بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام میں مسلسل مون سون بارشوں کے باعث سیلابی صورتحال انتہائی سنگین ہو گئی ہے، جس سے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
حکام کی جانب سے جاری ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق سیلاب سے اب تک کم از کم 50 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جبکہ تقریباً سات لاکھ افراد اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔
دریائے برہم پترا میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہونے کے باعث سینکڑوں دیہات زیرِ آب آ گئے ہیں۔ متاثرہ علاقوں سے بڑی تعداد میں لوگوں کو محفوظ مقامات اور سرکاری امدادی مراکز منتقل کیا گیا ہے، جہاں انہیں خوراک، پینے کا پانی اور دیگر بنیادی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔
کئی دور دراز علاقوں میں زمینی راستے منقطع ہونے کے باعث امدادی سامان ہیلی کاپٹروں کے ذریعے پہنچایا جا رہا ہے، جبکہ ریسکیو ٹیمیں متاثرین کو محفوظ مقامات تک منتقل کرنے میں مصروف ہیں۔
ریاستی دارالحکومت گوہاٹی سمیت مختلف شہروں میں سڑکیں اور نشیبی علاقے زیرِ آب آنے سے ٹریفک کا نظام بری طرح متاثر ہوا ہے۔ متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے اور دریا میں پانی کی بلند سطح برقرار رہنے کے باعث آئندہ چند روز تک صورتحال مزید چیلنجنگ رہ سکتی ہے، اسی لیے امدادی کارروائیاں اور حفاظتی اقدامات تیز کر دیے گئے ہیں۔
