ایران سے مذاکرات میں پیش رفت کی امید، جنگ جلد ختم ہونے اور آبنائے ہرمز بحال ہونے کا امکان، ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے جاری کشیدگی کے حوالے سے امید ظاہر کی ہے کہ موجودہ تنازع زیادہ عرصہ برقرار نہیں رہے گا اور سفارتی کوششوں کے نتیجے میں حالات میں بہتری آ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھتے رہے تو نہ صرف جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار ہوگی بلکہ آبنائے ہرمز بھی دوبارہ مکمل طور پر بین الاقوامی بحری آمدورفت کے لیے کھل سکتی ہے، جس سے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل معمول پر آنے میں مدد ملے گی۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے بتایا کہ مختلف سفارتی ذرائع اور رابطوں کے ذریعے ایران کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ مذاکرات کی تمام تفصیلات عوامی سطح پر شیئر نہیں کی جا سکتیں، تاہم انہیں یقین ہے کہ موجودہ کشیدگی کو مستقل تنازع میں تبدیل ہونے سے روکا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق حالات اس سمت میں بڑھ رہے ہیں جہاں سفارت کاری کو عسکری تصادم پر ترجیح دی جا سکتی ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ان کے اندازے کے مطابق ایران طویل مدت تک موجودہ جنگی صورتحال برقرار رکھنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلسل دباؤ، معاشی مشکلات اور خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال تمام فریقوں کو کسی نہ کسی مرحلے پر مذاکرات کی میز پر واپس آنے پر مجبور کر سکتی ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ اگر کشیدگی میں کمی آتی ہے تو آبنائے ہرمز میں جہاز رانی بھی معمول کے مطابق بحال ہو جائے گی۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی منڈیوں تک خام تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار منتقل کی جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ نہ صرف خلیجی ممالک بلکہ یورپ، ایشیا اور دیگر خطوں کی توانائی کی ضروریات کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ اسی وجہ سے اس آبی گزرگاہ کی صورتحال پر عالمی مالیاتی منڈیوں اور توانائی کے شعبے کی مسلسل نظر رہتی ہے۔
امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر جاری ایک علیحدہ بیان میں وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ قومی سلامتی اور دفاعی معاملات میں ان کی حکمت عملی سے مطمئن ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق امریکی ادارے خطے کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور تمام فیصلے قومی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جا رہے ہیں۔
ایران کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے امریکی پالیسی کا دفاع بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن کا مقصد خطے میں کشیدگی بڑھانا نہیں بلکہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔ ان کے مطابق حالیہ امریکی اقدامات کے نتیجے میں ایران کی بعض صلاحیتیں متاثر ہوئی ہیں، جبکہ امریکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر خطے میں امن برقرار رکھنے کی جدوجہد کر رہا ہے۔
دوسری جانب ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت سے متعلق رابطے جاری ہیں۔ مختلف بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق دونوں ممالک ایسے انتظامی طریقہ کار پر غور کر رہے ہیں جس کے ذریعے بحری تجارت کو محفوظ رکھا جا سکے اور خطے میں تجارتی سرگرمیوں کے تسلسل کو یقینی بنایا جا سکے۔ ان مذاکرات کا بنیادی مقصد بحری راستوں میں رکاوٹوں کو کم کرنا اور تجارتی جہازوں کے لیے محفوظ ماحول فراہم کرنا بتایا جا رہا ہے۔
ایرانی حکام متعدد مواقع پر واضح کر چکے ہیں کہ امریکہ کے ساتھ کسی جامع سیاسی یا جنگ بندی مذاکرات کا باضابطہ عمل اس وقت جاری نہیں ہے۔ تہران کا مؤقف ہے کہ عمان کے ساتھ ہونے والی گفتگو صرف بحری نقل و حمل، جہاز رانی کے انتظام اور آبنائے ہرمز سے متعلق عملی معاملات تک محدود ہے، جبکہ وسیع تر سیاسی تنازع کے حل کے لیے کوئی براہ راست مذاکرات نہیں ہو رہے۔
عالمی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں سفارتی کوششیں کامیاب رہتی ہیں تو اس کے مثبت اثرات صرف ایران اور امریکہ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کی معیشت پر بھی مرتب ہوں گے۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز میں مکمل بحالی سے خام تیل کی سپلائی زیادہ مستحکم ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں عالمی توانائی کی منڈی میں غیر یقینی صورتحال کم ہونے کا امکان ہے۔
اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم ہونے سے عالمی منڈیوں میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو سکتا ہے، جبکہ تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ کے خدشات بھی کم ہو سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں کے آپریشنز، انشورنس اخراجات اور تجارتی سپلائی چین پر بھی مثبت اثرات مرتب ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔
سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں امریکہ، ایران، عمان اور دیگر علاقائی ممالک کے درمیان ہونے والے رابطے اس بحران کے مستقبل کا تعین کریں گے۔ اگر مذاکرات میں عملی پیش رفت ہوتی ہے تو خطے میں کشیدگی کم ہونے، بحری تجارت کی مکمل بحالی اور عالمی توانائی کی ترسیل میں استحکام پیدا ہونے کے امکانات مزید مضبوط ہو سکتے ہیں۔
