دنیا میں اکثر یہ بات کی جاتی ہے کہ حجاب یا پردہ خواتین کی ترقی اور آگے بڑھنے کے راستے میں ایک بڑی رکاوٹ بنتا ہے۔ اسلام مخالف پروپیگنڈے سے متاثر ہو کر حجاب کو ہدفِ تنقید بنانا اور اسے بوجھ سمجھنا سوائے اسلام دشمنی اور مذہب بیزاری کے کچھ نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں حجاب کبھی بھی کسی خاتون کی ترقی اور کامیابی کی راہ میں مانع نہیں رہا۔ با پردہ اور حجاب کرنے والی خواتین دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھتی ہیں اور وہ ہمیشہ الگ الگ شعبوں میں حجاب کے ساتھ ہی سب سے آگے رہی ہیں۔ انہوں نے حجاب میں رہ کر ہمیشہ اہم اور صف اول کا کردار ادا کیا ہے اور اسے کبھی بھی اپنے کام یا پرواز میں رکاوٹ نہیں سمجھا اور نہ ہی یہ کبھی رکاوٹ بنا ہے۔
​اس کی سب سے تازہ اور روشن مثال سعودی عرب، مدینہ منورہ سے تعلق رکھنے والی پروفیسر ڈاکٹر نجلاء الردادی کی ہے۔ وہ جامعہ طیبہ سے وابستہ ایک باحجاب سائنسدان ہیں اور سال 2026 کے لیے دنیا کے دو فیصد ممتا ز سائنسدانوں کی فہرست میں شامل کی گئی ہیں۔ یہ عالمی اعزاز انہیں مسلسل پانچویں مرتبہ ملا ہے۔ ڈاکٹر نجلاء غیر نامیاتی کیمیا اور نینو ٹیکنالوجی کے شعبے میں تحقیق کرتی ہیں اور ان کا بنیادی کام ماحول دوست طریقوں سے نینو ذرات تیار کرنا اور ان کے سائنسی استعمالات کا مطالعہ کرنا ہے۔ یہ عالمی درجہ بندی اسٹینفورڈ یونیورسٹی اور ایلسویئر کے تحقیقی اشاریوں اور سائنسی کام کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ دنیا بھر کے بہترین دو فیصد سائنسدانوں میں مسلسل جگہ بنانا کوئی معمولی بات نہیں ہے اور مدینہ منورہ کی سرزمین سے تعلق رکھنے والی اس با حیا خاتون کی یہ کامیابی دنیا پر واضح کرتی ہے کہ حجاب میں رہتے ہوئے بھی سائنسی دنیا کی بلند ترین سطح تک پہنچا جا سکتا ہے۔
​اگر ہم تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان خواتین نے ہر دور میں پردے اور حیا کے دائرے میں رہتے ہوئے ایسے تاریخ ساز کام کیے ہیں جن کی مثال دنیا آج بھی دیتی ہے۔ دنیا کی سب سے پہلی یونیورسٹی یعنی “جامعہ القرویین” کی بنیاد نویں صدی میں فاطمہ الفہری نامی ایک باحجاب اور باہمّت مسلمان خاتون نے رکھی تھی، جو آج بھی دنیا کی قدیم ترین فعال یونیورسٹی مانی جاتی ہے۔ اسی طرح دسویں صدی عیسوی میں مریم العجلیہ نامی خاتون نے اسٹرولاب جیسا پیچیدہ فلکیاتی آلہ تیار کرنے میں مہارت حاصل کی اور سائنسی دنیا میں اپنا لوہا منوایا۔ اسلام کے ابتدائی دور میں بھی حضرت رفیدہ الاسلمیہؓ نے پہلی نرس اور طبیب کے طور پر خیمے قائم کر کے زخمیوں کے علاج معالجے کا ایک پورا نظام قائم کیا اور انسانیت کی خدمت کی۔
​اگر ہم موجودہ اور جدید دور کی بات کریں تو بھی باحجاب خواتین ہر محاذ پر مردوں کے شانہ بشانہ اور بعض جگہوں پر ان سے بھی آگے دکھائی دیتی ہیں۔ پاکستان سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر شہناز لغاری دنیا کی پہلی باحجاب پائلٹ بنیں جن کا نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں درج ہوا اور انہوں نے جہاز اڑا کر یہ ثابت کیا کہ حجاب پہن کر بھی آسمان کی بلندیوں کو چھوا جا سکتا ہے۔ اسی طرح خلا کے سفر سے لے کر دنیا کے سب سے نامور ہسپتالوں میں نازک ترین سرجریاں کرنے والی ڈاکٹرز، سکولوں اور یونیورسٹیوں میں نسلوں کی تربیت کرنے والی اساتذہ، اور دنیا کے مختلف ممالک کی پارلیمان میں قانون سازی کرنے والی سیاستدان خواتین تک، سب نے اپنے اپنے میدان عمل میں کامیابی حاصل کی ہے۔
​ان تمام سچی اور کھلی مثالوں سے یہ بات بالکل روزِ روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ حجاب کسی بھی عورت کو اپنے خواب پورے کرنے اور آگے بڑھنے سے ہرگز نہیں روکتا۔ حجاب کو بیجا تنقید کا نشانہ بنانا اور اسے ترقی کے راستے میں رکاوٹ قرار دے کر خواتین کو پیچھے دھکیلنا صرف اور صرف اسلام فوبیا ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ حجاب کو ترقی کے نام نہاد بیانیے کے ساتھ جوڑنا ان تمام باحجاب خواتین کے ساتھ سراسر ناانصافی اور زیادتی ہے جو اپنے مذہب، اپنے لباس اور اپنی ثقاقتی اقدار کے دائرے میں رہ کر دنیا بھر میں اپنی کامیابیوں کے پرچم گاڑ رہی ہیں۔ لباس اور شناخت کی بنیاد پر کسی خاتون کو مواقع سے محروم رکھنا یا اس کی صلاحیتوں کا انکار کرنا ایک تعصب ہے جو اب دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *