​شہرِ قائد میں اکتوبر کا مہینہ بھی اب گرمی کے شدت بھرے تیور لیے ہوئے ہے، جہاں پارہ چالیس سے اوپر محسوس ہوتا ہے اور یہ اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی۔ سال بھر میں یہ دوسرا موقع ہوتا ہے جب کراچی والے سورج کی تپش سے براہِ راست نبردآزما ہوتے ہیں۔ اگر اس صورتحال کا بنظرِ غائر جائزہ لیا جائے، تو شہر میں بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی اور شجرکاری کا فقدان اس بنیادی مسئلے کی جڑ نظر آتا ہے، جس کا ادراک شاید عام شہریوں کو مکمل طور پر نہیں ہے، لیکن اس کی تپش پورے شہر کی فضا میں محسوس کی جا سکتی ہے۔
​سردیوں کے ایک دو مہینے چھوڑ دیے جائیں، تو سال کے باقی ایام میں کراچی کا موسم یا تو معتدل رہتا ہے یا پھر سخت گرمی کی لپیٹ میں۔ اس بڑھتی ہوئی گرمائش اور بدلتے ہوئے موسم کی سب سے بڑی وجہ بے دریغ کٹتے ہوئے درخت اور کنکریٹ کے جنگلات ہیں، جن کی وجہ سے آلودگی کا گراف بلند سے بلند تر ہوتا جا رہا ہے۔ مستقبل میں اس تپش اور حبس کی شدت کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنا ہے، تو اب شہرِ قائد میں بڑے پیمانے پر شجرکاری مہم ایک انتہائی ناگزیر ضرورت بن چکی ہے۔​اس مقصد کے حصول کے لیے شہر کے ہر فردخواہ وہ بچہ ہو، جوان، بوڑھا یا عورت کو آگے بڑھنا ہوگا اور اپنے حصے کا ایک پودا لگا کر اسے تناور درخت بنانے کا عزم کرنا ہوگا۔ جب تک شہر کے کونے کونے میں ہریالی اور سرسبزی نظر نہیں آئے گی، تب تک کراچی کی اس تپش اور گرمائش کو کم کرنا ناممکن ہے۔
​خوش آئند بات یہ ہے کہ اس نازک موڑ پر جہاں حکومتی اداروں کو متحرک ہونا چاہیے، وہاں فلاحی تنظیمیں آگے بڑھ کر اپنا قومی فریضہ سر انجام دے رہی ہیں اور حکومت کی بھرپور مدد کر رہی ہیں۔ گزشتہ روز کراچی کے صنعتی حب سائٹ انڈسٹریل ایریا میں ملک کے معروف فلاحی ادارے الخیر ٹرسٹ کے تحت اربن فارسٹ کے حوالے سے ایک پُروقار تقریب منعقد ہوئی،جس میں شرکت کی سعادت نصیب ہوئ تقریب کے مہمان خصوصی میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب تھے جنہوں نے خود پودا لگا کر اس اربن فارسٹ کا باقاعدہ افتتاح کیا۔​اس موقع پر فلاحی ادارے کے چیئرمین طاہر انصاری نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ان کا ادارہ پورے شہر میں “گرین کراچی پروگرام” کے تحت ایک وسیع مہم چلا رہا ہے۔ گزشتہ تین چار سالوں سے مختلف مقامات پر لگائے گئے ہزاروں پودے اب الحمدللہ تناور درختوں کی شکل اختیار کر چکے ہیں، جن کی بدولت مقامی سطح پر موسم کی تبدیلی اور خوشگوار اثرات واضح طور پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ لیاری ایکسپریس وے پر لگائے گئے ہزاروں پودے اس کی روشن مثال ہیں۔ اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے اب سائٹ انڈسٹریل ایریا میں ریلوے پھاٹک کے قریب 25 ہزار پودے لگائے جا رہے ہیں، جبکہ کورنگی انڈسٹریل ایریا میں بھی اس طرح کے کئی اقدامات کیے جا چکے ہیں۔ یہ ادارہ شہر بھر میں جہاں بھی موقع ملتا ہے، اپنے اس فلاحی عزم کو عملی جامہ پہنا رہا ہے۔
​یہ امرِ انتہائی تحسین ہے کہ جو ذمہ داری عموماً سرکاری اداروں کی ہوتی ہے، اسے فلاحی تنظیمیں احسن طریقے سے نبھا رہی ہیں۔ کراچی کے اس گھمبیر موسمی مسئلے پر قابو پانے کے لیے اس طرح کی شجرکاری مہمات وقت کی اہم ترین پکار ہیں۔
​تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے بھی الخیر ٹرسٹ کی خدمات کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ کراچی میں جہاں بھی ضرورت پیش آئے گی، اربن فارسٹ، محکمہ جنگلات اور میونسپل انتظامیہ الخیر ٹرسٹ کے شانہ بشانہ کام کرے گی۔ انہوں نے کراچی کے تمام ڈپٹی کمشنرز کو بھی ہدایت کی کہ وہ اپنے اپنے اضلاع میں مناسب اور خالی سرکاری زمینوں کی نشاندہی کریں تاکہ اس فلاحی ادارے کے ساتھ مل کر شہر کو سرسبز و شاداب بنایا جا سکے۔
​آج کراچی میں شجرکاری کی یہ کاوشیں ایک انتہائی خوش آئند شگون ہیں، جن کی جتنی بھی حوصلہ افزائی کی جائے وہ کم ہے۔ یہ صرف پودے لگانے کی مہم نہیں بلکہ ہماری آنے والی نسلوں کے بقاء اور ایک صحت مند مستقبل کی ضمانت ہے۔ آلودگی کے اس دور میں ہم سب کو مل کر اس نیک کام میں اپنا بھرپور حصہ ڈالنا ہوگا، تاکہ ہمارا شہر ایک بار پھر سے سرسبز، شاداب اور ٹھنڈی چھاؤں والا شہرِ قائد بن سکے پودےلگانےکےساتھ ساتھ اسکی دیکھ بھال اور حفاظت بھی شہریوں کی ذمہ داری بنتی ہے تاکہ وہ حقیقی معنوں میں تناوردرختوں کی شکل اختیارکرکےشہرکوٹھنڈک پہنچائیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *