ایران نے تصدیق کی ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حمل کو مزید مؤثر، محفوظ اور منظم بنانے کے لیے عمان کے ساتھ مشترکہ بحری راہداری کے قیام پر بات چیت جاری ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ دونوں ممالک ایک ایسے نئے بحری راستے پر غور کر رہے ہیں جو موجودہ الگ الگ نیویگیشن چینلز کے بجائے مشترکہ انتظام کے تحت چلایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس تجویز کا مقصد جہاز رانی کے نظام کو بہتر بنانا اور اہم آبی گزرگاہ میں نقل و حرکت کو زیادہ محفوظ بنانا ہے۔
ترجمان کے مطابق مجوزہ بحری راہداری کی منصوبہ بندی اس انداز میں کی جا رہی ہے کہ ایران اور عمان دونوں کے خودمختار حقوق، سکیورٹی تقاضوں اور بحری مفادات کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس معاملے پر جاری مذاکرات مکمل طور پر دوطرفہ نوعیت کے ہیں اور ان میں کسی تیسرے ملک کی شرکت شامل نہیں۔
دوسری جانب عمانی حکام نے اس حوالے سے ابھی تک کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا، جس کے باعث مذاکرات کی تفصیلات محدود سطح پر ہی سامنے آئی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران اور عمان اس منصوبے پر اتفاقِ رائے تک پہنچ جاتے ہیں تو آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت مزید منظم ہو سکتی ہے، جس سے عالمی سپلائی چین کو استحکام ملنے اور توانائی کی ترسیل میں رکاوٹوں کے امکانات کم ہونے کی توقع ہے۔
اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی توانائی کے نظام میں غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ دنیا کے خام تیل اور مائع قدرتی گیس (LNG) کی ایک بڑی مقدار اسی سمندری گزرگاہ کے ذریعے عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔ اسی وجہ سے اس علاقے میں ہونے والی ہر سفارتی یا انتظامی پیش رفت بین الاقوامی توانائی مارکیٹ، تیل کی قیمتوں اور عالمی تجارت پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتی ہے۔
