آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس نے ملک گیر ہڑتال کی دھمکی دیتے ہوئے بندرگاہیں بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹرز الائنس کے چیئرمین نثار حسین جعفری نے کہا ہے کہ حکومت نے مارچ روکنے کے لیے ہمارے 250 کنٹینر روکے رکھے ہیں، جن کا ہم یومیہ چار کروڑ پینسٹھ لاکھ روپے ادا کر رہے ہیں، جبکہ حکومت نے یہ کنٹینر زبردستی اپنی تحویل میں لے رکھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کنٹینر واپس نہ کیے گئے تو ہم ملک گیر ہڑتال کریں گے، جس کے نتیجے میں بندرگاہیں بھی بند ہوں گی اور ملکی معیشت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔
بظاہر یہ اعلان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب اسلام آباد میں افراتفری کے خدشات کے پیش نظر مختلف کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ خاص طور پر پی ٹی آئی کے مجوزہ مارچ کے حوالے سے یہ کنٹینر پکڑے گئے ہیں اور انہیں مختلف مقامات پر سڑکیں بند کرنے اور راستوں کی نگرانی کے لیے کھڑا کیا گیا ہے۔ تاہم اس تمام صورتحال کا براہِ راست اثر ٹرانسپورٹرز اور گاڑیوں کے مالکان پر پڑ رہا ہے۔ ان گاڑیوں کے ذریعے روزانہ سامان کی ترسیل، کاروباری سرگرمیوں اور مختلف شہروں کے درمیان سپلائی کا نظام چلتا ہے، اس لیے انہیں طویل عرصے تک روکنے سے صرف مالکان ہی نہیں بلکہ تاجروں، صنعت کاروں اور عام صارفین کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ملک میں جب بھی کوئی احتجاج، ہڑتال، مظاہرہ یا ریلی منعقد کی جاتی ہے تو اس کے تمام تر نقصانات کا بوجھ غریب عوام پر ڈال دیا جاتا ہے۔ خاص طور پر ٹرانسپورٹ برادری کو بھاری مالی نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔ احتجاج سے ایک دن قبل ہی درجنوں، اور بعض مواقع پرسیکڑوں گاڑیاں ضبط کر لی جاتی ہیں۔ کنٹینر، مزدا اور ٹرک سڑکوں پر کھڑے کرکے راستے بلاک کر دیے جاتے ہیں، اور یہ سارا عمل اکثر زور زبردستی کے ذریعے انجام دیا جاتا ہے۔ کئی مرتبہ ڈرائیوروں کو اپنی گاڑیوں کے ساتھ گھنٹوں یا دنوں تک سڑکوں پر انتظار کرنا پڑتا ہے، جس سے ان کے روزمرہ اخراجات بھی بڑھ جاتے ہیں اور ان کے خاندانوں کی آمدنی بھی متاثر ہوتی ہے۔

حکومت ان گاڑیوں کے مالکان کو کوئی معاوضہ ادا کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتی، چاہے ان کی گاڑیاں ایک دن کھڑی رہیں یا دس دن تک استعمال سے باہر رہیں۔ یہ مسئلہ صرف وفاقی حکومت تک محدود نہیں بلکہ پورے ملک میں تقریباً یہی سلسلہ جاری ہے۔ کراچی شہر میں بھی، خاص طور پر محرم الحرام کے دوران، تقریباً دس دن تک کنٹینر شہر کے مختلف اطراف میں پڑے رہتے ہیں۔ اس دوران گاڑیوں کے مالکان کو کاروباری نقصان، ڈرائیوروں کے اخراجات اور دیگر مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کا خمیازہ بالآخر مالکان اور غریب عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔ یہ صورتحال یقیناً لمحہ فکریہ ہے۔
اگر حکومت نے عوامی احتجاج کو روکنا ہی ہے اور اس مقصد کے لیے کنٹینر اور دیگر گاڑیاں استعمال کرنی ہیں، سڑکیں اور راستے بند کرنے ہیں، تو انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ ٹرانسپورٹ کو باقاعدہ کرائے کی بنیاد پر حاصل کیا جائے۔ انہیں روڈ بلاک کرنے کے لیے کھڑا کیا جائے تو ان کے مالکان کو استعمال کی مدت کے مطابق مناسب اور بروقت معاوضہ بھی ادا کیا جائے، تاکہ ان کے کاروبار کو ناقابلِ تلافی نقصان نہ پہنچے۔اس معاملے میں بھی کہیں ایسی زیادتی نہیں ہونی چاہیے کہ گاڑیاں ان کے اصل کرائے سے کم قیمت پر حاصل کی جائیں۔ ان کا جو حقیقی حق بنتا ہے، وہ انہیں منصفانہ طریقے سے ادا کیا جانا چاہیے۔ بجائے اس کے کہ ان کی حق تلفی کرتے ہوئے زور زبردستی سے گاڑیاں پکڑ لی جائیں، مالکان یا ڈرائیوروں کو گرفتار کیا جائے اور کئی دنوں تک گاڑیاں کھڑی رکھی جائیں، حکومت کو قانونی اور شفاف طریقہ کار اختیار کرنا چاہیے۔ موجودہ طرزِ عمل ٹرانسپورٹ برادری کے ساتھ سراسر زیادتی کے مترادف ہے۔
گڈز ٹرانسپورٹ ملک میں سامان کی ترسیل اور آمد و رفت کے نظام میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ ملک کے مختلف شہروں، صنعتی علاقوں، منڈیوں اور بندرگاہوں کے درمیان اشیائے ضروریہ اور تجارتی سامان کی ترسیل اسی شعبے کے ذریعے ہوتی ہے۔ اگر خدا نخواستہ ٹرانسپورٹرز ہڑتال پر چلے جاتے ہیں تو اس سے مجموعی طور پر بڑی افراتفری پھیل سکتی ہے۔ سامان کی آمد و رفت میں رکاوٹ، سپلائی چین کے متاثر ہونے اور بندرگاہوں کی بندش سے ملک کو نہ صرف فوری بلکہ طویل مدتی معاشی نقصان بھی ہو سکتا ہے۔ مارکیٹوں میں اشیائے ضروریہ کی قلت پیدا ہو سکتی ہے، قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے اور برآمدی و درآمدی سرگرمیاں بھی بری طرح متاثر ہو سکتی ہیں۔
لہٰذا حکومت کو اس ممکنہ نقصان سے بچنے کے لیے ٹرانسپورٹرز کے جائز مطالبات پر فوری توجہ دینی چاہیے۔ اگر گاڑیاں کسی سرکاری ضرورت کے تحت روکی گئی ہیں تو ان کے مالکان کو اس کا مناسب کرایہ اور معاوضہ ادا کیا جائے، اور یہ ادائیگی شفاف اور منصفانہ طریقے سے کی جائے۔ مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل نکالنا ہی ملک اور عوام کے مفاد میں ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ ٹرانسپورٹرز کے نمائندوں کے ساتھ فوری اجلاس بلائے، ان کے نقصانات کا تخمینہ لگائے اور ایک قابلِ عمل حل پیش کرے، تاکہ معاملہ احتجاج اور ہڑتال تک نہ پہنچے۔
ہر روز یہ معمول بنتا جا رہا ہے کہ احتجاج کسی کا بھی ہو، لیکن نقصان ٹرانسپورٹ برادری کا ہوتا ہے، اور یہ نقصان بھی کروڑوں روپے میں ہوتا ہے۔ ٹرانسپورٹرز بھی ہمارے ہی غریب شہری ہیں جو محنت اور مجبوری کے تحت روزی کماتے ہیں۔ وہ پورے ملک میں خوردنی اشیا، صنعتی سامان اور دیگر ضروری چیزیں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچاتے ہیں اور ملکی معیشت کا پہیہ چلانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں
اگر ان کے ساتھ اس طرح ظلم و ستم اور زبردستی کا سلسلہ جاری رہا تو نہ صرف عوام کا براہِ راست نقصان ہوگا بلکہ مجموعی طور پر ملک بھی شدید نقصان سے دوچار ہوگا۔ جب بندرگاہوں پر کام متاثر ہوگا اور سامان کی ترسیل رک جائے گی تو اربوں روپے کا نقصان ملکی خزانے اور کاروباری سرگرمیوں پر پڑے گا، جو کسی بھی طور پر ملک اور قوم کے مفاد میں نہیں ہے۔ اس کے علاوہ ملکی اور غیر ملکی کاروباری حلقوں میں بھی یہ تاثر پیدا ہوگا کہ یہاں تجارتی سرگرمیوں کے لیے مستقل اور محفوظ ماحول موجود نہیں، جس سے سرمایہ کاری اور کاروباری اعتماد مزید متاثر ہو سکتا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ٹرانسپورٹرز کے جائز مطالبات فوری طور پر مان لیے جائیں۔ یا تو ان کی گاڑیاں واپس کی جائیں، یا انہیں ان کے واجب الادا کرائے اور مناسب معاوضے کی ادائیگی کی جائے، تاکہ وہ بھی مالی پریشانی کا شکار نہ ہوں اور ملک میں سامان کی ترسیل کا نظام معمول کے مطابق جاری رہ سکے۔ حکومت کو مستقبل کے لیے بھی ایسا مستقل نظام وضع کرنا چاہیے جس کے تحت کسی بھی احتجاج یا سکیورٹی انتظام کے دوران نجی گاڑیوں کے استعمال سے پہلے مالکان کو اعتماد میں لیا جائے، تحریری معاہدہ کیا جائے اور بروقت ادائیگی یقینی بنائی جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *