صدرِ مملکت آصف زرداری کی اہم سمریوں کی منظوری، پمز نرس کے لیے تمغۂ شجاعت کی منظوری
اسلام آباد: صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے مختلف اہم معاملات سے متعلق سمریوں کی منظوری دے دی، جن میں قانون سازی، دفاعی ادارے کی تنظیمی ضروریات اور ماحول دوست اقدامات سے متعلق امور شامل ہیں۔
ایوانِ صدر سے جاری ہونے والی تفصیلات کے مطابق صدرِ مملکت کی جانب سے منظور کی جانے والی سمریوں میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فوک اینڈ ٹریڈیشنل ہیریٹیج، جسے عام طور پر لوک ورثہ کہا جاتا ہے، سے متعلق ترمیمی بل 2026 بھی شامل ہے۔ اس ترمیم کا مقصد ادارے سے متعلق قانونی معاملات میں ضروری تبدیلیاں کرنا ہے۔
صدر آصف علی زرداری نے اسٹینڈرڈ ٹائم ترمیمی بل 2026 کی بھی منظوری دے دی۔ مذکورہ قانون سازی میں اسٹینڈرڈ ٹائم سے متعلق حوالہ جات کی وضاحت اور متعلقہ قانونی شقوں میں ترامیم شامل ہیں۔
اسی طرح آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی (AFIU) راولپنڈی کی ٹیبل آف آرگنائزیشن اینڈ ایکوپمنٹ میں نظرثانی کی منظوری بھی دی گئی ہے۔ اس اقدام کے ذریعے ادارے کی تنظیمی ساخت اور دستیاب وسائل سے متعلق ضروری تبدیلیاں کی جائیں گی۔
صدرِ مملکت نے بحری جہازوں میں موجود مضر اور خطرناک مواد کے انتظام سے متعلق بل 2026 کی بھی منظوری دی۔ اس قانون سازی میں ایسے مواد کو ماحول دوست اور محفوظ طریقے سے سنبھالنے کے حوالے سے اقدامات شامل ہیں، تاکہ سمندری ماحول اور انسانی صحت پر ممکنہ منفی اثرات کو کم کیا جا سکے۔
دوسری جانب صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (PIMS) کی اسٹاف نرس رضیہ نورین کو تمغۂ شجاعت دینے کی منظوری بھی دے دی ہے۔
رضیہ نورین نے PIMS میں پیش آنے والے آتشزدگی کے ایک واقعے کے دوران غیر معمولی جرات کا مظاہرہ کیا تھا۔ واقعے کے دوران انہوں نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر کارروائی کرتے ہوئے وہاں موجود واحد زندہ بچ جانے والے بچے کو بحفاظت باہر نکالنے میں اہم کردار ادا کیا۔
ان کی جانب سے مشکل اور خطرناک صورتحال میں بچے کی جان بچانے کے لیے کیے گئے اقدام کو سراہتے ہوئے تمغۂ شجاعت دینے کی منظوری دی گئی ہے۔ یہ اعزاز ان کی بہادری اور انسانی جان کے تحفظ کے لیے انجام دی جانے والی ذمہ داری کا اعتراف قرار دیا جا رہا ہے۔
صدرِ مملکت کی جانب سے منظور کی گئی سمریوں میں مختلف شعبوں سے متعلق امور شامل ہیں، جن میں ثقافتی ورثے کے ادارے سے متعلق قانون سازی، اسٹینڈرڈ ٹائم سے متعلق قانونی وضاحت، دفاعی طبی ادارے کی تنظیمی ضروریات اور بحری جہازوں میں خطرناک مواد کے محفوظ انتظام جیسے معاملات شامل ہیں۔
اس کے علاوہ PIMS کی اسٹاف نرس رضیہ نورین کے لیے تمغۂ شجاعت کی منظوری اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ مشکل حالات میں انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے غیر معمولی جرات کا مظاہرہ کرنے والے افراد کی خدمات کو بھی سرکاری سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے۔
