جنگ ختم کرنے کا فیصلہ امریکا کو کرنا ہوگا، ایرانی صدر پزشکیان

واشنگٹن: ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ تہران امریکا کے ساتھ جنگ کو مزید جاری رکھنے کا خواہاں نہیں اور اگر تنازع کا خاتمہ مقصود ہے تو اس حوالے سے فیصلہ واشنگٹن کو کرنا ہوگا۔ انہوں نے یہ بات امریکی نشریاتی ادارے Fox News کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کہی۔

مسعود پزشکیان نے کہا کہ اگر ممالک اپنے اختلافات بات چیت اور سفارتی ذرائع سے حل کرسکتے ہیں تو ایک دوسرے کی جان لینے کی ضرورت نہیں رہتی۔ ایرانی صدر کے مطابق ایران نے جنگ کا انتخاب نہیں کیا، بلکہ ان کے بقول اسرائیل کی کارروائیوں اور اشتعال انگیزی کے نتیجے میں یہ صورتحال پیدا ہوئی۔

ایرانی صدر نے واضح کیا کہ تہران جنگ کو مزید آگے بڑھانا نہیں چاہتا اور امریکا کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ موجودہ تنازع کو ختم کرنے کے لیے کیا راستہ اختیار کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران امریکا کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے تک پہنچنے پر بھی آمادہ ہے۔

ایران امریکا سے معاہدے کے لیے تیار ہے

پزشکیان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ کسی ممکنہ معاہدے کے حوالے سے بھی آمادگی ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ ایران پہلے بھی واشنگٹن کے ساتھ ایک سمجھوتے تک پہنچ چکا تھا اور تہران اب بھی مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے تیار ہے۔

ایرانی صدر نے جون میں طے پانے والے ایک مفاہمتی فریم ورک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ایک معاہدہ ہوا تھا، تاہم بعد میں یہ عمل آگے نہ بڑھ سکا۔ ان کے مطابق ایران اب بھی سفارتی ذرائع سے مسئلے کے حل کے لیے بات چیت کا خواہاں ہے۔

پزشکیان کا کہنا تھا کہ کسی بھی نئے معاہدے کے لیے بین الاقوامی قوانین اور قانونی فریم ورک کو مدنظر رکھنا ضروری ہوگا۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ اگر امریکا اسی دائرہ کار میں رہتے ہوئے مذاکرات آگے بڑھانا چاہتا ہے تو ایران اس عمل میں شریک ہونے کے لیے تیار ہے۔

امریکی انتخابات سے ایران کے مؤقف پر فرق نہیں پڑے گا

ایرانی صدر نے امریکا کے وسط مدتی انتخابات کے حوالے سے بھی بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے لیے یہ بنیادی اہمیت نہیں رکھتا کہ واشنگٹن کے ساتھ معاہدہ امریکی انتخابات سے پہلے ہوتا ہے یا بعد میں۔

پزشکیان کے مطابق اگر موجودہ امریکی حکومت بین الاقوامی قانونی اصولوں کے تحت معاہدہ کرنا چاہتی ہے تو ایران مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم تہران اپنے فیصلوں کو امریکی انتخابی شیڈول سے مشروط نہیں کرے گا۔

جوہری پروگرام پر بھی ایرانی صدر کا مؤقف

Fox News کے انٹرویو کے دوران مسعود پزشکیان نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق سوالات کا بھی جواب دیا۔ انہوں نے جوہری ہتھیار بنانے کی خواہش کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے بین الاقوامی تصدیق کے لیے تعاون کرسکتا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران یورینیم کی افزودگی سے متعلق بعض اقدامات میں کمی اور بین الاقوامی نگرانی کے لیے آمادگی رکھتا ہے، تاہم تہران پر دباؤ اور پابندیوں کو مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ قرار دیا۔

جنگ بندی کے لیے سفارت کاری پر زور

ایرانی صدر کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے اور مستقبل کے کسی معاہدے کے حوالے سے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان جنگ، جوہری پروگرام، پابندیوں اور دیگر معاملات پر اختلافات برقرار ہیں، تاہم پزشکیان نے اپنے انٹرویو میں مذاکرات کے ذریعے حل کی گنجائش موجود ہونے کا اشارہ دیا ہے۔

پزشکیان نے ایک مرتبہ پھر کہا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا اور اگر معاملات بات چیت کے ذریعے حل ہوسکتے ہیں تو فوجی تصادم کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دی جانی چاہیے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی حالیہ بیانات میں ایران کے ساتھ کسی ممکنہ معاہدے کا ذکر کرچکے ہیں، تاہم واشنگٹن اور تہران کے درمیان بنیادی اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *