پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی اور عسکری تعاون کے حوالے سے ایک بہت ہی بڑی، تاریخی اور اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے تحت ان تینوں برادر ممالک نے اپنے “مکہ دفاعی معاہدے” کو مزید مضبوط بناتے ہوئے اسے فوری طور پر مؤثر فوجی تعاون میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہےدنیا بھر میں بدلتی ہوئی سیاسی اور عسکری صورتحال کے تناظر میں یہ قدم انتہائی اہمیت کا حامل ہے، اور یہ تمام اہم فیصلے اور پیش رفت ریاض میں ہونے والے تینوں ممالک کے اعلیٰ فوجی حکام کے ایک خصوصی اجلاس کے دوران طے پائے ہیں
اس اعلیٰ سطح کے اہم اجلاس میں پاکستان کی طرف سے چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے شرکت کی، جبکہ سعودی عرب کی نمائندگی چیف آف جنرل سٹاف جنرل فیاض بن حامد الرویلی نے کی اور ترکیہ کے چیف آف جنرل سٹاف جنرل سلچوق بایرکتار اوغلو نے بھی اس میں بھرپور انداز میں شرکت کی। آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق اس ملاقات کا بنیادی مقصد تینوں ممالک کے درمیان انٹیلی جنس شیئرنگ کے نظام کو مزید بہتر اور تیز بنانا، آپس میں فوجی رابطہ کاری کو مضبوط کرنا اور اپنی تمام دفاعی صلاحیتوں کو ایک دوسرے کے ساتھ مکمل طور پر مربوط کرنا تھا، جس کے لیے عملی اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اس نوعیت کا عسکری اشتراک خطے میں دفاعی توازن کو ایک نئی سمت دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس باضابطہ فوجی اجلاس سے ٹھیک ایک روز قبل، نیویارک میں جاری اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ کی سطح پر بھی ایک اہم ملاقات ہوئی تھی। اس وزارتی اجلاس میں پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے خصوصی طور پر شرکت کی ان رہنماؤں نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت بنائے جانے والے جنرل سیکریٹریٹ، مختلف ذیلی کمیٹیوں اور ورکنگ گروپس کے قیام پر اب تک ہونے والی پیش رفت کا باریک بینی سے جائزہ لیا نیویارک میں ہونے والی سفارتی مشاورت اور فیصلوں کے فوری بعد، تینوں ممالک کے عسکری اور فوجی سربراہان نے ریاض میں براہ راست ملاقات کی، جس کے بعد یہ پورا معاملہ سفارتی گفتگو یا مشاورتی دائرے سے نکل کر عملی اور زمینی فوجی تعاون کے باضابطہ مرحلے میں داخل ہو گیا ہے اس معاہدے کو ایک مضبوط ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے تیزی کے ساتھ کام جاری ہے، اور اسی سلسلے میں 31 اگست کو استنبول میں اسٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفینس کمیٹی کا پہلا باضابطہ اجلاس بھی منعقد کیا جا چکا ہےیہ اجلاس اس بات کا ثبوت ہے کہ تینوں ممالک اس معاہدے کو جلد از جلد عملی جامہ پہنانے کے لیے پرعزم ہیں۔
استنبول کے اس پہلے اجلاس میں یہ بنیادی فیصلہ کیا گیا کہ اس اتحاد کا مستقل سیکریٹریٹ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں بنایا جائے گا، جبکہ اس اہم اور بڑے دفاعی ڈھانچے میں پاکستان کو ابتدائی تین سال کی مدت کے لیے سیکریٹری جنرل کا منصب اور ذمہ داری سونپی گئی ہے اس فیصلے پر فوری عمل کرتے ہوئے 23 ستمبر کو پاکستان نے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود کو اس نئے اور تاریخی اتحاد کا پہلا سیکریٹری جنرل باضابطہ طور پر مقرر کر دیا ہےاس پہلے اجلاس کے انعقاد کے بعد پاکستان نے اپنی ذمہ داری اور سیکریٹری جنرل شپ پر باقاعدہ عمل درآمد کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں اپنا ایک مضبوط اور دوٹوک موقف پیش کیا۔ اس موقع پر مکہ معاہدے کے حوالے سے واضح کیا گیا کہ یہ کسی بھی ملک کے خلاف نہیں ہے اور ہم ایک سوچ کے ساتھ مکمل طور پر متحد اورساتھ کھڑے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارت کو بھی دوٹوک الفاظ میں باور کرا دیا گیا کہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کو پاکستان اعلانِ جنگ تصور کرے گا اور اس معاملے پر کسی بھی قیمت پر پیچھے نہیں ہٹا جائے گا، جبکہ سابقہ شکستوں کو بھی ہمیشہ یاد رکھنے کی تنبیہ کی گئی۔ اس کے علاوہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے بھی پاکستان نے دوٹوک مؤقف اپناتے ہوئے ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا پرزور اعادہ کیا اور اس عزم کو دہرایا
