پاکستان میں توانائی کا بحران کوئی نئی بات نہیں، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی نوعیت اور شدت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ بجلی، پٹرول، ڈیزل اور قدرتی گیس کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے پہلے ہی عوام کی زندگی اجیرن بنا رکھی ہے، اب ایل پی جی کی فراہمی، درآمد اور قیمتوں کا معاملہ بھی ایک اہم قومی مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ خصوصاً موسم سرما کی آمد کے ساتھ ملک کے بیشتر علاقوں میں ایل پی جی کی ضرورت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ ایسے میں حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ بروقت اور مؤثر اقدامات کے ذریعے عوام کو اس بنیادی ضرورت کی مناسب قیمت پر فراہمی یقینی بنائے۔اس وقت سرکاری قیمت سےسوروپےزائدفی کلوگیس عوام سے وصول کئےجارہےہیں اورکوئی اس کاپرسان حال نہیں ہےجس کا خمیازہ بے بس عوام بھگت رہےہیں
پاکستان میں ایل پی جی ایک متبادل ایندھن نہیں بلکہ لاکھوں گھرانوں کی بنیادی ضرورت بن چکی ہے۔ بالخصوص خیبرپختونخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور ملک کے شمالی و پہاڑی علاقوں میں قدرتی گیس کی عدم دستیابی یا محدود فراہمی کے باعث عوام کا انحصار ایل پی جی پر ہے۔ سردیوں میں جب درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے چلا جاتا ہے تو گھروں کو گرم رکھنے، کھانا پکانے اور روزمرہ ضروریات پوری کرنے کے لیے اس کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ ایسے حالات میں ایل پی جی کی قیمتوں میں معمولی اضافہ بھی غریب اور متوسط طبقے کے لیے ایک بڑا معاشی بوجھ بن جاتا ہے۔
حکومت کی جانب سے ایل پی جی کی درآمد کے لیے مسابقتی بنیادوں پر اقدامات اور نجی کمپنیوں کو مواقع فراہم کرنے کا مقصد اگر واقعی مارکیٹ میں مقابلے کی فضا قائم کرنا ہے تو اس پالیسی کے مثبت نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ تاہم صرف درآمدی اجازت نامے جاری کرنا یا مختلف کمپنیوں کو کاروبار کے مواقع فراہم کرنا کافی نہیں ہوگا۔ اصل ضرورت اس امر کی ہے کہ درآمد سے لے کر ذخیرہ کرنے، ترسیل، تقسیم اور صارفین تک فروخت کے تمام مراحل کو شفاف اور مؤثر نگرانی کے تابع بنایا جائے۔
ہمارے ہاں توانائی سمیت متعدد شعبوں کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ پالیسی تو مرتب کر لی جاتی ہے، لیکن اس پر عمل درآمد کے وقت مفاد پرست عناصر راستے میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ ایل پی جی کے شعبے میں بھی اگر ذخیرہ اندوزی، ناجائز منافع خوری اور مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کے خلاف مؤثر کارروائی نہ ہوئی تو درآمد میں اضافے کے باوجود عوام کو حقیقی ریلیف نہیں مل سکے گا۔ حکومت کو چاہیے کہ متعلقہ اداروں کے ذریعے مارکیٹ کی مسلسل نگرانی کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ درآمدی لاگت میں کمی کا فائدہ براہ راست صارفین تک پہنچے۔
اس سلسلے میں آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کا کردار انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ اوگرا کو چاہیے کہ ایل پی جی کی قیمتوں کے تعین میں شفافیت برقرار رکھے، درآمدی لاگت، ٹیکسوں، ٹرانسپورٹیشن اور دیگر اخراجات کا باقاعدہ جائزہ لے اور مقررہ قیمت سے زائد وصولی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرے۔ صرف نرخوں کا نوٹیفکیشن جاری کرنا کافی نہیں، بلکہ اس پر ملک بھر میں عمل درآمد بھی ضروری ہے۔ اگر ایک طرف سرکاری نرخ مقرر ہوں اور دوسری جانب صارفین کو دکانداروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے تو ریگولیٹری نظام کی افادیت پر سوالات اٹھنا فطری ہیں۔
یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ پاکستان میں توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے درآمدات پر انحصار بڑھتا جا رہا ہے۔ اس سے ملکی زرمبادلہ پر دباؤ پڑتا ہے اور عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے اثرات براہ راست پاکستانی معیشت پر مرتب ہوتے ہیں۔ لہٰذا حکومت کو صرف درآمدی پالیسی تک محدود رہنے کے بجائے مقامی وسائل سے ایل پی جی کی پیداوار بڑھانے، ذخیرہ کرنے کی جدید سہولیات قائم کرنے اور توانائی کے متبادل ذرائع کو فروغ دینے پر بھی توجہ دینی چاہیے۔
ملک میں ایل پی جی کے ذخائر اور درآمدی سہولیات میں اضافے کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے سرکاری اور نجی شعبے کے درمیان مؤثر اشتراک پیدا کیا جا سکتا ہے۔ سرمایہ کاروں کو واضح پالیسی، قانونی تحفظ اور کاروبار کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا جائے، جبکہ عوامی مفادات کے تحفظ کو ہر حال میں مقدم رکھا جائے۔ مسابقتی نظام اسی وقت کامیاب ہو سکتا ہے جب اس کے ثمرات چند کمپنیوں یا سرمایہ کاروں تک محدود رہنے کے بجائے عام صارف تک پہنچیں۔
حکومت کو بالخصوص سردیوں سے قبل ایل پی جی کی مناسب مقدار میں دستیابی یقینی بنانی ہوگی۔ پہاڑی علاقوں میں برف باری اور شدید سردی کے دوران سڑکوں کی بندش، ٹرانسپورٹ کے مسائل اور رسد میں رکاوٹ کے باعث گیس کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔ اس صورت حال سے بچنے کے لیے ان علاقوں میں پیشگی ذخیرہ کرنے کے مراکز قائم کیے جائیں اور مقامی انتظامیہ کو قیمتوں اور فراہمی کی نگرانی کی ذمہ داری دی جائے۔ عوام کو ہر سال موسم سرما میں پیدا ہونے والی قلت اور مہنگائی سے بچانا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
وزیراعظم اور متعلقہ وفاقی وزارتوں کو اس معاملے کو ایک تجارتی سرگرمی سمجھنے کے بجائے عوامی فلاح کے تناظر میں دیکھنا ہوگا۔ توانائی کی قیمتوں میں استحکام صنعتی ترقی، کاروباری سرگرمیوں اور گھریلو معیشت کے لیے ناگزیر ہے۔ اگر ایل پی جی کی درآمد اور تقسیم کا نظام بہتر بنایا جاتا ہے تو اس سے نہ صرف گھریلو صارفین کو فائدہ پہنچے گا بلکہ ہوٹلوں، چھوٹی صنعتوں، تجارتی مراکز اور دیگر کاروباری شعبوں کو بھی ریلیف مل سکتا ہے۔
بلاشبہ حکومت کی جانب سے ایل پی جی کے شعبے میں مسابقت، درآمدات میں بہتری اور فراہمی کے نظام کو مؤثر بنانے کی کوششیں قابل توجہ ہیں، لیکن ان اقدامات کی کامیابی کا اصل پیمانہ حکومتی اعلانات نہیں بلکہ عوام کو ملنے والا ریلیف ہوگا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایل پی جی کی درآمد سے لے کر آخری صارف تک اس کی قیمت، معیار اور دستیابی کے معاملات میں شفافیت قائم کی جائے۔ ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کا خاتمہ کیا جائے اور متعلقہ اداروں کو سیاسی یا کاروباری دباؤ سے آزاد ہو کر کام کرنے کا موقع دیا جائے۔
حکومت کو یاد رکھنا چاہیے کہ توانائی صرف کاروبار نہیں بلکہ عوام کی بنیادی ضرورت ہے۔ ایک ایسا ملک جہاں پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی مشکلات نے عام آدمی کی کمر توڑ رکھی ہو، وہاں ایندھن کی قیمتوں میں غیر ضروری اضافہ کسی بڑے معاشی بحران سے کم نہیں۔ لہٰذا ایل پی جی کے شعبے میں اصلاحات کا مقصد صرف درآمدی نظام کو بہتر بنانا نہیں بلکہ عام شہری کو سستی، معیاری اور بلا تعطل گیس فراہم کرنا ہونا چاہیے۔ یہی وہ پالیسی ہوگی جو حکومتی اقدامات کو حقیقی معنوں میں کامیاب اور عوام کے لیے قابلِ قبول بنا سکتی ہے۔
