بھارت میں امتحانی نظام سے متعلق تنازعات اور طلبہ کے مسلسل احتجاج کے بعد مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔
رپورٹس کے مطابق حالیہ ہفتوں میں ملک کے مختلف حصوں، خصوصاً نئی دہلی اور دیگر بڑے شہروں میں طلبہ نے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں اور پیپر لیک کے الزامات کے خلاف مظاہرے کیے۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ ذمہ دار عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے اور تعلیمی نظام میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔
اطلاعات کے مطابق احتجاجی مظاہروں میں بڑی تعداد میں طلبہ شریک ہوئے، جبکہ بعض مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان کشیدگی بھی دیکھنے میں آئی۔ حالات پر قابو پانے کے لیے سکیورٹی انتظامات سخت کیے گئے۔
اپنے استعفے کے اعلان میں دھرمیندر پردھان نے کہا کہ وہ قومی مفاد، طلبہ کے مستقبل اور موجودہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے وزارت سے الگ ہونے کا فیصلہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ جاری کشیدگی سے کسی بھی قسم کے منفی عناصر فائدہ اٹھائیں یا تعلیمی ماحول مزید متاثر ہو۔ سابق وزیرِ تعلیم نے وزیراعظم اور حکومتی قیادت کی جانب سے ملنے والے اعتماد پر شکریہ بھی ادا کیا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کی رائے میں یہ پیش رفت حکومت کے لیے ایک اہم سیاسی چیلنج کے طور پر دیکھی جا رہی ہے، کیونکہ طلبہ کے احتجاج نے تعلیمی نظام میں شفافیت، احتساب اور اصلاحات سے متعلق بحث کو مزید تیز کر دیا ہے۔
نوٹ: اس خبر میں شامل دعوے متعلقہ میڈیا رپورٹس اور دستیاب معلومات پر مبنی ہیں، جن کی سرکاری سطح پر تصدیق یا تردید متعلقہ بھارتی حکام کی جانب سے کی جا سکتی ہے۔
