امریکہ میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے اس اہم موڑ پر، دنیا بھر کی نظریں اس بات پر لگی ہوئی ہیں کہ امریکی سیاست کس سمت میں جا رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں سامنے آنے والے بیانات اور سیاسی حکمت عملیوں نے ایک بار پھر اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ امریکہ کے اندرونی سیاسی اور جمہوری نظام پر کتنا بڑا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ بالخصوص موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تازہ ترین اعلانات نے جمہوری اقدار اور اداروں کی خودمختاری پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔
ٹرمپ کا یہ کھلم کھلا اور صریح اعلان کہ اگر مخالف جماعت ڈیموکریٹس نے کانگریس اور سینٹ میں اکثریت حاصل کر کے ان کی مرضی یا ایجنڈے کے خلاف کوئی قانون سازی کرنے کی کوشش کی، تو وہ اپنے صدارتی اختیارات یعنی ‘ویٹو کا مسلسل اور بے دریغ استعمال کریں گے، دراصل جمہوری نظام کو مفلوج کرنے کی ایک کھلی دھمکی ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ وہ حزبِ اختلاف کی طرف سے پیش کیے جانے والے تمام بلوں کو ڈسٹ بن کی نذر کر دیں گے اور کسی بھی قیمت پر ان کے ایجنڈے کو نافذ نہیں ہونے دیں گے، ایک منتخب صدر کے شایانِ شان نہیں بلکہ ایک مطلق العنان حکمران کے سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔
جمہوریت کی بنیادی روح اس بات میں مضمر ہوتی ہے کہ عوام کے دیے گئے مینڈیٹ کا احترام کیا جائے، اپوزیشن کی آواز کو سنا جائے اور مختلف سیاسی آراء کے درمیان توازن قائم کر کے قانون سازی کی جائے۔ لیکن جب ملک کا سب سے بڑا منصب دار یہ سوچ اپنا لے کہ اس کے سیاسی عزائم اور ذاتی ترجیحات کے سامنے عوامی نمائندوں کی کوئی وقعت نہیں، تو وہاں سے جمہوریت کے زوال کا آغاز ہوتا ہے۔
امریکی آئین نے اگر صدارتی ویٹو کا حق دیا ہے، تو اس کا مقصد نظام میں ایک توازن پیدا کرنا تھا، نہ کہ اسے سیاسی انتقام اور ایوان کی قانون سازی کو بلاک کرنے کے لیے بطور ہتھیار استعمال کرنا۔ ٹرمپ کی اس طرزِ فکر سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ نہ تو اپوزیشن کے وجود کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہیں اور نہ ہی آئینی راستے سے بننے والے قوانین کا احترام کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ماضی میں بھی مختلف جماعتوں کے درمیان قانون سازی اور پالیسیوں پر اختلاف ہوتا رہا ہے، مگر بات چیت، سمجھوتے اور مذاکرات کے ذریعے راستے نکالے جاتے تھے۔ تاہم، ٹرمپ کی جانب سے بات چیت اور سمجھوتے کا دروازہ بند کر کے صرف دھمکیوں کی زبان بولنا امریکی جمہوری تاریخ کا ایک انتہائی سیاہ باب ہے۔
ٹرمپ کے یہ عزائم اور رویے خود امریکہ کے اندرونی سیاسی استحکام کے لیے ایک دیمک کی طرح ثابت ہو رہے ہیں۔ جب ملک کا صدر ہی آئینی اداروں، انتخابات اور قانون ساز ایوانوں کی تحقیر کرنے لگے، تو عام شہریوں کا اپنے ہی نظام پر سے اعتماد اٹھنے لگتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ پورا معاشرہ شدید سیاسی اور نظریاتی تقسیمکا شکار ہو جاتا ہے۔
اس ہنگامہ خیز ماحول نے امریکہ کی سیاسی جماعتوں کو بھی اندرونی بحران میں مبتلا کر دیا ہے۔ انتخابات کے دوران دیکھا گیا کہ ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر بھی شدید اختلافات، وفاداریوں کی تبدیلی اور دیگر سیاسی توڑ پھوڑ کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ جب ملک کی مرکزی سیاست کا محور تعمیری کاموں اور عوام کی فلاح و بہبود کے بجائے صرف ایک دوسرے کو نیچا دکھانا اور ایوانوں میں بند گلی پیدا کرنا بن جائے، تو اس سے بالآخر ریاست کی بنیادیں ہی کھوکھلی ہوتی ہیں۔ امریکہ کا موجودہ سیاسی بحران دو جماعتوں کی جنگ نہیں رہا، بلکہ یہ اس جمہوری نظام کی تباہی کا پیش خیمہ بن رہا ہے جس کی بنیاد پر امریکہ کھڑا تھا۔
یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ امریکہ کی داخلی سیاست کا گہرا اثر پوری دنیا پر پڑتا ہے۔ امریکہ طویل عرصے سے دنیا بھر میں جمہوریت، آزادانہ حقوق اور آئین کی حکمرانی کا علمبردار بننے کا دعویٰ کرتا رہا ہے۔ لیکن جب خود امریکہ کے اندر کا صدر آئینی اداروں کو مفلوج کرنے اور عوامی مینڈیٹ کو کچلنے کا اعلان کرے، تو دنیا بھر کے دیگر آمریت پسند حکمرانوں کو بھی ایک غلط جواز مل جاتا ہے۔
دنیا کے مختلف ممالک جہاں پہلے ہی جمہوریت نوزائیدہ یا کمزور ہے، وہاں کے سویلین اور غیر جمہوری عناصر ٹرمپ کے اس رویے کو بطور مثال استعمال کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، جب امریکی صدر ملک کے اندرونی آئین اور پارلیمنٹ کی نفی کرے گا، تو وہ بین الاقوامی معاہدوں، عالمی امن کی کوششوں اور باہمی تعاون کی دستاویزات کی کتنی پاسداری کرے گااس طرزِ عمل سے عالمی سطح پر عدم استحکام پیدا ہو گا، بین الاقوامی تعلقات میں لچک ختم ہو جائے گی اور دنیا ایک ایسے انارکی کے دور میں داخل ہو سکتی ہے جہاں طاقت ہی سب سے بڑا قانون بن جاتی ہے۔
ٹرمپ کی یہ جمہوریت دشمن سوچ اور صدارتی اختیار کا بے جا استعمال ایک عارضی سیاسی چال نہیں ہے، بلکہ یہ امریکہ اور پوری دنیا کے جمہوری مستقبل کے لیے ایک زہرِ قاتل اور ناسور بن چکا ہے۔ اگر امریکی عوام، عدلیہ، میڈیا اور سیاسی اداروں نے اس خطرناک رجحان کو روکنے کے لیے بروقت اور مضبوط قدم نہ اٹھایا، تو آنے والے وقت میں امریکی جمہوریت صرف کتابوں تک محدود ہو کر رہ جائے گی، اور اس کا خمیازہ نہ صرف امریکہ کو بلکہ پوری عالمی برادری کو بھگتنا پڑے گا۔
