لاہور: میلادِ مصطفیٰ ﷺ کے لنگر کی تقسیم کے دوران افراتفری، ابلتے تیل میں گرنے والا پی ٹی آئی کارکن 18 روز بعد جاں بحق
لاہور کے علاقے راج گڑھ میں 12 ربیع الاول کے موقع پر میلادِ مصطفیٰ ﷺ کے لنگر کی تقسیم کے دوران پیش آنے والے افسوسناک واقعے میں شدید جھلسنے والا پاکستان تحریک انصاف کا کارکن اشتیاق 18 روز تک زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد انتقال کر گیا۔
تفصیلات کے مطابق 26 اگست کو راج گڑھ لاہور میں 12 ربیع الاول کے سلسلے میں لنگر کی تقسیم جاری تھی کہ اسی دوران پولیس کے مبینہ چھاپے کے باعث موقع پر افراتفری پھیل گئی۔ صورتحال میں بھگدڑ اور بدنظمی کے دوران پی ٹی آئی کارکن اشتیاق ابلتے ہوئے تیل سے بھری کڑاہی میں جا گرا، جس کے نتیجے میں وہ بری طرح جھلس گیا۔
حادثے کے فوراً بعد اشتیاق کو طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے اس کی جان بچانے کی بھرپور کوشش کی۔ شدید جھلسنے کے باعث اسے میو ہسپتال لاہور میں زیر علاج رکھا گیا اور طبی ماہرین کی نگرانی میں مسلسل علاج جاری رہا، تاہم اس کی حالت تشویشناک رہی۔
اشتیاق نے تقریباً 18 روز تک زندگی کی جنگ لڑی، مگر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے 13 ستمبر کو میو ہسپتال میں دم توڑ گیا۔ اس افسوسناک واقعے کے بعد اہل خانہ اور سیاسی حلقوں کی جانب سے واقعے کی مکمل تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ سامنے آیا ہے۔
اشتیاق کی موت کے معاملے پر پنجاب اسمبلی میں ایک قرارداد بھی جمع کرا دی گئی ہے، جس میں واقعے کی مکمل، شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ اس بات کا تعین کیا جائے کہ واقعے کے وقت اصل صورتحال کیا تھی اور پولیس کے مبینہ چھاپے کے دوران پیدا ہونے والی افراتفری کی وجوہات کیا تھیں۔
قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ واقعے کی تحقیقات کے ذریعے ذمہ دار پولیس اہلکاروں کا تعین کیا جائے اور اگر کسی اہلکار کی غفلت، کوتاہی یا غیر ذمہ دارانہ طرز عمل ثابت ہو تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔
اس کے علاوہ قرارداد میں اشتیاق کے اہل خانہ کے لیے حکومتی سطح پر مالی معاونت اور معاوضے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔ قرارداد کے متن میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ متاثرہ خاندان کو اس مشکل وقت میں تنہا نہیں چھوڑا جانا چاہیے اور انہیں انصاف کی فراہمی کے لیے ریاستی سطح پر مؤثر اقدامات کیے جانے چاہئیں۔
واقعے کے حوالے سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ تحقیقات کو کسی سیاسی وابستگی یا دباؤ سے بالاتر ہو کر مکمل کیا جائے تاکہ حقائق سامنے آ سکیں اور متاثرہ خاندان کو انصاف مل سکے۔ قرارداد میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اشتیاق کے اہل خانہ کو انصاف دلانے کے لیے ہر ممکن آئینی اور قانونی فورم پر آواز اٹھائی جائے گی۔
اشتیاق کی وفات پر اہل خانہ، ساتھی کارکنوں اور دیگر افراد نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ واقعے کی اصل وجوہات سامنے لانا اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرنا ضروری ہے تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔
دوسری جانب اشتیاق کی المناک موت کے بعد واقعے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ مزید زور پکڑ گیا ہے۔ متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر شفاف تحقیقات کی جائیں اور اگر کسی فرد یا ادارے کی غفلت ثابت ہو تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
