وزیراعلیٰ سندھ کے آبائی حلقے سیہون میں نہری پانی کی قلت، چاول اور کپاس کی فصلیں خطرے میں، کاشتکاروں کا احتجاج
سیہون: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے آبائی حلقہ انتخاب سیہون اور اس کے نواحی علاقوں میں نہری پانی کی شدید قلت نے زرعی سرگرمیوں کو بری طرح متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ پانی کی عدم فراہمی کے باعث چاول، کپاس اور دیگر موسمی فصلیں سوکھنے لگی ہیں، جس سے کسانوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ متاثرہ آبادکاروں نے حکام کی مبینہ غفلت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
سیہون کے نواحی دیہات کرمپور، امید علی کٹوہر اور بھرام کٹوہر کے کاشتکاروں نے سرخ نہر میں پانی نہ چھوڑے جانے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا کر متعلقہ اداروں کے خلاف نعرے بازی کی اور کہا کہ نہر کئی روز سے مکمل طور پر خشک پڑی ہے، جس کے باعث کھڑی فصلیں پانی نہ ملنے سے تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہیں۔
احتجاج میں شریک کسان رہنماؤں فیض محمد کٹوہر، خادم اوٹھو، عمران ڈاہانی، شہمیر ڈاہانی اور دیگر نے کہا کہ زرعی پانی کی مسلسل بندش سے انہیں کروڑوں روپے کے مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر فوری طور پر نہروں میں پانی نہ چھوڑا گیا تو چاول، کپاس اور دیگر فصلیں مکمل طور پر تباہ ہو جائیں گی، جس سے ہزاروں کسانوں کا معاشی مستقبل متاثر ہوگا۔
مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ بااثر افراد نے نہر پر غیر قانونی موٹر پمپ نصب کر رکھے ہیں، جن کے ذریعے بڑی مقدار میں پانی غیر قانونی طور پر حاصل کیا جا رہا ہے، جبکہ ٹیل کے علاقوں میں آباد کسان پانی کی ایک ایک بوند کو ترس رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس صورتحال سے نہ صرف زرعی پیداوار متاثر ہو رہی ہے بلکہ دیہی معیشت بھی مشکلات کا شکار ہو رہی ہے۔
کاشتکاروں نے مزید دعویٰ کیا کہ محکمہ آبپاشی کے متعلقہ افسران، جن میں ایگزیکٹو انجنیئر، اسسٹنٹ انجنیئر اور دیگر ذمہ دار اہلکار شامل ہیں، اس مسئلے پر مؤثر کارروائی کرنے کے بجائے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں، جس سے کسانوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔
احتجاج کرنے والے آبادکاروں نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، وزیر آبپاشی سندھ اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ نہری پانی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جائے، غیر قانونی موٹر پمپ ہٹائے جائیں اور سرخ نہر میں فوری طور پر زرعی پانی فراہم کیا جائے تاکہ کھڑی فصلوں کو تباہی سے بچایا جا سکے اور کسانوں کو مزید مالی نقصان سے محفوظ رکھا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ان کے مطالبات پر فوری توجہ نہ دی گئی تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔
