​آج کے دور میں مشرقِ وسطیٰ جس تشویشناک اور نازک صورتحال سے گزر رہا ہے، اس نے نہ صرف اس پورے خطے بلکہ دنیا بھر کے امن و سکون کو سخت خطرے میں ڈال دیا ہے۔ آئے دن بڑھتی ہوئی جنگی کشیدگی اور بالخصوص حرمین شریفین سمیت دیگر مقدس مقامات پر ہونے والے حملوں کے واقعات نے ہر حساس انسان کو گہرے رنج اور دکھ میں مبتلا کر دیا ہے۔ ان حالات کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ عوام سے لے کر ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت تک، تمام طبقے شدید غم و غصے اور تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس انتہائی اہم اور حساس موڑ پر پاکستان کی طرف سے ایک بہت ہی واضح، سنجیدہ اور بنیادی موقف سامنے آیا ہے، جس کا مقصد خطے میں جاری کشیدگی کو روکنا اور امن کی راہ ہموار کرنا ہے۔
​پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل، لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے گزشتہ روز ایک اہم عرب ٹی وی کو دیے گئے اپنے انٹرویو میں پاکستان کا نقطہ نظر انتہائی سادہ، صاف اور دوٹوک انداز میں پیش کیا ہے۔ انہوں نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے یہ بات واضح کی کہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کو مزید پھیلانا یا جنگ کا دائرہ بڑھانا کسی بھی ملک، قوم یا ریاست کے مفاد میں نہیں ہے۔ تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ جنگوں سے کبھی بھی مسائل حل نہیں ہوتے، بلکہ ان کا نتیجہ صرف اور صرف بے گناہ شہریوں کی تباہی، مالی نقصان اور انسانی جانوں کے ضیاع کی صورت میں نکلتا ہے۔ اس لیے تمام تر مسائل کا واحد اور پائیدار حل یہی ہے کہ تمام فریقین لڑائی کا راستہ چھوڑ کر بات چیت کی میز پر آئیں اور پرامن انداز میں مذاکرات کے ذریعے کسی منطقی اور مثبت نتیجے پر پہنچیں۔
​اس پورے تناظر میں یہ بات سمجھنا نہایت ضروری ہے کہ پاکستان کے لیے حرمین شریفین کا تحفظ اور سعودی عرب کی خودمختاری و علاقائی سالمیت سب سے پہلی ترجیح کی حیثیت رکھتی ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات لفظی یا سفارتی نوعیت کے نہیں ہیں، بلکہ یہ عقیدت، باہمی احترام اور گہرے رشتہِ محبت پر مبنی ہیں۔ ترجمان پاک فوج کے مطابق حرمین شریفین کی حفاظت پر پاکستان کسی بھی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتا اور یہ ہماری پالیسی کا سب سے بنیادی جزو ہے۔ مقدس مقامات اور سعودی عرب کی سرزمین پر ہونے والے کسی بھی حملہ یا کوشش پر پاکستان کے عوام، عسکری ادارے اور حکومت سب یکساں طور پر غمزدہ ہیں اور ان میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
​پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدوں اور مکہ اتحاد کے بارے میں پھیلی غلط فہمیوں کو دور کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے یہ بات زور دے کر کہی کہ یہ اتحاد کسی بھی ملک کے خلاف جنگ چھیڑنے یا کسی پر حملے کے مقصد سے قائم نہیں کیا گیا۔ اس اتحاد کا اصل اور بنیادی مقصد صرف اور صرف مسلمان ممالک میں امن، استحکام اور سلامتی کو فروغ دینا ہے۔ مکہ الائنس دنیا کو یہ واضح پیغام دیتا ہے کہ مسلمان ممالک کو آپس میں لڑنے، ایک دوسرے کے خلاف طاقت استعمال کرنے یا الجھنے کے بجائے ایک دوسرے کا ساتھ دینا چاہیے اور متحد ہو کر خطے کی خوشحالی کے لیے کام کرنا چاہیے۔
​اگر ہم غیر جانبداری سے جائزہ لیں تو یہ حقیقت کھلی کتاب کی طرح عیاں ہے کہ جب بھی مذاکرات کی کوششیں ناکام ہوتی ہیں یا بات چیت کے دروازے بند کیے جاتے ہیں، تو اس کا لازمی نتیجہ فوجی تصادم کی صورت میں نکلتا ہے۔ طاقت کے بل بوتے پر کوئی بھی فریق اپنے تمام مطالبات نہیں منوا سکتا اور اس کا نقصان بالاخر عام اور معصوم لوگوں کو ہی بھگتنا پڑتا ہے۔ ترجمان پاک فوج کی یہ بات انتہائی معقول اور وزنی ہے کہ اگر لڑائی اسی طرح بڑھتی رہی تو اس سے کسی کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔ اس لیے تمام فریقین کو چاہیے کہ وہ اپنی ضد چھوڑ کر پرامن حل کی طرف پیش قدمی کریں۔
​سعودی عرب کو فراہم کی جانے والی فوجی معاونت اور تعاون کے حوالے سے انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان پہلے سے موجود طے شدہ معاہدوں کی روشنی میں سعودی عرب کو ضروری فوجی کمک اور معاونت فراہم کر رہا ہے تاکہ وہاں کا دفاع مضبوط رہے۔ تاہم، اگر آئندہ کے لیے براہِ راست فوجی مدد یا کسی اور قسم کی باضابطہ درخواست موصول ہوتی ہے، تو پاکستان کا آئینی اور سیاسی نظام اپنے حالات، وسائل اور ملکی مفادات کا بغور جائزہ لے کر اس پر مناسب اور آئینی فیصلہ کرے گا۔
​آج کی موجودہ اور نازک صورتحال ہم سے اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ہم جذباتی فیصلے کرنے کے بجائے عقل، تدبر، حکمتِ عملی اور یکجہتی کو اپنائیں۔ پاکستان کا موقف بالکل صاف اور شفاف ہے کہ مسلمانوں کی حقیقی طاقت اور ان کا بقا باہمی اتحاد، امن اور سلامتی میں ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے خطے میں امن قائم کیے بغیر عالمی سطح پر بھی سکون اور ترقی کی فضا قائم نہیں کی جا سکتی۔ اس لیے عالمی برادری، اقوامِ متحدہ اور تمام اسلامی ممالک کو چاہیے کہ وہ ہنگامی بنیادوں پر اس کشیدگی کو ختم کرانے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔ جنگ مسائل کو مزید الجھاتی ہے، جبکہ فہم و فراست، آپس کی یکجہتی اور مثبت بات چیت سے بڑے سے بڑے تنازع کو باآسانی حل کیا جا سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *