غزہ / بیروت: غزہ میں ممکنہ جنگ بندی اور امن کوششوں سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کے باوجود اسرائیلی فوج کی فضائی کارروائیاں بدستور جاری ہیں۔ تازہ حملوں میں بچوں سمیت کم از کم 18 فلسطینی جان کی بازی ہار گئے، جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے غزہ سٹی، خان یونس، دیر البلح اور جبالیہ سمیت مختلف علاقوں میں رہائشی مقامات کو نشانہ بنایا۔ حملوں کے نتیجے میں کئی عمارتیں تباہ یا جزوی طور پر منہدم ہو گئیں، جس سے شہری آبادی کو شدید نقصان پہنچا۔

اطلاعات کے مطابق بمباری کے دوران بعض طبی مراکز اور ادویات ذخیرہ کرنے والی تنصیبات بھی متاثر ہوئیں، جس کے باعث پہلے ہی محدود وسائل پر چلنے والے صحت کے نظام کو مزید دباؤ کا سامنا ہے۔ امدادی سرگرمیوں میں بھی مشکلات بڑھنے کی اطلاعات ہیں۔

فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند روز کے دوران ہونے والے حملوں میں جاں بحق افراد کی تعداد بڑھ کر 28 ہو چکی ہے، جن میں خواتین اور کم عمر بچے بھی شامل ہیں۔ ملبے تلے دبے افراد کی تلاش اور زخمیوں کو نکالنے کا عمل مختلف علاقوں میں جاری ہے۔

دوسری جانب جنوبی لبنان میں بھی کشیدگی برقرار ہے۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیلی کارروائیوں کے دوران کم از کم پانچ لبنانی فوجی زخمی ہوئے، جنہیں فوری طور پر قریبی طبی مراکز منتقل کیا گیا جہاں ان کا علاج جاری ہے۔

غزہ کی وزارتِ صحت نے طبی اداروں اور صحت کی سہولتوں کو نقصان پہنچنے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ کے دوران اسپتالوں اور طبی عملے کو تحفظ فراہم کرنا بین الاقوامی انسانی قوانین کا بنیادی تقاضا ہے۔ وزارت نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ شہری آبادی اور طبی تنصیبات کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب واشنگٹن کی جانب سے غزہ میں امن عمل میں پیش رفت کی بات کی جا رہی ہے، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس مسلسل فوجی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی انسانی مشکلات کی عکاسی کر رہے ہیں۔

علاقائی امور پر نظر رکھنے والے مبصرین کے مطابق غزہ اور جنوبی لبنان میں جاری کشیدگی نہ صرف جنگ بندی کی کوششوں کو متاثر کر سکتی ہے بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام کے خدشات کو بھی مزید بڑھا سکتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *