بہاولنگر میں سیوریج کا نظام درہم برہم، واسا اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی سوالات کی زد میں
بہاولنگر کے محلہ اسلام نگر کی مین گلی میں سیوریج کا گندا پانی جمع، مین ہولز کے ڈھکن ٹوٹ پھوٹ کا شکار، مگر متعلقہ ادارے تاحال عملی اقدامات کے حوالے سے سوالات کی زد میں ہیں۔
گندے پانی اور ٹوٹے ہوئے مین ہولز کے باعث شہریوں کو آمدورفت میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ کسی بھی وقت حادثہ پیش آنے کا خدشہ موجود ہے۔
سوال یہ ہے کہ واسا اور میونسپل کمیٹی کے ذمہ داران کب تک خاموش تماشائی بنے رہیں گے؟ بہاولنگر کے شہری کب تک بنیادی سہولیات سے محروم رہیں گے؟ اور عوامی مسائل کے حل میں تاخیر پر جواب دہی کون کرے گا؟
اہلِ علاقہ نے ڈپٹی کمشنر بہاولنگر، واسا حکام اور میونسپل کمیٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری نوٹس لیتے ہوئے گندے پانی کی نکاسی، ٹوٹے ہوئے مین ہولز کی مرمت اور مستقل حل یقینی بنایا جائے۔ اگر کسی افسر یا اہلکار کی غفلت ثابت ہو تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
شہریوں کو محض یقین دہانیاں نہیں، عملی اقدامات درکار ہیں۔ آخر بہاولنگر کے عوام کو ان بنیادی مسائل سے کب نجات ملے گی؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *