تحریر محمد عمیر
پاکستان کی صحافتی تاریخ میں 3 نومبر 2007ء ایک ایسا دن ہے جسے یومِ سیاہ کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ اس روز ملک میں ایمرجنسی نافذ کی گئی، آئین کو معطل کیا گیا اور نجی ٹی وی چینلز کی نشریات بند کرنے سمیت میڈیا پر مختلف پابندیاں عائد کی گئیں۔ یہ وہ وقت تھا جب صحافیوں، میڈیا ورکرز اور صحافتی تنظیموں کو آزادیٔ صحافت کے تحفظ کے لیے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔3 نومبر 2007ء کا واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ صحافت کسی بھی معاشرے میں عوام تک درست معلومات پہنچانے، عوامی مسائل اجاگر کرنے اور قومی معاملات پر مثبت مکالمے کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اسی لیے آزادیٔ صحافت کا تحفظ صرف صحافیوں کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا مشترکہ مفاد ہے۔پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 19 شہریوں کو آزادیٔ اظہار اور پریس کی آزادی کا حق دیتا ہے، جبکہ آرٹیکل 19-A معلومات تک رسائی کے حق کو تسلیم کرتا ہے۔ ان آئینی حقوق کے ساتھ قانون کے تحت مناسب حدود اور ذمہ داریاں بھی وابستہ ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ صحافت آزادی کے ساتھ ساتھ تحقیق، سچائی، غیر جانب داری اور پیشہ ورانہ اخلاقیات کو بھی اپنا بنیادی اصول بنائے۔آج اس تاریخی دن کی مناسبت سے صحافتی برادری اس عزم کی تجدید کرتی ہے کہ صحافیوں کے تحفظ، ان کے پیشہ ورانہ حقوق، معاشی استحکام اور آزادانہ صحافتی ماحول کے لیے مثبت کوششیں جاری رہنی چاہئیں۔ صحافیوں کو چاہیے کہ وہ قومی مفاد، ملکی سلامتی اور عوامی ذمہ داریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے حقائق پر مبنی رپورٹنگ کریں۔آزادیٔ صحافت کا مطلب کسی ادارے کے خلاف محاذ آرائی نہیں بلکہ ایک ایسا متوازن اور ذمہ دارانہ ماحول ہے جہاں صحافت اور ریاستی ادارے باہمی احترام کے ساتھ اپنے اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے قومی ترقی اور عوامی فلاح کے لیے کردار ادا کریں۔3 نومبر کا یومِ سیاہ ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ اختلافِ رائے جمہوری معاشرے کا حصہ ہے، سوال اٹھانا صحافت کی ذمہ داری ہے اور حقائق کی بنیاد پر عوام کو آگاہ کرنا صحافی کا پیشہ ورانہ فریضہ ہے۔آئیے، اس دن ہم عہد کریں کہ آزادیٔ صحافت کے ساتھ ذمہ دار صحافت، صحافیوں کے تحفظ، آئینی بالادستی اور قومی یکجہتی کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔
آزادیٔ صحافت، ذمہ دار صحافت اور مضبوط پاکستان!
