سندھ بلدیاتی ترمیمی ایکٹ آج منظوری کے لیے پیش کیے جانے کا امکان، اپوزیشن جماعتوں کے تحفظات برقرار
کراچی: سندھ میں بلدیاتی نظام سے متعلق مجوزہ ترامیم پر سیاسی اختلافات کے باوجود سندھ بلدیاتی ترمیمی ایکٹ 2026 آج صوبائی اسمبلی سے منظور کیے جانے کا امکان ہے۔ مجوزہ قانون کے حوالے سے ایم کیو ایم، جماعت اسلامی اور پاکستان تحریک انصاف سمیت اپوزیشن جماعتوں نے اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور بعض شقوں پر سخت اعتراضات سامنے آئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق سندھ اسمبلی کی 12 رکنی خصوصی کمیٹی اپنی سفارشات اور رپورٹ آج ایوان میں پیش کرے گی، جس کے بعد مجوزہ ترمیمی بل کو منظوری کے مرحلے میں لے جانے کا امکان ہے۔ اپوزیشن ارکان کا مؤقف ہے کہ بل کی تیاری کے دوران ان کی تجاویز اور تحفظات کو مناسب اہمیت نہیں دی گئی۔
ایم کیو ایم کے ارکان نے واضح کیا ہے کہ اگر مجوزہ بل کو موجودہ شکل میں منظور کیا گیا تو پارٹی کی جانب سے بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔ اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ بل میں ایسی کئی شقیں شامل کی گئی ہیں جن پر انہیں بنیادی نوعیت کے اعتراضات ہیں اور ان کی جانب سے پیش کی جانے والی تجاویز کو بھی قبول نہیں کیا گیا۔
جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق نے بھی مجوزہ قانون میں ایڈمنسٹریٹر کی تعیناتی سے متعلق شق کی مخالفت کی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ بلدیاتی نظام میں منتخب نمائندوں کے کردار کو اہمیت دی جانی چاہیے اور انتظامی معاملات کے لیے غیر منتخب افراد کی تعیناتی سے متعلق شقوں پر نظر ثانی ضروری ہے۔
مجوزہ ترمیمی قانون میں بلدیاتی اداروں کے منتخب عہدیداروں کے اختیارات اور ذمہ داریوں کو مزید واضح کرنے کی تجاویز شامل ہیں۔ اس کے تحت میئر، ڈپٹی میئر، چیئرمین اور وائس چیئرمین کے فرائض اور اختیارات سے متعلق مختلف امور کو قانون کا حصہ بنایا جائے گا۔
بل میں بلدیاتی کونسلوں اور صوبائی حکومت کے مختلف محکموں کے درمیان رابطہ کاری کو بہتر بنانے کی بھی تجاویز دی گئی ہیں۔ اس مقصد کے تحت مقامی حکومتوں اور صوبائی محکموں کے درمیان انتظامی امور میں تعاون اور رابطے کا طریقہ کار مزید واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
مجوزہ قانون کے مطابق بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے عمل کو بھی ایک مقررہ مدت کے اندر شروع کرنا لازم قرار دینے کی تجویز ہے۔ اس شق کے تحت موجودہ کونسل کی مدت مکمل ہونے سے 120 روز قبل نئے بلدیاتی انتخابات کا عمل شروع کرنا ضروری ہوگا، تاکہ نئی کونسلوں کے قیام میں غیر ضروری تاخیر نہ ہو۔
ترمیمی بل میں یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ موجودہ بلدیاتی نمائندوں کی مدت ختم ہونے اور نئے منتخب میئر یا چیئرمین کے عہدے کا حلف اٹھانے کے درمیان اگر کوئی عبوری عرصہ پیدا ہو تو سبکدوش ہونے والا نمائندہ ایڈمنسٹریٹر کے طور پر ذمہ داریاں انجام دیتا رہے گا۔
اسی طرح یونین کونسلز اور یونین کمیٹیوں کے چیئرمین اور وائس چیئرمین کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک سے متعلق بھی نئی شقیں شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ مجوزہ طریقہ کار کے مطابق چیئرمین یا وائس چیئرمین کے خلاف پیش کی جانے والی عدم اعتماد کی قرارداد کو کامیاب بنانے کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہوگی۔
مجوزہ ترمیم میں ڈپٹی میئر یا وائس چیئرمین کے عہدے سے متعلق بھی اہم تبدیلی تجویز کی گئی ہے۔ اس کے تحت ڈپٹی میئر یا وائس چیئرمین کو متعلقہ بلدیاتی کونسل کا کنوینر مقرر کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے، جس کے باعث کونسل کے اجلاس اور قانون سازی کے معاملات میں ان کے کردار کو مزید واضح کیا جائے گا۔
