تحریراخترصدیقی۔۔۔۔
پاکستانی معاشرے میں قانون اور انتظامی رویوں کا المیہ یہ رہا ہے کہ محض ایک ایف آئی آر کا درج ہونا انسان کی پوری زندگی اور مستقبل پر داغ لگا دیتا تھا۔ مقدمے سے عدالت عالیہ یا سیشن کورٹ سے باعزت بریت کے بعد بھی پولیس اور دیگر سرکاری شعبے امیدواروں کو پس منظر کی تفتیش کے نام پر نااہل قرار دے کر ان کے آئینی و انسانی حقوق پر ڈاکہ ڈالتے تھے۔ تاہم، وفاقی آئینی عدالت نے اس دیرینہ زیادتی اور انتظامی بدنیتی پر کاری ضرب لگاتے ہوئے ایک ایسا تاریخی فیصلہ دیا ہے جو مستقبل میں ہزاروں بے گناہ نوجوانوں کے لیے امید کی کرن ثابت ہوگا۔
چیف جسٹس امین الدین خان کے تحریری فیصلے میں یہ واضح اور جاندار اصول طے کر دیا گیا ہے کہ محض ایف آئی آر کا اندراج خود بخود سرکاری ملازمت سے نااہلی کا سبب نہیں بن سکتا۔ عدالتی بریت کو مکمل تسلیم کیا جائے گا اور کسی بھی امیدوار کی اہلیت کا معروضی جائزہ قیاس آرائی کے بجائے مستند اور قابلِ تصدیق شواہد پر مبنی ہوگا۔ عدالت نے واضح کیا کہ اسلامی احکام (سورۃ الحجرات، سورۃ النساء، اور سورۃ المائدہ) کے عین مطابق کوئی بھی منفی اقدام صرف تصدیق شدہ حقائق پر ہونا چاہیے، محض شک و شبہے کی بنیاد پر نہیں۔
اس فیصلے کا مرکزی نقطہ ڈرائیور کانسٹیبل کی بھرتی میں میرٹ پر دوسری پوزیشن حاصل کرنے والے عبداللطیف کا کیس تھا۔ جسے 2018 میں مقدمے سے بریت اور پولیس کی جانب سے کلین کریکٹر سرٹیفکیٹ ملنے کے باوجود محکمے نے نااہل قرار دے دیا تھا۔ ہائیکورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے آئینی عدالت نے یہ حکم دیا کہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 4 اور 25 کے تحت ہر شہری کو مساوی حقوق حاصل ہیں، اور کسی امیدوار کو سنوا ئی کا موقع دیے بغیر یا معقول وجہ کے بغیر بھرتی کے عمل سے خارج کرنا قانونی بدنیتی ہے۔
یہ فیصلہ محض ایک فرد کی بحالی کی کہانی نہیں، بلکہ سرکاری اداروں کے اختیارات کے ناجائز استعمال پر ایک سخت عدالتی انضباط بھی ہے۔ عدالت نے 30 دنوں کے اندر درخواست گزار کی تعیناتی کا حکم دے کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ عدالتی بریت کے بعد پرانے مقدمات کو دائمی نااہلی کا ذریعہ بنانا آئین اور انصاف دونوں کی نفی ہے۔ امید ہے کہ یہ 6 اہم اصول ملک میں میرٹ، انصاف اور بنیادی انسانی حقوق کی بالادستی کا نیا باب روشن کریں گے
