کمر توڑ مہنگائی نے غریب عوام کی زندگی اس حد تک اجیرن کر دی ہے کہ اب بنیادی انسانی ضروریات کی فراہمی بھی ایک ناممکن خواب بن کر رہ گئی ہے۔ ایک طرف اشیائے خورد و نوش کی قیمتیں مسلسل آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، تو دوسری طرف پٹرولیم مصنوعات کے متواتر اضافے اور اس کے نتیجے میں پھیلنے والی گرانی نے ملک بھر میں تعمیراتی سلسلے کو بھی بالکل روک کر رکھ دیا ہے۔ سریا، سیمنٹ اور دیگر تمام تعمیراتی مٹیریل کی قیمتیں تقریباً دگنی ہو چکی ہیں، جس کے باعث عوام شدید مالی بدحالی، ذہنی تناؤ اور بے پناہ پریشانی کا شکار ہو چکے ہیں۔
حکومت کی جانب سے سو روپے فی لیٹر پٹرول ریلیف کا جو اعلان کیا گیا ہے، وہ اپنی جگہ ایک اقدام سہی، لیکن یہ سہولت بھی صرف اور صرف موٹر سائیکل اور آٹھ سو سی سی انجن والی گاڑیوں کے مالک افراد تک محدود رکھی گئی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا صرف فیول کی مد میں یہ محدود ریلیف دینے سے مہنگائی کے مجموعی اور بھیانک اثرات ختم ہو سکتے ہیں اور پھر ان بے شمار لوگوں کا کیا بنے گا جنہیں یہ ریلیف بھی نہیں مل رہا ان پر تو گویا دگنا عذاب نازل ہو چکا ہے۔ اگر پٹرول کی اس ریلیف کی بات کی جائے، تو اس سے صرف پٹرول کی حد تک تو موٹر سائیکل یا آٹھ سو سی سی والوں کو سو روپے کی بچت مل جائے گی، لیکن کیا اس ایک اقدام سے باقی تمام روزمرہ کی اشیاء کی قیمتیں کم ہو جائیں گی ایسا بالکل اور ہرگز نہیں ہے
اگر ہم کھانے پینے کی بنیادی اشیاء کا جائزہ لیں، تو اس وقت آٹے کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ بیس کلو آٹے کا تھیلا اس وقت کم از کم پینتیس سو روپے میں مل رہا ہے، جبکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے قبل دس اور بیس کلو کی بوریوں کی قیمت ساڑھے سات سو، آٹھ سو اور پندرہ سو روپے کے لگ بھگ ہوا کرتی تھی، جو اب بڑھ کر پینتیس سو روپے سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔ اسی طرح ٹماٹر کی قیمت پر نظر ڈالیں، تو جو ٹماٹر پہلے چالیس سے پچاس روپے فی کلو آسانی سے مل جاتا تھا، وہ اب سو روپے سے اوپر جا چکا ہے۔ گھی اور برانڈڈ تیل کی قیمتیں چھ سو روپے فی لیٹر سے بھی زائد ہو چکی ہیں، جس نے عام آدمی کے لیے دو وقت کا کھانا پکانا بھی محال کر دیا ہے۔
دوسری طرف اگر تعمیراتی شعبے اور مکان کی تعمیر پر آنے والے اخراجات کو دیکھا جائے، تو جو سریا پہلے دو لاکھ ۱۰ سے ۱۵ ہزار روپے فی ٹن ملتا تھا، وہ اس وقت بڑھ کر ڈھائی لاکھ روپے فی ٹن تک پہنچ چکا ہے۔ سیمنٹ کی جو بوری ساڑھے گیارہ سو روپے کی ہوا کرتی تھی، اب اس کی قیمت پندرہ سو روپے تک جا پہنچی ہے۔ یہی ابتر حال مٹی، ریتی اور دیگر بنیادی تعمیراتی سامان کا ہے۔ مزید برآں، مستری اور مزدور کی روزانہ کی مزدوری جو پہلے تین ہزار کے قریب تھی، اب بڑھ کر پانچ ہزار روپے تک پہنچ چکی ہے۔
اس کمر توڑ اور بے لگام مہنگائی کے باعث حالات اس ڈراؤنے موڑ پر آ پہنچے ہیں کہ عوام نہ تو صحیح طریقے سے پیٹ بھر کر روٹی کھا سکتے ہیں اور نہ ہی اپنے لیے ایک چھوٹا سا چھت یا مکان بنانے کا سوچ سکتے ہیں۔ جو لوگ اپنی زندگی کی تمام جمع پونجی لگا کر اپنا ایک ذاتی مکان بنانے کا خواب دیکھ رہے تھے، وہ قیمتوں میں اس غیر معمولی اور اچانک اضافے کی وجہ سے انتہائی پریشانی اور کسمپرسی کی حالت میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ اب ان حالات میں وہ نیا مکان بنانے کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔
حقیقت یہ ہے کہ ان تمام چیزوں کی مہنگائی ازخود نہیں ہوئی، بلکہ اس میں کم و بیش اسی فیصد بنیادی کردار پٹرولیم مصنوعات کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں کا ہے۔ کیونکہ جب بھی پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھتی ہیں، تو اس کا اثر سیدھا ٹرانسپورٹ اور مال برداری کے کرایوں پر پڑتا ہے، جس سے ہر چیز کی قیمت فوراً دگنی ہو جاتی ہے اور آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہےاور مارکیٹ میں اس من مانی کو پوچھنے والا کوئی نہیں ہوتا۔
سب سے بڑا دردِ سر اور ستم ظریفی عوام کے لیے یہ ہے کہ جب پٹرول مہنگا ہوتا ہے تو تمام اشیاء پر اس کا تمام تر بوجھ فوراً ڈال دیا جاتا ہے، لیکن اگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں واپس نیچے آ بھی جائیں، تب بھی مقامی سطح پر اضافہ شدہ قیمتیں ہرگز واپس نہیں آتیں۔ عوام مسلسل اس بوجھ تلے پستے چلے جا رہے ہیں اور کوئی ان کی داد رسی کرنے والا نہیں ہے۔
اس تمام تر صورتحال میں، حکومت کی جانب سے سو روپے فی لیٹر کی ریلیف بظاہر ایک خوش آئند اور مستحسن اقدام ضرور ہے، لیکن عوام اس حوالے سے سخت پریشان ہیں کہ اس سے ان کی مہنگائی کی تمام تر مشکلات ختم نہیں ہو سکتیں۔ عوام کو حقیقی معنوں میں ریلیف تبھی ملے گا جب حکومت ہر سطح پر تمام چیزوں کی قیمتوں کو کنٹرول کرے اور انہیں ارزاں بنائےخواہ وہ کھانے پینے کی اشیاء ہوں، پہننے کا کپڑا ہو یا تعمیرات کا سامان۔ حکومت کو ہر حوالے سے اس پر خصوصی اور ہنگامی اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ پٹرول کی قیمتوں کا بہانا بنا کر عوام کو مزید پریشانی میں نہ مبتلا کیا جائے۔
اس کا سب سے بہترین اور پائیدار حل یہ ہے کہ حکومت مخصوص آٹھ سو سی سی گاڑیوں یا موٹر سائیکل والوں کو سبسڈی یا ریلیف دینے کے بجائے براہ راست پٹرولیم مصنوعات ہی کی عمومی قیمت میں سو روپے کی کمی کر دے۔ اس کا فائدہ پورے ملک کے تمام شہریوں کو بلا تفریق پہنچے گا، کرایوں میں کمی آئے گی، اشیائے خورد و نوش اور تعمیراتی مٹیریل سستا ہوگا، اور یہ حکومت کی طرف سے ایک انتہائی زبردست، مفید اور مستحسن اقدام ثابت ہوگا۔
اگر عالمی منڈی کا جائزہ لیا جائے تو فی بیرل تیل کی قیمت اس وقت ایک سو سات ڈالر کی اونچی سطح تک پہنچ چکی ہے، تاہم معاشی تجزیہ کاروں اور ماہرین کے نزدیک آنے والے ایک دو مہینوں میں یہ قیمتیں گھٹ کر لگ بھگ پچانوے ڈالر فی بیرل تک آ سکتی ہیں۔ اس وقت پاکستان میں پٹرول کی قیمت 386 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 396 روپے فی لیٹر کے قریب فروخت ہو رہا ہے۔ لہٰذا، اگر حکومت عالمی مارکیٹ کے ان متوقع رجحانات کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری طور پر مقامی سطح پر پٹرولیم قیمتوں میں براہ راست نمایاں کمی کرے، تو اس سے نہ صرف مہنگائی کا اثر کم کرنے میں فوری مدد ملے گی بلکہ غریب اور متوسط عوام کو سانس لینے کا موقع ملے گااور یہ فیصلہ حکومت کے لیے بھی سیاسی اور معاشی طور پر انتہائی مفید ثابت ہوگا
