افغانستان میں معاشی بحران گہرا، انسانی اسمگلنگ اور استحصال کے خطرات میں تشویشناک اضافہ
افغانستان میں جاری معاشی اور انسانی بحران نے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ سے وابستہ اداروں نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں انسانی اسمگلنگ، جبری مشقت، استحصالی سرگرمیوں اور دیگر جرائم کے خطرات پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکے ہیں، جبکہ معاشی بدحالی نے لاکھوں افغان شہریوں کو شدید غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم (UNODC) اور بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرت (IOM) کے مطابق افغانستان میں روزگار کے محدود مواقع، معاشی زوال، مہاجرین کی بڑے پیمانے پر واپسی اور خواتین پر عائد پابندیوں نے کمزور طبقات کو جرائم پیشہ عناصر کے لیے آسان ہدف بنا دیا ہے۔
بین الاقوامی اداروں کی جانب سے جاری جائزہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ واپس آنے والے افغان مہاجرین میں صرف 11 فیصد افراد باقاعدہ روزگار رکھتے ہیں، جبکہ 56 فیصد خاندان اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے بھی قاصر ہیں۔ اس معاشی دباؤ کے باعث متعدد افراد قرض، جبری مشقت، جبری شادیوں اور دیگر استحصالی حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق جرائم پیشہ نیٹ ورکس معاشی مشکلات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے شہریوں کو جعلی ملازمتوں، دھوکے پر مبنی بھرتیوں اور آن لائن فراڈ جیسے غیر قانونی نیٹ ورکس میں دھکیل رہے ہیں۔ بعض متاثرین کو مختلف ممالک میں استحصالی کاموں کے لیے بھی منتقل کیے جانے کے خدشات ظاہر کیے گئے ہیں۔
آئی او ایم کی ڈائریکٹر جنرل ایمی پوپ کا کہنا ہے کہ ایشیا کے مختلف حصوں میں سرگرم جرائم پیشہ گروہ سوشل میڈیا اور جعلی ملازمتوں کے اشتہارات کے ذریعے لوگوں کو اپنے جال میں پھنسا رہے ہیں، جہاں انہیں جسمانی، ذہنی اور معاشی استحصال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
افغانستان میں یو این او ڈی سی کے نمائندے پولک اوکسری نے زور دیا کہ انسانی اسمگلنگ کی روک تھام، متاثرین کی بروقت شناخت اور مؤثر قانونی کارروائی کے لیے فوری اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں تاکہ کمزور طبقات کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔
دوسری جانب آئی او ایم کی چیف آف مشن می ہیونگ پارک کے مطابق بڑی تعداد میں افغان مہاجرین کی واپسی نے مقامی وسائل پر اضافی دباؤ ڈال دیا ہے۔ روزگار، رہائش اور بنیادی سہولیات کی قلت کے باعث بہت سے افراد غیر قانونی ذرائع اختیار کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں، جس سے انسانی اسمگلنگ کے خطرات مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق افغانستان کو درپیش معاشی مشکلات، محدود معاشی سرگرمیوں، عالمی تنہائی اور کمزور ادارہ جاتی ڈھانچے نے انسانی بحران کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جس کے اثرات نہ صرف افغان عوام بلکہ پورے خطے کی سلامتی اور استحکام پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں
