کسی بھی قوم اور معاشرے کے لیے اس کے بچے سب سے قیمتی اثاثہ اور مستقبل کی امید ہوتے ہیں۔ والدین اپنے جگر گوشوں کو اسکول اس امید کے ساتھ بھیجتے ہیں کہ وہ وہاں علم کا نور حاصل کریں گے اور اپنے روشن مستقبل کی بنیاد رکھیں گے۔ لیکن جب وہی اسکول جہاں سے علم و شعور کی کرنیں پھوٹنی چاہئیں، انتظامیہ کی مجرمانہ لاپرواہی اور بے حسی کی وجہ سے معصوموں کی قربان گاہ بن جائے تو پورے معاشرے کی روح کانپ اٹھتی ہے۔ گزشتہ روزپشاور کے علاقے دیر کالونی کےنجی اسکول الخیر ایجوکیشن سینٹر میں پیش آنے والا دلخراش واقعہ ایک ایسا ہی لرزہ خیز سانحہ ہے جس نے نہ صرف متاثرہ خاندانوں کو تا حیات نہ بھولنے والا غم دیا بلکہ ہمارے تعلیمی نظام، حکومتی اداروں اور انسانی رویوں پر بھی کئی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
​علم کا مرکز کوئی تجارتی دکان یا پیسے کمانے کا کاروبار نہیں ہوتا جہاں صرف ماہانہ فیسوں کے وصول کرنے اور منافع بڑھانے پر توجہ دی جائے۔ یہ ایک مقدس جگہ ہوتی ہے جہاں انسانی جانوں کی حفاظت اور ان کی تربیت کی ذمہ داری اسکول انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے۔ مگر انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج کل عصری تعلیمی ادارے علم کے فروغ سے زیادہ ایک منافع بخش کاروبار میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ مذکورہ نجی اسکول میں بھی یہی قبیح سوچ غالب رہی، جہاں بچوں کی حفاظت اور عمارت کی بنیادی دیکھ بھال کو مکمل طور پر پسِ پشت ڈال دیا گیا۔ عمارت کی حالت دن بہ دن زبوں حالی کا شکار ہو رہی تھی، مگر انتظامیہ کی تمام تر توجہ صرف پیسے بٹورنے اور اپنے مالی مفادات حاصل کرنے پر مرکوز رہی۔
​اس خستہ حال عمارت کی بدتر صورتحال کوئی ایسی راز کی بات نہیں تھی جو اچانک سامنے آئی ہو۔ اسکول میں پڑھانے والے ٹیچرز اور وہاں زیرِ تعلیم بچوں نے خود کئی بار اسکول انتظامیہ کی توجہ چھت کی زبوں حالی، دیواروں کی دراڑوں اور مخدوش ساخت کی طرف دلائی تھی۔ انہوں نے بارہا خبردار کیا تھا کہ یہ عمارت کسی بھی وقت ایک بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہے اور یہاں پڑھنا اپنی زندگی کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ لیکن افسوس کہ ان کی پکار اور بار بار کی نشاندہی کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا۔ انتظامیہ کی اس بے حسی، غفلت اور مجرمانہ تغافل کے نتیجے میں آخر کار وہی خوفناک دن آ ہی گیا جب عمارت کی چھت دھڑام سے نیچے آگری اور درجنوں معصوم بچے اور اساتذہ ملبے تلے دب گئے۔
​اس لرزہ خیز واقعے کا ذمہ دار صرف اسکول کا مالکانہ طبقہ یا مقامی انتظامیہ ہی نہیں ہے، بلکہ حکومتی ادارے بھی برابر کے شریک اور قصوروار ہیں۔ جن حکومتی اداروں، محکمہ تعلیم اور بلڈنگ کنٹرول اتھارٹیز کی یہ بنیادی ذمہ داری تھی کہ وہ پرائیویٹ اور سرکاری اسکولوں کی عمارتوں کا باقاعدگی سے معائنہ کریں، ان کے حفاظتی معیار کو پرکھیں اور نااہل و غیر محفوظ اداروں کے خلاف سخت ایکشن لیں، وہ مکمل طور پر اپنی نیند سوتے رہے۔ اگر ان اداروں نے بروقت اپنے فرائض سرانجام دیے ہوتے، باقاعدگی سے اسکولوں کا حفاظتی آڈٹ کیا ہوتا اور عمارت کی معیار و مضبوطی کی تسلی کی ہوتی تو آج یہ معصوم بچے اپنے والدین کی گود میں مسکرا رہے ہوتے اور یہ اندوہناک سانحہ کبھی رونما نہ ہوتا۔
​حکومتی اداروں کی عدم توجہی اور نگرانی کے ناقص نظام نے ایسے غیر قانونی اور غیر محفوظ اسکولوں کو بلا خوف و خطر چلنے کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔ حادثے کے بعد رسمی تحققات کی کمیٹیاں قائم کر دینا یا چند لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کر لینا کافی نہیں ہے۔ جب تک ان تمام حکومتی افسران اور اداروں کا محاسبہ نہیں کیا جاتا جنہوں نے رشوت، سفارشت یا سستی کی بنا پر اس خستہ حال عمارت کو اسکول کے طور پر استعمال ہونے دیا، تب تک ایسے واقعات کا سدِباب ممکن نہیں ہو سکتا۔
​ہمیں بطورِ معاشرہ بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ معصوم بچوں کی جانیں کوئی کھیل یا تجارتی سامان نہیں ہیں جنہیں منافع خوری کی بھینٹ چڑھا دیا جائے۔ اگر اب بھی حکومت، متعلقہ حکام اور تعلیمی انتظامیہ نے اس واقعے سے سبق نہ سیکھا اور ملک بھر کے تمام تعلیمی اداروں کی عمارتوں کا فوری طور پر جامع و معیاری جائزہ لے کر سخت حفاظتی اقدامات نافذ نہ کیے، تو ہم آئندہ بھی ایسے سانحات کا ماتم کرتے رہیں گے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ نہ صرف اسکول کے ذمہ داران بلکہ غفلت برتنے والے تمام متعلقہ سرکاری اہلکاروں کو سخت سے سخت سزا دے تاکہ آئندہ کوئی بھی ادارہ معصوم جانوں سے کھیلنے کی جرات نہ کر سکے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *