تحریر: ـــــــــاخترصدیقی ۔۔۔۔۔۔
ہمارے معاشرے میں ایک عام تاثر پایا جاتا ہے کہ اگر باپ قرض چھوڑ کر مر جائے تو بیٹا اس قرض کا ذمہ دار ہے۔ بینک بھی اسی تاثر کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اکثر مرنے والے کے معصوم ورثاء کو عدالتوں میں گھسیٹ لاتے ہیں۔ ان کے گھروں پر نوٹس لگتے ہیں، ان کے ذاتی اکاؤنٹس روکنے کی کوشش کی جاتی ہے، اور انہیں اس قرض کی ادائیگی پر مجبور کیا جاتا ہے جس کا انہوں نے کبھی فائدہ ہی نہیں اٹھایا۔ اسی فرسودہ سوچ پر لاہور ہائیکورٹ نے ایک تاریخی فیصلہ دے کر کاری ضرب لگائی ہے۔
لاہور ہائیکورٹ کے دو رکنی بنچ جسٹس چودھری سلطان محمود اور جسٹس تنویر احمد شیخ نے ایک نہایت اہم قانونی نکتے کو واضح کر دیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ مرحوم کے ورثاء ذاتی طور پر قرض کی ادائیگی کے ذمہ دار نہیں ہیں۔
فیصلے کی کہانی کچھ یوں ہے کہ ایک نجی بینک نے ایک شخص کو قرض دیا، جس کے عوض اس کی جائیداد رہن رکھوائی۔ قرض دار وفات پا گیا۔ بینک نے چالاکی یہ کی کہ قرض دار کی وفات کے بعد قرض کی تجدیدی دستاویزات تیار کر کے اس کی ساری ذمہ داری اس کے ورثاء پر ڈال دی۔ بینکنگ کورٹ نے بھی بینک کے حق میں فیصلہ دے دیا۔
مگر ہائیکورٹ نے اس فیصلے کو پلٹ دیا۔ چار صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس چودھری سلطان محمود نے تحریر کیا جس میں دو ٹوک الفاظ میں کہا گیا کہ ورثاء کی ذاتی ذمہ داری اور انہیں وراثت میں ملنے والی رہن شدہ جائیداد کی قانونی حیثیت دو الگ الگ معاملات ہیں۔
عدالت نے دو اہم اصول طے کیے ہیں:ایک اصول یہ طے کیاہے محض اس بنیاد پر کہ کوئی شخص مرحوم کا قانونی جانشین ہے، اسے ذاتی طور پر قرض کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ خاص طور پر ایسی تجدیدی دستاویزات کی بنیاد پر جو قرض دار کی وفات کے بعد تیار کی گئی ہوں، ورثاء کو پابند نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ایک غیر قانونی عمل ہے۔دوسرایہ کہ قرض دار کی وفات سے اس کی زندگی میں رہن رکھی گئی جائیداد پر بینک کا حق ختم نہیں ہوتا۔ بینک کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اصل رہن نامے کے تحت اسی رہن شدہ جائیداد سے اپنا قرض وصول کرے۔
یہ فیصلہ دراصل شریعت اور قانون دونوں کے عین مطابق ہے۔ اسلامی قانون میں بھی ورثاء اپنی ذاتی جیب سے قرض ادا کرنے کے پابند نہیں، بلکہ قرض مرحوم کے ترکہ سے ادا کیا جائے گا۔ اگر ترکہ ہی وہ رہن شدہ جائیداد ہے تو بینک اسے بیچ کر اپنا قرض وصول کر سکتا ہے، لیکن وہ مرنے والے کے بیٹے کی ذاتی جائیداد، اس کی تنخواہ یا اس کے بینک اکاؤنٹ کو نہیں چھو سکتا۔
لاہور ہائیکورٹ نے بینک کی اپیل کو جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے بینکنگ کورٹ کے فیصلے میں ترمیم کر دی ہے۔ اب بینک رہن شدہ جائیداد سے تو قرض وصول کر سکے گا، مگر ورثاء کو ذاتی طور پر دیوالیہ نہیں کر سکے گا۔
یہ فیصلہ ہزاروں ایسے خاندانوں کے لیے امید کی کرن ہے جو اپنے مرحوم والدین کے قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے تھے۔ یہ فیصلہ بینکوں کو بھی یہ پیغام دیتا ہے کہ قرض دیتے وقت مقروض کی زندگی میں ہی تمام قانونی تقاضے پورے کریں، اس کی وفات کے بعد کاغذی کارروائی سے ورثاء کو پھنسانے کی کوشش نہ کریں۔
