سیارہ مرکری مسلسل سکڑ رہا ہے، اس عمل کی وجہ کیا ہے؟

سورج کے سب سے قریب واقع سیارہ مرکری وقت گزرنے کے ساتھ آہستہ آہستہ اپنے حجم میں کمی کر رہا ہے۔ اگرچہ یہ تبدیلی اتنی معمولی اور سست رفتار ہے کہ اسے انسانی زندگی کے دوران محسوس کرنا ممکن نہیں، تاہم سائنسی مشاہدات سے معلوم ہوا ہے کہ مرکری کی اندرونی ساخت میں جاری تبدیلیاں اس کے سکڑنے کا سبب بن رہی ہیں۔

سائنسدانوں کے مطابق مرکری کا اندرونی حصہ اپنی ابتدائی تاریخ میں انتہائی گرم حالت میں تھا۔ اس کے اندر لوہے سے بھرپور ایک بڑا مرکز موجود ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ بتدریج حرارت کھو رہا ہے۔ جب کسی سیارے کا اندرونی حصہ ٹھنڈا ہوتا ہے تو وہاں موجود مادہ سکڑنے لگتا ہے، اور یہی عمل مجموعی طور پر سیارے کے حجم میں معمولی کمی کا باعث بنتا ہے۔

مرکری کے معاملے میں بھی اندرونی حصے کے ٹھنڈا ہونے اور سکڑنے کے نتیجے میں سیارے کی بیرونی سطح پر دباؤ پیدا ہوتا ہے۔ اس دباؤ کے باعث سطح پر چٹانوں کی ساخت میں تبدیلی آتی ہے جبکہ بعض مقامات پر لمبی اور نمایاں تہیں یا شکنیں بھی تشکیل پاتی ہیں۔ یہ ساختیں اس بات کا اہم ثبوت سمجھی جاتی ہیں کہ مرکری کی اندرونی سطح اور بیرونی پرت کے درمیان مسلسل تبدیلیاں جاری رہی ہیں۔

سائنسی اندازوں کے مطابق مرکری اپنی ابتدائی تشکیل کے دور کے مقابلے میں کئی کلومیٹر تک سکڑ چکا ہے۔ تاہم یہ عمل انتہائی سست رفتار ہے، اس لیے روزمرہ زندگی یا مختصر مدت کے مشاہدے میں اس تبدیلی کو محسوس نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے باوجود سیارے کی سطح پر موجود ارضیاتی نشانات اس کے طویل مدتی سکڑاؤ کی جانب واضح اشارہ کرتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق مرکری کا سکڑنا صرف ماضی کا واقعہ نہیں بلکہ اس کے اندرونی حصے میں ہونے والے حرارتی ارتقا کا عمل اب بھی جاری ہے۔ اس کا مرکزی حصہ بتدریج ٹھنڈا ہو رہا ہے اور اس دوران اندرونی مادے میں تبدیلیاں واقع ہورہی ہیں، جن کے اثرات سیارے کی سطح پر بھی نظر آتے ہیں۔

مرکری کو محض ایک بے جان اور مکمل طور پر ٹھنڈی چٹان سمجھنا بھی درست نہیں ہوگا۔ اگرچہ یہ سیارہ سورج کے قریب ہونے کے باوجود اپنے اندرونی حصے میں مسلسل حرارت کھو رہا ہے، تاہم اس کے مرکز میں اب بھی قابل ذکر حرارتی توانائی موجود ہے۔ اسی وجہ سے اس کی اندرونی ساخت وقت کے ساتھ تبدیل ہورہی ہے اور سطح پر ارضیاتی سرگرمیوں کے آثار بھی پائے جاتے ہیں۔

سائنسدانوں کے لیے مرکری کا یہ مسلسل سکڑاؤ اس لیے بھی اہم ہے کہ اس سے انہیں زمین جیسے چٹانی سیاروں کے اندرونی ارتقا کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ مرکری کی ساخت اور اس میں جاری تبدیلیاں اس بات کا موقع فراہم کرتی ہیں کہ ماہرین یہ جان سکیں کہ گرم اور پگھلے ہوئے اندرونی حصے رکھنے والے سیارے وقت کے ساتھ کس طرح ٹھنڈے ہوتے اور اپنی سطحی ساخت تبدیل کرتے ہیں۔

یوں مرکری کا سکڑنا محض حجم میں کمی کا ایک معمولی عمل نہیں بلکہ اس کے اندر جاری طویل مدتی حرارتی اور ارضیاتی ارتقا کی علامت ہے، جس کے اثرات کروڑوں اور اربوں سال کے دوران اس کی سطح پر نمایاں ہوتے رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *