​قومی اسمبلی کا حالیہ اجلاس ملکی سیاسی تاریخ میں ایک اہم اور دور رس نتائج کا حامل ثابت ہو سکتا ہے، جہاں حکومت اور اپوزیشن دونوں جانب سے نمایاں اور مثبت سرگرمیاں دیکھنے میں آئیں۔ ایک طرف حکومت نے صوبہ خیبر پختونخوا سے چھ ماہ بعد گورنر راج اور ایمرجنسی ختم کرنے کا عندیہ دیا ہے، تو دوسری طرف اپوزیشن کی جانب سے ملک و قوم کی سلامتی اور استحکام کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک پیج پر لانے اور نئے میثاقِ جمہوریت کی پیشکش سامنے آئی ہے۔ اگر ان دونوں پیش رفتوں پر سچے دل اور سنجیدگی سے عمل کر لیا جائے، تو یہ ملکی سیاسی ماحول میں جاری کشمکش اور افراتفری کو ختم کرنے کے لیے ایک انتہائی خوش آئند اور فیصلہ کن موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔
​بدھ کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے جب اس بات کا اعلان کیا کہ چھ ماہ بعد خیبر پختونخوا سے گورنر راج اور ایمرجنسی کا خاتمہ کر دیا جائے گا، تو اسے بلا شبہ “دیر آید درست آید” ہی کہا جائے گا۔ اگرچہ حکومت کو اس حوالے سے پہلے ہی سوچنا چاہیے تھا کہ ایمرجنسی اور گورنر راج جیسے اقدامات مسائل کا حل نہیں ہوتے، بلکہ اس سے بدامنی، بے چینی اور مزید افراتفری پھیلتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود، اگر حکومت اپنے اس اعلان کے مطابق مخلص ہے اور واقعی سیاسی ماحول کو معتدل اور بہتر بنانا چاہتی ہے، تو اسے اپنے وعدے کے مطابق خیبر پختونخوا سے ایمرجنسی کا فوراً اور مکمل خاتمہ کرنا ہوگا۔
​دوسری جانب، اجلاس میں جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا خطاب پارلیمانی کارروائی کا نقطۂ عروج رہا۔ انہوں نے اپنے مخصوص سنجیدہ اور شگفتہ انداز میں جہاں ماحول کو ہلکا پھلکا کیا، وہیں ملکی حالات اور سیاسی نزاکتوں پر انتہائی کاٹ دار تنقید بھی کی۔ وزیر دفاع خواجہ آصف اور وزیر خارجہ کی ایوان میں موجودگی پر ان کا یہ جملہ کہ “ایران میں دفاعی معاہدہ ہو رہا ہے اور ہمارے وزرا یہاں بیٹھے ہیں، کیا یہ کام بھی وزیر داخلہ کا ہے ایوان میں قہقہوں کا باعث بنا اور خود خواجہ آصف بھی مسکرائے بغیر نہ رہ سکے۔
​تاہم، ان کی تقریر کا اصل مغز وہ تلخ حقائق تھے جو انہوں نے ملک و قوم کی بقا کے لیے ایوان کے سامنے رکھے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ “ریاست ماں کی مانند ہوتی ہے جو اپنے بچوں کی پرورش کرتی ہے، انہیں آپس میں لڑاتی نہیں ہے۔ یہ ملک ہم سب کا ہے، صرف جرنیلوں کا نہیں، اور ہم سب برابر کے محبِ وطن ہیں”۔ مولانا نے تمام سیاسی اور قومی قیادت کو دعوت دی کہ آئیں، تمام تر سابقہ غلط اقدامات اور باہمی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر ایک نئے سفر کا آغاز کریں اور ایک نئے “میثاقِ جمہوریت” کے تحت تمام اسٹیک ہولڈرز مل بیٹھ کر ملک و قوم کی سلامتی کے لیے فیصلے کریں۔
​مولانا فضل الرحمان کی اس تقریر پر اپوزیشن کے دیگر رہنماؤں نے جس فوری اور مثبت انداز میں لبیک کہا، وہ بھی ایک امید افزا لائحہ عمل کی نشاندہی کرتا ہے۔ اجلاس کے بعد مولانا کا اپوزیشن لیڈر راجہ ناصر عباس کے چیمبر میں جانا، اور بعد ازاں اسد قیصر اور پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے مولانا کے اس مؤقف کی بھرپور تائید اور آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان، اس بات کا ثبوت ہے کہ اپوزیشن اتحاد اور افہام و تفہیم کے لیے تیار ہے۔
​حکومتی ایوانوں کو اب اس بات کا درک ہونا چاہیے کہ کشمکش اور تصادم کی سیاست کبھی بھی قومی مفاد میں نہیں رہی۔ آج نہیں تو کل، تمام فریقین کو اسی وطن کے سرسبز پرچم تلے ایک ساتھ بیٹھنا ہی پڑے گا۔ مولانا فضل الرحمان کے اس انتباہ کو فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ حالات کو اس نہج پر نہ لے جایا جائے کہ کل کو ہم ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنے کے قابل بھی نہ رہیں۔ لہٰذا، حکومت کو اپنے رویے اور حکمتِ عملی میں سنجیدگی اور متانت لانا ہوگی، اور اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنے کی کھلے دل سے شروعات کرنا ہوگی۔
​پاکستان اس وقت عالمی سطح پر اور بالخصوص امتِ مسلمہ کے اتحاد، دفاع اور سفارتی محاذوں پر ایک جاندار کردار ادا کر رہا ہے۔ لیکن دنیا بھر میں مسلم ممالک کی قیادت اور مؤثر دفاع کا یہ سلسلہ اسی وقت پائیدار رہ سکتا ہے جب ہم داخلی طور پر بھی یکجہتی، امن و امان اور مضبوط معیشت کا مظاہرہ کریں۔ اندرونی افراتفری اور سیاسی عدم استحکام ہمارے خارجی اثر و رسوخ کو کمزور کرتا ہے۔
​وقت کا تقاضا ہے کہ تمام تر باہمی اختلافات کو نمٹانے کے لیے باہمی اتفاق اور سیاسی پختگی کا مظاہرہ کیا جائے۔ اپوزیشن کے اس سنجیدہ مطالبے پر حکومت کو فوری طور پر مثبت ردِعمل دینا چاہیے تاکہ تمام اسٹیک ہولڈرز ایک میز پر بیٹھ کر ازسرِنو ایک نئے سفر کا آغاز کر سکیں اور ملک کو بحرانوں سے نکال کر ترقی، معاشی استحکام اور امن کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *