقہ اداروں اور میڈیا تنظیموں کی ذمہ داری بھی اہم ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ میڈیا اداروں کی رجسٹریشن، صحافتی شناختی کارڈز، ڈیجیٹل نیوز پلیٹ فارمز اور فیلڈ میں کام کرنے والے افراد کے لیے واضح اور شفاف قواعد و ضوابط بنائے جائیں۔ کسی بھی شخص کو محض رقم کے عوض صحافی کا کارڈ جاری کرنے کے عمل کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے، جبکہ حقیقی صحافیوں کے لیے ایک ایسا نظام ہونا چاہیے جس میں تعلیم، تجربہ، ادارے سے وابستگی اور پیشہ ورانہ کردار کو اہمیت دی جائے۔اس کا مقصد کسی نئے آنے والے نوجوان کو صحافت سے روکنا نہیں ہونا چاہیے۔ صحافت میں آنے کا حق ہر شخص کو حاصل ہے، لیکن اس شعبے میں کام کرنے والے ہر فرد کو بنیادی تربیت، اخلاقی اصولوں اور ذمہ داریوں سے آگاہ ہونا ضروری ہے۔صحافت کوئی مذاق نہیں۔ یہ ایک ذمہ دار پیشہ ہے جس میں ایک غلط خبر کسی شخص کی عزت، کاروبار، خاندان اور حتیٰ کہ پوری زندگی کو متاثر کر سکتی ہے۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم صحافت کو صرف ’’میڈیا کارڈ‘‘ تک محدود کرنے کے بجائے اسے علم، تحقیق، دیانت، تربیت اور ذمہ داری سے جوڑیں۔جو نوجوان برسوں تعلیم حاصل کرکے، اپنی محنت اور صلاحیت کے بل بوتے پر اس میدان میں آتے ہیں، ان کے لیے بھی مواقع پیدا کرنا ضروری ہیں۔ اگر صحافت میں میرٹ، تربیت اور پیشہ ورانہ معیار قائم نہ کیا گیا تو حقیقی صحافی مزید مشکلات کا شکار ہوں گے اور صحافت کی ساکھ بھی متاثر ہوتی رہے گی۔وقت آ گیا ہے کہ صحافت کو دوبارہ ایک ذمہ دار پیشہ سمجھا جائے، نہ کہ ایسا شعبہ جہاں پیسے دے کر شناخت حاصل کی جا سکے۔ میڈیا کارڈ نہیں، قابلیت اور کردار صحافی کی اصل پہچان ہونا چاہیے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *