گمبٹ ( رپورٹ منیر کہڑو) گمبٹ کے گاؤں نارو ڈھورو میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں مبینہ طور پر باپ غلام علی پنجابی ڈوگر نے اپنی کمسن بیٹی عشاء فاطمہ کو تیز دھار آلے سے قتل کر دیا۔ اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچی لاش کو اپنی تحویل میں لے کر ضروری کارروائی کے لیے اسپتال منتقل کر دیا مقتولہ کی والدہ نازیہ پنجابی نے الزام عائد کیا ہے کہ بچوں کی معمولی بات پر حاجانا برادری کے افراد سے جھگڑا ہوا، جس کے بعد مبینہ طور پر انہوں نے ان کے گھر پر حملہ کیا ان کے کمسن بیٹے فرحان کو تشدد کا نشانہ بنایا اور اغوا کرکے لے گئے نازیہ پنجابی کے مطابق ان کے شوہر غلام علی پنجابی ڈوگر نے غصے میں آکر اپنی ہی معصوم بیٹی عشاء فاطمہ کو قتل کیا اور پھر اس قتل کا الزام حاجانا برادری پر لگا کر انہیں جھوٹے مقدمے میں پھنسانے کی کوشش کی۔ انہوں نے مزید الزام لگایا کہ جب انہوں نے شوہر کو روکنے کی کوشش کی تو اس نے انہیں بھی قتل کی دھمکیاں دیں۔
مقتولہ کی والدہ نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے اغوا شدہ بیٹے فرحان کو بحفاظت بازیاب کرایا جائے، ملزم کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے اور انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں اور حقائق سامنے آنے کے بعد قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
