صواآصل لاہور میں حکومت کی جانب سے نئے تعلیمی سال کے آغاز پر بچوں کے شاندار استقبال کے دعوے تو بہت کیے گئے، لیکن کئی سرکاری سکولوں میں صورتحال ان دعوؤں کے بالکل برعکس دکھائی دی۔
گورنمنٹ ہائی سکول بوائز سرائچ کے راستوں میں گندگی کے ڈھیر، سکیورٹی گارڈ بغیر یونیفارم، جبکہ مقررہ وقت گزرنے کے باوجود اساتذہ کی عدم موجودگی نے والدین کو تشویش میں مبتلا کر دیا۔
دوسری جانب گرلز ہائی سکول کی چار دیواری پر لگی خاردار تاریں بھی اکھڑی ہوئی نظر آئیں۔
دیکھتے ہیں ہماری یہ رپورٹ۔
نئے تعلیمی سال کے پہلے روز بچوں کے شاندار استقبال کے لیے پھولوں کی پتیاں نچھاور کرنے، سکولوں کے راستوں کو فلیکسی اور بینرز سے سجانے اور بچوں کو خوش آمدید کہنے کے دعوے کیے گئے تھے،
مگر گورنمنٹ ہائی سکول بوائز سرائچ پہنچنے پر منظر کچھ اور ہی نظر آیا۔
سکول جانے والے راستوں پر جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر موجود تھے، جبکہ سکول کے گیٹ پر تعینات سکیورٹی گارڈ مبینہ طور پر بغیر یونیفارم موجود تھا۔
صبح آٹھ بجے کا وقت گزر چکا تھا، مگر والدین اور بچے سکول پہنچ چکے تھے اور اساتذہ کی آمد کا انتظار کرتے رہے۔
والدین کا کہنا ہے کہ بچوں کے استقبال کے لیے پھولوں کی پتیاں اور سجاوٹ تو دور کی بات، اگر سرکاری سکولوں میں اساتذہ بروقت پہنچ جائیں اور بچوں کو بہتر تعلیمی ماحول فراہم کر دیا جائے تو یہ بھی کسی نعمت سے کم نہیں۔
دوسری جانب گورنمنٹ گرلز ہائی سکول میں بھی صورتحال مختلف نہ تھی۔ سکول کی چار دیواری کے گرد لگائی گئی خاردار تاریں کئی مقامات سے اکھڑی ہوئی اور بے ترتیب پڑی تھیں، جس سے سکول کی سکیورٹی کے حوالے سے بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔
“ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ سکولوں کی حالت زار کا فوری نوٹس لیا جائے، اساتذہ کی بروقت حاضری یقینی بنائی جائے اور بچوں کو محفوظ اور صاف ستھرا تعلیمی ماحول فراہم کیا جائے۔”
والدین نے وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات اور وزیراعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری سکولوں کو معیاری تعلیمی ادارے بنانے کے دعوے کرنے والے متعلقہ ذمہ داران سے بھی جواب طلبی کی جائے اور غفلت کے مرتکب افراد کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔
والدین کا کہنا ہے کہ اگر بنیادی مسائل ہی حل نہ کیے گئے تو بچوں کو معیاری تعلیم کی فراہمی کے دعوے کیسے پورے ہوں گے؟
ویلکم ٹو بیک ٹو سکول کے نعروں کے برعکس سرکاری سکولوں کی یہ صورتحال والدین کے لیے کئی سوالات چھوڑ گئی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ متعلقہ حکام محض دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کریں، تاکہ سرکاری سکولوں میں پڑھنے والے بچوں کو بھی صاف، محفوظ اور باعزت تعلیمی ماحول میسر آسکے۔
